Main Icon

باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5640

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَسمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- وَذُكِرَ لَهُ سِدْرَةُ الْمُنْتَهَى قَالَ: "يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّ الْفَنَنِ مِنْهَا مِئَةَ سَنَةٍ، أَوْ يَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا مِئَةُ رَاكِبٍ -شَكَّ الرَّاوِي- فِيهَا فَرَاشُ الذَّهَبِ كَأَنَّ ثَمَرَهَا الْقِلَالُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.

وعن أسماء بنت أبي بكر قالت: سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- وذكر له سدرة المنتهى قال: "يسير الراكب في ظل الفنن منها مئة سنة، أو يستظل بظلها مئة راكب -شك الراوي- فيها فراش الذهب كأن ثمرها القلال". رواه الترمذي وقال: هذا حديث غريب.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق سے فرماتی ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا حضور کی خدمت میں سدرۃ المنتہی کا ذکر ہوا ۱∞؎فرمایا کہ اس کی شاخوں کے سایہ میں سوار سو برس چلے گا یا اس کے سایہ میں سو سوار سایہ لیں گے، راوی کو شک ہے۲؎اس میں سونے کے پتنگے ہیں اس کے پھل گویا مٹکے ہیں ۳؎(چاٹیاں)ترمذی اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎یہ بیری کا درخت ہے ساتویں آسمانوں کے اوپر یہاں فرشتوں کی انتہا ہے کہ کوئی فرشتہ جو زمین پر آتا ہے،اس سے آگے نہیں بڑھتا اور عرشی فرشتے اس سے نیچے نہیں آتے حتی کہ لوگوں کے اعمال فرشی فرشتے یہاں تک پہنچانتے ہیں پھر وہاں اوپر والے فرشتے لے لیتے ہیں اور اوپر پہنچاتے ہیں اس لیے اسے منتہیٰ کہا جاتا ہے،اس کا ذکر قرآن مجید میں بھی ہے یا اس کی انتہا جنت میں ہے یا اس کے آگے کسی کا علم نہیں بڑھتا کہ اوپر کیا ہے ان وجوہ سے اسے منتہیٰ کہا جاتا ہے۔(از مرقات)۲؎یعنی بی بی اسماءکو شک ہے کہ حضور انور نے ان دو باتوں میں سے کیا بات فرمائی پہلی بات زیادہ ظاہر ہے یا یہ کہ بعض لوگوں کو وہ سایہ اسقدر محسوس ہوگا بعض کو اس قدر۔(از مرقات)۳؎یہ پتنگے وہاں پر مقرر شدہ فرشتے ہیں جن کے پر چمکیلے ہیں۔(اشعہ)اس بیری کے پھل بڑے مٹکوں کے برابر ہیں جو ٹھنڈے میٹھے مکھن جیسے گودے سے بھرے ہوئے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5640