Main Icon

باب : آگ اور آگ والوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5687

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَقُولُ: "أَنْذَرْتُكُمُ النَّارَ، أَنْذَرْتُكُمُ النَّارَ" فَمَا زَالَ يَقُولُهَا حَتَّى لَوْ كَانَ فِي مَقَامِي هَذَا سَمِعَهُ أَهْلُ السُّوقِ، وَحَتَّى سَقَطَتْ خَمِيصَة كَانَتْ عَلَيْهِ عِنْدَ رِجْلَيْهِ. رَوَاهُ الدَّارمِيُّ.

وعن النعمان بن بشير قال: سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: "أنذرتكم النار، أنذرتكم النار" فما زال يقولها حتى لو كان في مقامي هذا سمعه أهل السوق، وحتى سقطت خميصة كانت عليه عند رجليه. رواه الدارمي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت نعمان ابن بشیر سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ میں نے تم کو آگ سے ڈرایا میں نے تم کو آگ سے ڈرایا ۱∞؎آپ یہ فرماتے رہے حتی کہ اگر حضور میری اس جگہ ہوتے تو بازار والے سن لیتے ۲؎اور حتی کہ جو چادر آپ پر تھی وہ آپ کے پاس قدموں پر گر گئی ۳؎(دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی میں نے تم کو بارہا دوزخ سے مختلف طریقوں سے ڈرایا کیونکہ میں اللہ تعالٰی کی طرف سے نذیر بھی تو ہوں میں نے اپنا یہ فرض ادا کردیا تم لوگ گواہ رہو۔۲؎یعنی حضور انور نے جوش میں اس قدر بلند آواز سے یہ کلمات فرمائے کہ اگر حضور انور آج یہاں قیام فرما کر وہ فرماتے تو بازار تک آپ کی آواز پہنچ جاتی۔۳؎یعنی جوش کے ساتھ آپ پر وجدانی حالت بھی طاری تھی اور آپ جنبش میں تھے جس کے اثر سے چادر مبارک کندھے شریف سے گر کر قدم مبارک پر آگئی۔یہ حدیث صوفیاء کرام کے وجد کی دلیل ہے وجدان شوق اور ذوق خوف ہرچیز سے آسکتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5687