Main Icon

باب : آگ اور آگ والوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5667

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا مَنْ لَهُ نَعْلَانِ وَشِرَاكَانِ مِنْ نَارٍ، يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ كَمَا يَغْلِي الْمِرْجَلُ، مَا يُرَى أَنَّ أَحَدًا أَشَدُّ مِنْهُ عَذَابًا وَإِنَّهُ لأَهْوَنُهُمْ عَذَابًا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن النعمان بن بشير قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إن أهون أهل النار عذابا من له نعلان وشراكان من نار، يغلي منهما دماغه كما يغلي المرجل، ما يرى أن أحدا أشد منه عذابا وإنه لأهونهم عذابا". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت نعمان ابن بشیر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ دوزخیوں میں سب سے ہلکے عذاب والا وہ ہوگا جس کے لیے آگ کا جوتا اوردو تسمے ہوں گے جس سے اس کا دماغ کھولتا ہے جیسے ہانڈی کھولتی ہے ۱∞؎وہ نہ سمجھے گا کہ کوئی بھی اس سے سخت تر عذاب والا ہے حالانکہ وہ ان سب میں ہلکے عذاب والا ہوگا ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی دوزخ کے مختلف طبقے ہیں ہر طبقہ کا عذاب مختلف ہے،اونچے طبقہ کا عذاب نیچے سے ہلکا ہوگا اونچے طبقے کے دوزخیوں میں بعض لوگ ایسے ہوں گے جن کا ذکر یہاں ہے۔خیال رہے کہ اگر کالا دانہ پاؤ ں کی انگلی میں نکل آوے تو اس سے سر چکراتا ہے مریض کہتا ہے میری کھوپڑی پھٹی جارہی ہے اس کا نمونہ دنیا میں ہی قائم ہے لہذا اس حدیث پر اعتراض نہ کرو کہ سرکا پاؤں سے کیا تعلق ہے آگ کی جوتی یا تو انگاروں سے بنی ہوئی جوتی ہو گی یا آگ سے تپائی ہوئی جوتی پہلے معنی زیادہ ظاہر ہیں یعنی اس کے صرف پاؤ ں میں آگ ہوگی باقی جسم میں نہیں۔۲؎یعنی یہ دوزخی سمجھے گا کہ سب سے زیادہ سخت عذاب مجھ پر ہی ہے مگر واقعہ یہ ہوگا کہ سب سے ہلکا عذاب اسے ہوگا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5667