Main Icon

باب:فئ کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4062

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعنهُ قَالَ: كَانَ فِيمَا احْتَجَّ فِيهِ عُمَرُ أَنْ قَالَ: كَانَتْ لِرَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثُ صَفَايَا: بَنُو النَّضِيرِ وخيبرُ وفَدَكُ، فَأَمَّا بَنُو النَّضِيرِ فَكَانَتْ حُبْسًا لِنَوَائِبِهٖ، وَأَمَّا فَدَكُ فَكَانَتْ حُبْسًا لِأَبْنَاءِ السَّبِيلِ، وَأَمَّا خَيْبَرُ فَجَزَّأَهَا رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ: جُزأَيْنِ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ وَجُزءًا نَفَقَةً لِأَهْلِهٖ، فَمَا فَضُلَ عَنْ نَفَقَةِ أَهْلِهٖ جَعَلَهٗ بَيْنَ فُقَراءِ الْمُهَاجِرِينَ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

وعنه قال: كان فيما احتج فيه عمر أن قال: كانت لرسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاث صفايا: بنو النضير وخيبر وفدك، فأما بنو النضير فكانت حبسا لنوائبه، وأما فدك فكانت حبسا لأبناء السبيل، وأما خيبر فجزأها رسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاثة أجزاء: جزأين بين المسلمين وجزءا نفقة لأهله، فما فضل عن نفقة أهله جعله بين فقراء المهاجرين. رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں کہ جن سے حضرت عمر نے دلیل پکڑی ان میں یہ تھا کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی تین چیزیں پسند کی ہوئی تھیں ۱؎بنی نضیر،خیبر اور فدک ۲؎تو بنی نضیر یہ تو آپ کی حاجات کے لیے مخصوص تھا۳؎لیکن فدک تو وہ مسافروں کے لیے مخصوص موقوف تھا ۴؎لیکن خیبر تو اسے رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے تین حصوں پر تقسیم فرمادیا ۵؎دو حصوں کو مسلمانوں کے درمیان اور ایک حصہ اپنے گھر والوں کا خرچہ پھر اپنے گھر کے خرچ سے جو بچا اسے فقراء مہاجرین کے درمیان تقسیم کردیا ۶؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎صفایاجمع ہےصفیہکی بمعنی پسند کی ہوئی چھانٹی ہوئی چیز۔حق تعالٰی کی طرف سے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو حق تھا کہ مال غنیمت میں جو چاہیں اپنے واسطے پسند فرمالیں باقی تقسیم فرمادیں۔حضرت صفیہ ام المؤمنین کو صفیہ اسی واسطے کہا جاتا تھا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں اپنے واسطے خاص فرمایا تھا کیونکہ آپ یہود کے سردار کی بیٹی حضرت موسیٰ و ہارون علیہما السلام کی اولاد سے تھیں،انہیں آزاد فرماکر ان سے نکاح کرلیا تھا۔
۲
؎بنی نضیر کی زمین مدینہ منورہ سے تین میل فاصلہ پرتھی،خیبر وہاں سے ایک سو ساٹھ میل فاصلہ پر ہے اور فدک خیبر سے تین میل ہے۔اب صرف زمین سفیدہ ہے وہاں باغ نہیں۔ہم نے خیبر کی زیارات کی ہیں۔
۳
؎کہ وہاں کی آمدنی اپنی ازواج پاک،مہمانوں وغیرہ پر خرچ کرتے تھے۔
۴
؎یعنی مسافروں کے لیے نامزد یا موقوف تھا کہ ہر مسافر حاجت مند اس سے خرچ کرے۔
۵
؎یعنی حضور انور نے خیبر کے تین حصے کردیئے تھے کیونکہ خیبر کی بہت سی بستیاں تھیں،نیز خیبر کا کچھ حصہ لڑکر حاصل ہوا تھا کچھ صلح سے لہذا یہ فئ بھی تھا اور غنیمت بھی۔(مرقات)جو حصہ لڑکر فتح ہوا تھا اس میں حضور انورکا خمس تھا اور جو حصہ بغیر لڑے حاصل ہوا تھا وہ خالص حضور انور کا تھا اسی تقسیم کا باعث یہ تھا۔
۶
؎وہ خالص اپنی ملک تھا،اسی سے گھر کا خرچ چلتا تھا لیکن اس خرچ سے جو بچ رہتا تھا وہ بھی مہاجرین فقراء پر خرچ فرمادیتے تھے ان کی غریبی کی وجہ سے،انصار بفضلہ تعالٰی غنی تھے اس لیے ان پر خرچ نہ فرماتے۔(اشعۃ اللمعات)اس توجیہ سے حدیث بالکل ظاہر ہوگئی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4062