Main Icon

باب : آگ اور آگ والوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5688

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "لَوْ أَنَّ رَصَاصَةً مِثْلَ هَذِهِ -وَأَشَارَ إِلَى مِثْلِ الْجُمْجُمَةِ- أُرْسِلَتْ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الأَرْضِ وَهِيَ مَسِيرَةُ خَمْسِ مِئَةِ سَنَةٍ لَبَلَغَتِ الأَرْضَ قَبْلَ اللَّيْلِ، وَلَوْ أَنَّهَا أُرْسِلَتْ مِنْ رَأْسِ السِّلْسِلَةِ لَسَارَتْ أَرْبَعِينَ خَرِيفًا اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ قَبْلَ أنْ تَبْلُغَ أَصْلَهَا أَوْ قَعْرَهَا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وعن عبد الله بن عمرو بن العاص قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "لو أن رصاصة مثل هذه -وأشار إلى مثل الجمجمة- أرسلت من السماء إلى الأرض وهي مسيرة خمس مئة سنة لبلغت الأرض قبل الليل، ولو أنها أرسلت من رأس السلسلة لسارت أربعين خريفا الليل والنهار قبل أن تبلغ أصلها أو قعرها". رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن عمرو ابن عاص ۱∞؎سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اگر اس جیسی رانگ کھوپڑی کی طرف اشارہ فرمایا ۲؎آسمان سے زمین کی طرف گرائی جاوے حالانکہ یہ فاصلہ پانچ سو سال کا ہے تو رات سے پہلے زمین پر پہنچ جاوے اور اگر وہ ہی رانگا زنجیر کے سرے سے۳؎گرایا جاوے تو چالیس دن رات چلے اس کی جڑ یا اس کی تہہ تک پہنچنے سے پہلے ۴؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎عبداللہ بھی صحابی ہیں اور آپ کے والد عمرو بھی صحابی مگر دادا عاص ابن وائل کافر حضور انور کا سخت دشمن تھا،اس کا نام عاصی تھا عاص کے ساتھ مشہور ہوگیا۔عاص ی کو گرا کر بہت دفعہ آخری ی دور کردی جاتی ہے جیسےباقیسےباقٍ،متعالٰی متعالٍ،مھتدیسےمھتدٍ۔(مرقات)بعض محدثین نے فرمایا کہ عاص اجوف واوی یا اجوف یائی ہے اس کی جمع اعیاص ہے،قاموس نے کہا الاعیاص میں قریش اولاد امیہ ابن عبدالشمس اس صورت میں اس کے آخر میں ی ہو ہی نہیں سکتی۔(مرقات)۲؎رصاصر کے فتحہ سے بمعنی رانگ یا سیسہ،بعض لوگوں نےرضاضض سے پڑھا بمعنی کنکریٹ مگر یہ غلط ہے۔مقصد یہ ہے کہ انسانی کھوپڑی کی برابر رانگایا سیسہ آسمان سے پھینکو تو وہ رات کا چلا صبح سے پہلے زمین پر پہنچ جائے گا۔چڑھنے کی رفتار بہت سست ہوتی ہے گرنے کی رفتار بہت ہی تیز جیسا کہ مشاہدہ ہے،آسمان پر چڑھنے کی مدت پانچ سو سال ہے گرنے کی مدت دس گھنٹے یا اس سے بھی کم،سادہ اشارہ میں مسئلہ سمجھادیا گیا ہے۔∞۳؎یہاں سلسلہ سے مراد زنجیر ہے جس میں کفار باندھے جائیں گے جس کی لمبائی دست قدرت کے لحاظ سے ستر ہاتھ ہے یعنی ہمارے ہاں نہیں،رب فرماتاہے"ثُمَّ فِیۡ سِلْسِلَۃٍ ذَرْعُہَا سَبْعُوۡنَ ذِرَاعًا فَاسْلُکُوۡہُ"اس زنجیر کی لمبائی کا یہ حال ہے۔۴؎یہاںقعرسے مراد زنجیر کا دوسرا کنارہ ہے نہ کہ گہرائی کیونکہ زنجیر میں گہرائی کہاں یعنی اگر وہ زنجیر دوزخ کے کنارہ سے اس کی تہہ تک لٹکائی جائے تو اس کی درازی کا یہ حال ہوگا کہ یہ سیسہ اس کنارہ سے پھینکا ہوا دوسرے کنارہ تک چالیس سال میں نہ پہنچ سکے اس زنجیر سے کفار کو جکڑا جائے گا اندازہ لگالو کہ وہ جکڑ اور پکڑ کیسی ہوگی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5688