Main Icon

باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5616

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنَّ لِلْمُؤْمِنِ فِي الْجَنَّةِ لَخَيْمَةً مِنْ لُؤْلُؤَةٍ وَاحِدَةٍ مُجَوَّفَةٍ، عَرْضُهَا -وَفِي رِوَايَةٍ: طُولُهَا- سِتُّونَ مِيلًا، فِي كُلِّ زَاوِيَةٍ مِنْهَا أَهْلٌ مَا يَرَوْنَ الآخَرِينَ، يَطُوفُ عَلَيْهِم الْمُؤْمِنُونَ، وَجَنَّتَانِ مِنْ فِضَّةٍ آنِيَتُهُمَا وَمَا فِيهِمَا، وَجَنَّتَانِ مِنْ ذَهَبٍ آنِيَتُهُمَا وَمَا فِيهِمَا، وَمَا بَيْنَ الْقَوْمِ وَبَيْنَ أَنْ يَنْظُرُوا إِلَى رَبِّهِمْ إِلَّا رِدَاءُ الْكِبْرِيَاءِ عَلَى وَجْهِهِ فِي جنَّةِ عَدْنٍ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أبي موسى قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إن للمؤمن في الجنة لخيمة من لؤلؤة واحدة مجوفة، عرضها -وفي رواية: طولها- ستون ميلا، في كل زاوية منها أهل ما يرون الآخرين، يطوف عليهم المؤمنون، وجنتان من فضة آنيتهما وما فيهما، وجنتان من ذهب آنيتهما وما فيهما، وما بين القوم وبين أن ينظروا إلى ربهم إلا رداء الكبرياء على وجهه في جنة عدن". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ مؤمن کا جنت میں ایک کھکلی موتی کا خیمہ ہوگا جس کی چوڑائی اور ایک روایت میں ہے کہ اس کی لمبائی ساٹھ میل کی ہے ۱∞؎اس کے ہر گوشہ میں اس کے گھر والے ہوں گے کہ دوسروں کو نہ دیکھ سکیں گے۲؎جن پر مؤمن گشت کرے گا۳؎اور اس کے دو باغ ہوں گے جن کے برتن اور سامان چاندی کے ہوں گے۴؎اور دو باغ ہوں گے جن کے برتن اور سامان سونے کے ہوں گے۵؎وہاں کی ہر چیز اور قوم اور رب تعالٰی کو دیکھنے کے درمیان صرف کبریائی کی چادر ہوگی ۶؎رب کی ذات پر جنت عدن میں ۷؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اندازہ لگاؤ کہ اگر وہ موتی دنیا میں آجاوے تو اس کی قیمت کیا ہو،یہاں تو آدھے ماشے کا ایک سچا موتی کئی ہزار روپیہ کا ہوتا ہے،وہاں تو ساٹھ میل چوڑا ساٹھ میل لمبا ایک موتی ہے پھر اس کی صفائی اس کی چمک دمک کیسی ہےوہ خیال میں بھی نہیں آ سکتیان شاءاللهدیکھ کر ہی پتہ چلے گا الله نصیب کرے۔۲؎یعنی اس موتی کے مکان کے چاروں گوشوں میں اس کے مختلف گھر والے آباد ہوں گے کہیں اپنی دنیاوی بیوی بچے، کہیں وہ دنیاوی عورتیں جن کے خاوند کافر مرے اور انکے نکاح میں دی گئیں، کہیں وہ کنواری لڑکیاں جو دنیا میں بغیر شادی فوت ہوئیں،کہیں حوریں خدام ان کے علاوہ انہیں ایک دوسرے کو نہ دیکھنا فاصلہ کی وجہ سے نہ ہوگا کہ جنتی مؤمن کی نگاہ بہت دور سے دیکھے گی بلکہ ان جگہوں میں عمارتیں مختلف ہوں گی،کوٹھیاں بنگلے۔خیال رہے کہ جنت میں پردہ ہوگا،رب فرماتاہے:"حُوۡرٌ مَّقْصُوۡرٰتٌ فِی الْخِیَامِ"اور فرماتاہے:"قٰصِرٰتُ الطَّرْفِپردہ اس لیے نہیں ہوگا کہ وہاں لوگ فاسق و فاجر ہوں گے بلکہ اس لیے کہ شرم و حیاء اچھی چیز ہے، بے پردگی میں بے شرمی ہے ہاں دوزخ میں پردہ نہیں ہوگا،وہاں ننگے مردوعورت ایک ہی تنور میں جلیں گے۔۳؎کہ مؤمن کبھی اپنے اس گھر میں جاوے گا کبھی اس گھر میں اس جانے میں نہ اسے سواری کی ضرورت پڑی گی نہ دیر لگے گی،آن کی آن میں ہر جگہ پہنچ جاوے گا ہر گھر میں گشت لگائے گا۔۴؎خیال رہے کہ جنت پوری جنت کو بھی کہتے ہیں اور وہاں کے ہر باغ کو بھی دوسرے معنی سے یہ تثنیہ بھی ہوتی ہے جمع بھی مگر پہلے معنی سے ہمیشہ واحد ہی آتی ہے جیسے زمین پورے روئے زمین کو بھی کہتے ہیں اور زمین کے حصوں کو بھی یعنی جنتی کو چار باغ ملیں گے، دو باغ وہ جن کے درودیوار برتن سامان درخت وغیرہ سب چاندی کے ہوں گے اور دو وہ جن کی ہر چیز سونے کی ہوگی۔۵؎خیال رہے کہ جیسے دنیا کے پھلوں کو جنت کے پھلوں سے کوئی نسبت ہی نہیں صرف نام یکساں ہیں یوں ہی دنیا کے سونے چاندی کو وہاں کے سونے چاندی سے کوئی نسبت نہیں وہاں کا ایک ماشہ سونا دنیا کے منوں سونے سے زیادہ قیمتی ہوگا،یہ ہی حال وہاں کے موتیوں وغیرہ تمام چیزوں کا ہے۔چنانچہ وہاں کا سونا چاندی شیشے کی طرح شفاف ہوگا،یہاں یہ بات کہاں۔۶؎اس کی بحثان شاءاللهدیدار الٰہی کی تحقیق میں آوے گی۔یہاں اتنا سمجھ لو کہ کبریائی کی چادر دیدار کرانے کے لیے ہوگی نہ کہ آڑ کے لیے جیسے سورج پر بخارات کی چادر ہو تو بخوبی دیکھ لیا جاتا ہے اگر یہ چادر نہ ہو تو کوئی اسے نہیں دیکھ سکتا۔۷؎ظاہر یہ ہے کہ یہاں جنت عدن لغوی معنی میں ہے یعنی پوری جنت کیونکہ ساری جنت دائمی قیام کی جگہ ہے یعنی دیدار الٰہی جنت ہی میں نصیب ہوگا،قیامت میں یہ دیدار نہ ہوگا وہاں دیدار کی دوسری نوعیت ہوگی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5616