Main Icon

باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5635

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنَّ أَوَّلَ زُمْرَةٍ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ضَوْءُ وُجُوهِهِمْ عَلَى مِثْلِ ضَوْءِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، وَالزُّمْرَةُ الثَّانِيَةُ عَلَى مِثْلِ أَحْسَنِ كَوْكَبٍ دُرِّيٍّ فِي السَّمَاءِ، لِكُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ زَوْجَتَانِ، عَلَى كُلِّ زَوْجَةٍ سَبْعُونَ حُلَّةً، يُرَى مُخُّ سَاقِهَا من وَرَائِهَا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وعنه قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إن أول زمرة يدخلون الجنة يوم القيامة ضوء وجوههم على مثل ضوء القمر ليلة البدر، والزمرة الثانية على مثل أحسن كوكب دري في السماء، لكل رجل منهم زوجتان، على كل زوجة سبعون حلة، يرى مخ ساقها من ورائها". رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ پہلا گروہ جو قیامت کے دن جنت میں جائے گا ان کے چہروں کی چمک چودھویں رات کے چاند کی چمک کی طرح ہوگی اور دوسرا گروہ آسمان میں بہترین چمک دار تارے کی طرح ۱∞؎ان میں ہرشخص کی دو بیویاں ہوں گی ہر بیوی پر ستر جوڑے ہوں گے،ان کی پنڈلی کی مینگ ان سب کے اوپر سے دیکھی جاوے گی۲؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎پہلا گروہ حضرات انبیاءکرام ہیں دوسرا گروہ حضرات اولیاء الله شہداءصالحین کا ہے قلب کی حالت ان کے چہروں پر ظاہر ہوگی۔۲؎یعنی اس کی بیویاں تو بہت ہوں گی مگر ان میں سے دو بیویاں اسی لطافت والی ہوں گی کہ ستر جوڑے پہنیں گی،پھر بھی ان کی پنڈلی کی ہڈی کی مینگ اوپر سے نظر آوے گی،مگر خیال رہے کہ وہ بیویاں صرف اپنے خاوندوں کے سامنے ہی آویں گی کوئی اور نہیں نہ دیکھ سکے گا،رب فرماتاہے:"قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ"لہذا اس پر نہ تو یہ اعتراض ہے کہ پھر ان کے سارے پوشیدہ اعضاء سب کو نظر آئیں گے لباس ستر کا فائدہ نہ دے گا اس لیے کہ وہاں کل بیویوں کا ذکر ہے اور یہاں ایسی لطافت والی بیویوں کا،کل بیویاں بہتر ہیں جن میں سے دو ایسی لطیف اور انہیں سوا ان کے خاوندوں کے کوئی نہ دیکھے گا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5635