Main Icon

باب : آگ اور آگ والوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5670

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "يَقُولُ اللَّهُ لِأَهْوَنِ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ: لَوْ أَنَّ لَكَ مَا فِي الأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ أَكُنْتَ تَفْتَدِي بِهِ؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ. فَيَقُولُ: أَرَدْتُ مِنْكَ أَهْوَنَ مِنْ هَذَا وَأَنْتَ فِي صُلْبِ آدَمَ، أَنْ لَا تُشْرِكَ بِي شَيْئًا، فَأَبَيْتَ إِلَّا أَنْ تُشْرِكَ بِي". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعنه عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: "يقول الله لأهون أهل النار عذابا يوم القيامة: لو أن لك ما في الأرض من شيء أكنت تفتدي به؟ فيقول: نعم. فيقول: أردت منك أهون من هذا وأنت في صلب آدم، أن لا تشرك بي شيئا، فأبيت إلا أن تشرك بي". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں اللہ تعالٰی قیامت کے دن ہلکے عذاب والے دوزخی سے کہے گا ۱∞؎اگر تیرے پاس ساری زمین کی چیزیں ہوتیں تو تو اس آگ سے بچنے کے لیے دے دیتا تو بندہ کہے گا ہاں پھر اللہ تعالٰی فرمائے گا میں نے تجھ سے اس سے آسان چیزطلب کی تھی جب کہ تو آدم علیہ السلام کی پیٹھ میں تھا ۲؎کہ تو کسی چیز کو میرا شریک نہ مان تو میرا شریک ٹھہرانے کے سوا سے انکاری ہوگیا ۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎دنیا میں انسان بیماریوں مصیبتوں کو پیسہ کے ذریعہ دفع کرتا تھا،جان پر مال قربان کرتا تھا کہ گرفتاری کو مالداری کے ذریعہ مال دے کر دفع کرتا تھا اسی قاعدے سے رب تعالٰی پوچھے گا کہ اگر تیرے پاس روئے ز مین کی دولت ہوتی اور تو وہ سب کچھ دے کر اس سے بچ سکتا تو کیا تو دے دیتا،وہ بندہ فورًا کہے گا یارب میں ایسا ضرور کرتا یہ تو بہت سستا سودا تھا کہ وہ مال دے کر میں اپنی جان عذاب سے بچالیتا۔حکایت: ہارون رشید بادشاہ نے پینے کے لیے پانی کا پیالہ ہاتھ میں لیا،ایک عالم صاحب نے پوچھا اے سلطان اگر تو جنگل میں پیاس سے مررہا ہو پانی موجود نہ ہو تو یہ پیالہ پانی کتنی قیمت سے خرید سکتا ہے جان بچانے کے لیے،جواب دیا کہ آدھی سلطنت سے،اس نے پوچھا اگر تو یہ پانی خرید کر پی لے تیرے پیٹ میں پہنچ کر یہ پانی رک جائے پیشاب نہ آئے تکلیف سے تیری جان نکلتی ہو تو تو ڈاکٹر کو کتنی فیس دے کر پیشاب نکلواسکتا ہے،سلطان نے کہا بقیہ آدھی سلطنت،عالم صاحب نے کہا کہ غور کرلے تیری ساری بادشاہت ایک پیالہ پانی پیٹ میں جانے وہاں سے نکلنے پر قربان ہے اب تو جتنا چاہے اس سلطنت پر ناز کر۔۲؎یعنی میثاق کے دن ہم نے تجھ سے اپنی وحدانیت کا اقرار کرایا"اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ"پھر دنیا میں تجھے یہ مثاق یاد دلانے اور اپنے احکام پہنچانے کے لیے تیرے پاس اپنے نبی بھیجے،تجھے کفر و گناہ سے بچنے کا حکم دیا۔یہاں ارادے سے مراد حکم اور مطالبہ ہے نہ کہ ارادۂ الہیہ کیونکہ اللہ کے ارادہ کے خلاف ہوجانا بالکل ناممکن ہے،فرماتا ہے:"لَّوْ یَشَآءُ اللہُ لَہَدَی النَّاسَ جَمِیۡعًا"اور فرماتاہے:"وَلَوْ شَآءَ اللہُ مَا اقْتَتَلُوۡا"اور فرماتاہے:"لَوْ شَآءَ اللہُ لَجَمَعَہُمْ عَلَی الْہُدٰی"ہا ں امر الٰہی کے خلاف لوگ دن رات حرکتیں کررہے ہیں،ارادہ اور امر الٰہی میں بڑا فرق ہے لہذا حدیث واضح ہے ارادہ بمعنی امر ہے۔۳؎ان جیسی احادیث اور آیات میں شرک سے مراد کفر ہوتا ہے کہ کفر ہی دائمی دوزخی ہونے کا ذریعہ ہے۔شرک کفر کی ایک قسم ہے کسی کو اللہ تعالٰی کے برابر جاننا یا اللہ تعالٰی کو کسی کے برابر ماننا شرک ہے"اِذْ نُسَوِّیۡکُمۡ بِرَبِّ الْعٰلَمِیۡنَ"اور فرماتاہے:"ثُمَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِرَبِّہِمۡ یَعْدِلُوۡنَکفر کے معنی ہیں اسلام کے قطعی عقیدے کا انکار۔ہر کفردوزخ میں ہمیشگی کا سبب ہے وہ ہی یہاں مراد ہے یعنی تو نے دنیا میں کفر ہی کیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5670