- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 7
- فتنوں کا بیان
- حدیث نمبر 5616
باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5616
فتنوں کا بیان - جلد 7
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنَّ لِلْمُؤْمِنِ فِي الْجَنَّةِ لَخَيْمَةً مِنْ لُؤْلُؤَةٍ وَاحِدَةٍ مُجَوَّفَةٍ، عَرْضُهَا -وَفِي رِوَايَةٍ: طُولُهَا- سِتُّونَ مِيلًا، فِي كُلِّ زَاوِيَةٍ مِنْهَا أَهْلٌ مَا يَرَوْنَ الآخَرِينَ، يَطُوفُ عَلَيْهِم الْمُؤْمِنُونَ، وَجَنَّتَانِ مِنْ فِضَّةٍ آنِيَتُهُمَا وَمَا فِيهِمَا، وَجَنَّتَانِ مِنْ ذَهَبٍ آنِيَتُهُمَا وَمَا فِيهِمَا، وَمَا بَيْنَ الْقَوْمِ وَبَيْنَ أَنْ يَنْظُرُوا إِلَى رَبِّهِمْ إِلَّا رِدَاءُ الْكِبْرِيَاءِ عَلَى وَجْهِهِ فِي جنَّةِ عَدْنٍ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
وعن أبي موسى قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إن للمؤمن في الجنة لخيمة من لؤلؤة واحدة مجوفة، عرضها -وفي رواية: طولها- ستون ميلا، في كل زاوية منها أهل ما يرون الآخرين، يطوف عليهم المؤمنون، وجنتان من فضة آنيتهما وما فيهما، وجنتان من ذهب آنيتهما وما فيهما، وما بين القوم وبين أن ينظروا إلى ربهم إلا رداء الكبرياء على وجهه في جنة عدن". متفق عليه.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ مؤمن کا جنت میں ایک کھکلی موتی کا خیمہ ہوگا جس کی چوڑائی اور ایک روایت میں ہے کہ اس کی لمبائی ساٹھ میل کی ہے ۱∞؎اس کے ہر گوشہ میں اس کے گھر والے ہوں گے کہ دوسروں کو نہ دیکھ سکیں گے۲؎جن پر مؤمن گشت کرے گا۳؎اور اس کے دو باغ ہوں گے جن کے برتن اور سامان چاندی کے ہوں گے۴؎اور دو باغ ہوں گے جن کے برتن اور سامان سونے کے ہوں گے۵؎وہاں کی ہر چیز اور قوم اور رب تعالٰی کو دیکھنے کے درمیان صرف کبریائی کی چادر ہوگی ۶؎رب کی ذات پر جنت عدن میں ۷؎(مسلم،بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎اندازہ لگاؤ کہ اگر وہ موتی دنیا میں آجاوے تو اس کی قیمت کیا ہو،یہاں تو آدھے ماشے کا ایک سچا موتی کئی ہزار روپیہ کا ہوتا ہے،وہاں تو ساٹھ میل چوڑا ساٹھ میل لمبا ایک موتی ہے پھر اس کی صفائی اس کی چمک دمک کیسی ہےوہ خیال میں بھی نہیں آ سکتیان شاءاللهدیکھ کر ہی پتہ چلے گا الله نصیب کرے۔۲؎یعنی اس موتی کے مکان کے چاروں گوشوں میں اس کے مختلف گھر والے آباد ہوں گے کہیں اپنی دنیاوی بیوی بچے، کہیں وہ دنیاوی عورتیں جن کے خاوند کافر مرے اور انکے نکاح میں دی گئیں، کہیں وہ کنواری لڑکیاں جو دنیا میں بغیر شادی فوت ہوئیں،کہیں حوریں خدام ان کے علاوہ انہیں ایک دوسرے کو نہ دیکھنا فاصلہ کی وجہ سے نہ ہوگا کہ جنتی مؤمن کی نگاہ بہت دور سے دیکھے گی بلکہ ان جگہوں میں عمارتیں مختلف ہوں گی،کوٹھیاں بنگلے۔خیال رہے کہ جنت میں پردہ ہوگا،رب فرماتاہے:"حُوۡرٌ مَّقْصُوۡرٰتٌ فِی الْخِیَامِ"اور فرماتاہے:"قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ"۔پردہ اس لیے نہیں ہوگا کہ وہاں لوگ فاسق و فاجر ہوں گے بلکہ اس لیے کہ شرم و حیاء اچھی چیز ہے، بے پردگی میں بے شرمی ہے ہاں دوزخ میں پردہ نہیں ہوگا،وہاں ننگے مردوعورت ایک ہی تنور میں جلیں گے۔۳؎کہ مؤمن کبھی اپنے اس گھر میں جاوے گا کبھی اس گھر میں اس جانے میں نہ اسے سواری کی ضرورت پڑی گی نہ دیر لگے گی،آن کی آن میں ہر جگہ پہنچ جاوے گا ہر گھر میں گشت لگائے گا۔۴؎خیال رہے کہ جنت پوری جنت کو بھی کہتے ہیں اور وہاں کے ہر باغ کو بھی دوسرے معنی سے یہ تثنیہ بھی ہوتی ہے جمع بھی مگر پہلے معنی سے ہمیشہ واحد ہی آتی ہے جیسے زمین پورے روئے زمین کو بھی کہتے ہیں اور زمین کے حصوں کو بھی یعنی جنتی کو چار باغ ملیں گے، دو باغ وہ جن کے درودیوار برتن سامان درخت وغیرہ سب چاندی کے ہوں گے اور دو وہ جن کی ہر چیز سونے کی ہوگی۔۵؎خیال رہے کہ جیسے دنیا کے پھلوں کو جنت کے پھلوں سے کوئی نسبت ہی نہیں صرف نام یکساں ہیں یوں ہی دنیا کے سونے چاندی کو وہاں کے سونے چاندی سے کوئی نسبت نہیں وہاں کا ایک ماشہ سونا دنیا کے منوں سونے سے زیادہ قیمتی ہوگا،یہ ہی حال وہاں کے موتیوں وغیرہ تمام چیزوں کا ہے۔چنانچہ وہاں کا سونا چاندی شیشے کی طرح شفاف ہوگا،یہاں یہ بات کہاں۔۶؎اس کی بحثان شاءاللهدیدار الٰہی کی تحقیق میں آوے گی۔یہاں اتنا سمجھ لو کہ کبریائی کی چادر دیدار کرانے کے لیے ہوگی نہ کہ آڑ کے لیے جیسے سورج پر بخارات کی چادر ہو تو بخوبی دیکھ لیا جاتا ہے اگر یہ چادر نہ ہو تو کوئی اسے نہیں دیکھ سکتا۔۷؎ظاہر یہ ہے کہ یہاں جنت عدن لغوی معنی میں ہے یعنی پوری جنت کیونکہ ساری جنت دائمی قیام کی جگہ ہے یعنی دیدار الٰہی جنت ہی میں نصیب ہوگا،قیامت میں یہ دیدار نہ ہوگا وہاں دیدار کی دوسری نوعیت ہوگی۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5616