Main Icon

باب : آگ اور آگ والوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5665

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "نَارُكُمْ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ". قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ كَانَتْ لَكَافِيَةً. قَالَ: "فُضِّلَتْ عَلَيْهِنَّ بِتِسْعَةٍ وَسِتِّينَ جُزْءًا كُلُّهُنَّ مِثْلُ حَرِّهَا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَاللَّفْظُ لِلْبُخَارِيِّ. وَفِي رِوَايَةِ مُسْلِمٍ: "نَارُكُمُ الَّتِي يُوقِدُ ابْنُ آدَمَ وَفِيهَا: "عَلَيْهَا" وَ"كُلَّهَا" بَدَلَ "عَلَيْهِنَّ" وَ"كُلُّهُنَّ".

عن أبي هريرة أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: "ناركم جزء من سبعين جزءا من نار جهنم". قيل: يا رسول الله إن كانت لكافية. قال: "فضلت عليهن بتسعة وستين جزءا كلهن مثل حرها". متفق عليه. واللفظ للبخاري. وفي رواية مسلم: "ناركم التي يوقد ابن آدم وفيها: "عليها" و"كلها" بدل "عليهن" و"كلهن".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا تمہاری آگ دوزخ کی آگ کا سترواں جزو ہے ۱∞؎عرض کیا گیا یارسول اللہ یہ ہی آگ کافی تھی ۲؎فرمایا وہ آگ ان آگوں سے انہتر درجہ زیادہ تیز رکھی گئی ہے ہر درجہ اس آگ کی مثل ہے ۳؎(مسلم،بخاری)اور یہ الفاظ بخاری کے ہیں اور مسلم کی روایت میں ہے تمہاری وہ آگ ہے جو انسان جلاتا ہے اور اس روایت میںعلیہنّاورکلھنّکی عوضعلیھااورکلھاہے ۴؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی دوزخ کی آگ کی تیزی دنیا کی آگ سے ستر گنا ہے جیسے دنیا کی آگیں مختلف قسم کی گرم ہوتی ہیں گھاس پھوس کی آگ ہلکی ہوتی ہے،کیکر وغیرہ کی لکڑی کی آگ تیز ہوتی ہے،ویلڈنگ کی آگ بہت ہی سخت تیز ہوتی ہے جو لوہے تانبہ کو بھی گلا دیتی ہے یوں ہی وہ آگ یہاں کی اعلٰی سے اعلٰی آگ سے ستر گنا زیادہ ہوگی۔۲؎یعنی یہ ہی دنیا کی آگ لوگوں کو جلا دینے کے لیے کافی تھی یہ ہی آگ جلا کر راکھ کر ڈالتی ہے۔۳؎جواب کا مقصد یہ ہے کہ دنیا کی آگ ضرورت پوری کرنے کے لیے ہے مگر وہ آگ سزا دینے کے لیے اس لیے اتنی سخت تیز رکھی گئی۔۴؎ان دونوں روایتوں میں فرق صرف ضمیروں کا ہے کہ اس روایت میں تمام ضمیریں واحد مؤنث کی ہیں اور اس روایت میں جمع مؤنث کی باقی مطلب دونوں کا ایک ہی ہے۔امام غزالی نے احیاء العلوم میں فرمایا کہ دوزخ کی آگ سے کوئی نسبت نہیں حضور انور کا یہ فرمان عالی سمجھانے کے لیے ہے کہ دنیا میں سخت تر چیز آگ ہی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5665