Main Icon

باب : آگ اور آگ والوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5692

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَن رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ ثَوْرَانِ مُكَوَّرَانِ فِي النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ". فَقَالَ الحَسَنُ: وَمَا ذَنْبُهُمَا فَقَالَ: أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- فَسَكَتَ الْحَسَنُ. رَوَاهُ البَيْهَقِيُّ فِي "كِتَابِ الْبَعْثِ وَالنُّشُوْرِ".

وعن الحسن قال: حدثنا أبو هريرة عن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: "الشمس والقمر ثوران مكوران في النار يوم القيامة". فقال الحسن: وما ذنبهما فقال: أحدثك عن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فسكت الحسن. رواه البيهقي في "كتاب البعث والنشور".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت حسن سے فرماتے ہیں ہم کو حضرت ابوہریرہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے حدیث سنائی فرمایا سورج اور چاند قیامت کے دن گہنے ہوئے دو پنیر کے ٹکڑے ہوں گے ۱∞؎خواجہ حسن نے کہا کہ ان دونوں کا گناہ کیا ہے،ابوہریرہ نے فرمایا میں تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے حدیث سنا رہا ہوں تو خواجہ حسن خاموش ہو گئے ۲؎(بیہقی بعث ونشور کا بیان)

شرح حدیث

۱∞؎ثورکہتے ہیں پنیر کے ٹکڑے کو،پنیر جما ہوا دودھ جو عرب میں ہوتا ہے ہمارے ہاں نہیں ہوتا وہ قدرے سخت ہوتا ہے ہم نے وہاں بہت کھایا ہے۔یعنی چاند سورج دوزخ میں نہایت صاف چکنے ہوں گے مگر بے نور ہوں گے اس لیےمکورانفرمایا۔۲؎یہ ہے کمال ایمان کہ حضور انور کا نام سن کر عقلی سوال کوئی نہ فرمایا،اس کا جواب یہ ہے کہ وہاں چاند سورج عذاب پانے کے لیے نہیں جائیں گے بلکہ اپنے پجاریوں کو عذاب دینے جائیں گے،ان کی گرمی آگ کی گرمی سے مل کر عذاب کو دوبالا کردے گی،دیکھو دوزخ میں عذاب دینے کے لیے فرشتے بھی تو ہوں گے مگر وہ عذاب پانے کے لیے وہاں نہیں گئے بلکہ عذاب دینے کے لیے ہوں گے،نیز یہ دونوں نور ہیں اور نور کو نار تکلیف نہیں دیتی،دیکھو مؤمنین وہاں سے گنہگاروں کو نکالنے کے لیے دوزخ میں جائیں گے مگر بالکل تکلیف نہ پائیں گے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5692