Main Icon

باب:فئ کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4057

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ عَوفِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَتَاهُ الْفَيْءُ قَسَمَهٗ فِي يَوْمِهٖ، فَأَعْطَى الآهِلَ حَظَّيْنِ وَأَعْطَى الأَعْزَبَ حَظًّا، فَدُعِيتُ فَأَعْطَانِي حَظَّيْنِ،وَكَانَ لِي أَهْل ثُمَّ دُعِيَ بَعْدِي عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ، فَأُعْطِيَ حَظًّا وَاحِدًا. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

عن عوف بن مالك: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا أتاه الفيء قسمه في يومه، فأعطى الآهل حظين وأعطى الأعزب حظا، فدعيت فأعطاني حظين،وكان لي أهل ثم دعي بعدي عمار بن ياسر، فأعطي حظا واحدا. رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عوف ابن مالک سے ۱؎کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس جب فئ آتا تھا اسی دن تقسیم فرما دیتے تھے اس طرح کہ گھر بار والے کو دو حصے اور(چھڑے)اکیلے کو ایک حصہ دیتے ۲؎چنانچہ میں بلایا گیا تو مجھے دو حصے دیئے میرے گھر والے تھے پھر میرے بعد عمار ابن یاسر کو بلایا گیا تو انہیں ایک حصہ عطا فرمایا ۳؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱؎آپ قبیلہ بنی اشجع سے ہیں،غزوہ خیبر اور بعد کے تمام غزوات میں شریک ہوئے،فتح مکہ کے دن قبیلہ بنی اشجع کے علم بردار تھے،شام میں قیام رہا وہاں ہی وفات پائی۔
۲
؎یعنی شادی شدہ کو دو حصے اس کا اور اس کی بیوی کا،کنوارے یا بغیر زوجہ والے کو ایک حصہ صرف اسی کا۔(مرقات)اصطلاح میںاھلبیوی کو کہا جاتا ہے،اھلاسم فاعل بمعنی بیوی والا۔
۳
؎کیونکہ اس وقت حضرت عمار کے پاس زوجہ نہ تھیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4057