Main Icon

باب:فئ کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4055

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بنِ الْحَدَثانِ قَالَ:قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: إِنَّ اللّٰهَ قَدْ خَصَّ رَسُوْلَهٗ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هٰذَا الْفَيْءِ بِشَيْءٍ لَمْ يُعْطِهِ أَحَدًا غَيْرَهٗ. ثُمَّ قَرَأَ وَمَا أَفَاءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْهُمْ إِلَى قَولِهٖ: قَدِيرٌ فَكَانَتْ هٰذِهٖ خَالِصَةً لِرَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُنْفِقُ عَلٰى أَهْلِهٖ نَفَقَةَ سَنَتِهِمْ مِنْ هٰذَا الْمَالِ، ثُمَّ يَأْخُذُ مَا بَقِيَ فَيَجْعَلُهٗ مَجْعَلَ مَالِ اللّٰهِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

عن مالك بن أوس بن الحدثان قال:قال عمر بن الخطاب: إن الله قد خص رسوله صلى الله عليه وسلم في هذا الفيء بشيء لم يعطه أحدا غيره. ثم قرأ وما أفاء الله على رسوله منهم إلى قوله: قدير فكانت هذه خالصة لرسول الله صلى الله عليه وسلم، ينفق على أهله نفقة سنتهم من هذا المال، ثم يأخذ ما بقي فيجعله مجعل مال الله. متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت مالک ابن اوس ابن حدثان سے ۱؎فرماتے ہیں حضرت عمر ابن خطاب نے فرمایا کہتعالٰی نے اپنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو اس فئ میں سے ایسی چیز سے خاص فرمایا جو ان کے سوا کسی کو نہ دی۲؎پھر یہ آیت تلاوت کیوَ مَاۤ اَفَآءَ اللہُ عَلٰی رَسُوۡلِہٖ،قَدِیۡرٌتک۳؎پس یہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے خاص رہا کہ آپ اپنے گھر والوں کو اس مال سے سال بھر کا خرچ دیتے تھے ۴؎پھر جو بچتا تھا تو اسے لیتے اللہ کے مال کے مصرف میں خرچ فرماتے ۵؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ بصر ی ہیں،صحیح تر یہ ہے کہ صحابی ہیں لیکن آپ سے کوئی روایت ثابت نہیں صحابہ کرام سے ہی احادیث روایت کرتے ہیں،آپ کی اکثر روایات حضرت عمر سے ہیں ،مدینہ منورہ میں رہے، ۹۲ھ؁ ∞ میں وفات پائی۔(مرقات و اشعہ)
۲
؎اس میں اشارہ اس آیت کریمہ کی طرف ہے:"فَمَاۤ اَوْ جَفْتُمْ عَلَیۡہِ مِنْ خَیۡلٍ وَّ لَارِکَابٍ"یعنی کفار کا جو مال بغیر جنگ مسلمانوں کے ہاتھ لگے اس میں نہ خمس ہے نہ تقسیم بلکہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کو اس قسم کے مالوں میں بالکل اختیار ہے جس طرح چاہیں تصرف کریں۔
۳
؎خیال رہے کہ قبیلہ بنی نضیر کو مدینہ منورہ سے جلا وطن کیا گیا،ان کے مال مدینہ پاک میں رہ گئے،یہ قوم مدینہ منورہ سے صرف دو میل فاصلہ پر تھی،صحابہ کرام پاپیادہ اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم سوار ہوکر وہاں پہنچے اور بغیر جنگ ان پر قبضہ کرلیا گیا، مسلمانوں کا خیال تھا کہ یہ بھی مال غنیمت کی طرح تقسیم ہوں گے تب یہ آیۃ کریمہ نازل ہوئی جس میں فرمایا گیا کہ تقسیم غنیمت میں ہوتی ہے یہ غنیمت نہیں ہے فئ ہے لہذا یہ اموال حضور انور کے ہیں۔(مرقات،اشعہ)
۴
؎خیال رہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے خود اپنی ذات کے لیے کبھی کچھ جمع نہ فرمایا مگر اپنی ازواج پاک کو ایک سال کا خرچہ اس زمانہ کے بعد عطا فرمایا لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں جو مروی ہے کہ حضور نے کل کے لیے کچھ نہ رکھا۔اس سے معلوم ہوا کہ ا پنے بال بچوں کے لیے سال بھر کا گندم لکڑی وغیرہ خرید لینا سنت ہے کہ اس میں بےفکری بھی ہے اور برکت بھی ۔
۵
؎یعنی حضور صلی اللہ علیہ و سلم اس فئ میں سے اپنے سال کا خرچ نکال کر باقی فقراء مساکین اور ضروریات دینی میں خرچ فرماتے تھے،یہ ہی اب سلاطین اسلامیہ کو حکم ہے کہ فئ کا تمام مال مسلمانوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کریں،اس مال سے پلوں کی تعمیر، لشکروں کے واسطے ہتھیاروں کی خریداری،قاضیوں و علماء دین کی تنخواہیں ادا کریں،یہ ہی امام اعظم قدس سرہ کا مذہب ہے۔بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ فئ میں سے بھی خمس لیا جائے گا غنیمت کی طرح باقی چارخمس مجاہدین پر خرچ ہوں گے۔یہ حدیث امام اعظم کی دلیل ہے۔ (مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4055