Main Icon

باب : آگ اور آگ والوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5685

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "يَا أَيُّهَا النَّاسُ! ابْكُوا فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِيعُوا فَتَبَاكَوْا، فَإِنَّ أَهْلَ النَّارِ يَبْكُونَ فِي النَّارِ حَتَّى تَسِيلَ دُمُوعُهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ كَأَنَّهَا جَدَاوِلُ، حَتَّى تَنْقَطِعَ الدُّمُوعُ،فَتَسِيلَ الدِّمَاءُ، فَتَقَرَّحُ الْعُيُونُ، فَلَوْ أَنَّ سُفُنًا أُزْجِيَتْ فِيهَا لجَرَتْ". رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ". [شرح السنة: 4418].

وعن أنس عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: "يا أيها الناس! ابكوا فإن لم تستطيعوا فتباكوا، فإن أهل النار يبكون في النار حتى تسيل دموعهم في وجوههم كأنها جداول، حتى تنقطع الدموع،فتسيل الدماء، فتقرح العيون، فلو أن سفنا أزجيت فيها لجرت". رواه في "شرح السنة". [شرح السنة: 4418].

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا اے لوگو روؤ اگر رو نہ سکو تو بہ تکلف روؤ ۱∞؎کیونکہ دوزخی لوگ روئیں گے حتی کہ ان کے آنسو ان کے چہروں پر ایسے بہیں گے گویا وہ نالیاں ہیں ۲؎کہ آنسو ختم ہوجائیں گے تو آنکھوں کو زخمی کردیں گے ۳؎اگر کشتیاں اس میں بہائی جاویں تو بہہ جاویں ۴؎(شرح سنہ)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جیتے جی اپنے گناہوں کے ڈر،رب کے خوف،اس کی رحمت کے شوق ،اس کے حبیب کے عشق میں جتنا ہو سکے رولو ایسے رونے کا انجامان شاءاللهخوشی و شادمانی ہے۔مولانا فرماتے ہیں شعر
از پس ہر گریہ آخر خندہ ایست مرد آخر بیں مبارک بندہ ایست
خوف،شوق،ذوق کا رونا بڑا ہی لذیذ ہے انہیں آنسوؤ ں سے چمن ایمان کی آبیاری ہوتی ہے۔
شعر
باش چوں دولاب دائم چشم تر تادرون صحن تو روید خضر
۲
؎کفار دنیا میں بے غم تھے وہاں غمگین ہوں گے،یہاں خوش تھے وہاں مغموم رہیں گے،یہاں ہنستے بہت تھے وہاں روئیں گے جس سے ان کے خساروں پر نالیاں بن جائیں گی۔۳؎پھر ان کی آنکھوں سے دو قسم کے خون جاری ہوں گے آنسو کی جگہ اور زخم چشم سے پھر اس رونے سے جو تکلیف ہوگی وہ بیان سے باہر ہے۔۴؎ازجیتبنا ہےازجاءسے بمعنی چھوڑنا بہانا۔(مرقات،اشعہ)ازجیتیعنی دوزخیوں کی آنکھوں سے اتنا خون بہے گا کہ اس کے تالاب دریا بن جائیں گے کہ ان میں کشتیاں جاری ہوجاویں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5685