Main Icon

باب : آگ اور آگ والوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5691

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنَّ فِي النَّارِ حَيَّاتٍ كَأَمْثَالِ الْبُخْتِ، تَلْسَعُ إِحْدَاهُنَّ اللَّسْعَةَ فَيَجِدُ حَمْوَتَهَا أَرْبَعِينَ خَرِيفًا، وَإِنَّ فِي النَّارِ عَقَارِبَ كَأَمْثَالِ الْبِغَالِ الْمُؤْكَفَةِ، تَلْسَعُ إِحْدَاهُنَّ اللَّسْعَةَ فَيَجِدُ حَمْوَتَهَا أَرْبَعِينَ خَرِيفًا". رَوَاهُمَا أَحْمَدُ.

وعن عبد الله بن الحارث بن جزء قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إن في النار حيات كأمثال البخت، تلسع إحداهن اللسعة فيجد حموتها أربعين خريفا، وإن في النار عقارب كأمثال البغال المؤكفة، تلسع إحداهن اللسعة فيجد حموتها أربعين خريفا". رواهما أحمد.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن حارث ابن جز سے ۱∞؎فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ آگ میں تو سانپ ہیں اونٹنی کی طرح ۲؎ان میں سے ایک ڈسے گا ایک بار ڈسنا کہ وہ دوزخی اس کا زہر چالیس سال تک پائے گا ۳؎اور آگ میں بچھو ہیں پالان والے خچروں کی طرح ان میں سے ایک ڈنگ مارے گا ایک ڈنگ تو وہ اس کا زہر چالیس سال تک پائے گا ۴؎(یہ دونوں حدیثیں احمد نے روایت فرمائیں)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام عبداللہ ہے،کنیت ابوالحارث ہے،سہمی ہیں،بدر میں شریک ہوئے،بعد میں مصر میں رہے،وہاں ہی وفات پائی ۸۵ھ؁ میں فات ہوئی۔۲؎وہ سانپ جسامت میں تو اونٹ کی طرح بڑے اور موٹے مگر زہر میں رفتار میں پتلے سانپ کی طرح ہوں گے۔دنیا میں موٹا سانپ یعنی اژدھا زہریلا نہیں ہوتا پتلا بہت زہریلا اور تیز رفتار ہوتا ہے۔موسیٰ علیہ السلام کا عصا"ثُعْبَانٌ مُّبِیۡنٌ"یعنی اژدھا ہوجاتا ہے جسامت میں اور حرکت کرتا تھا پتلے سانپ کی طرح"کَاَنَّہَا جَآنٌّلہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ دوزخ کے موٹے سانپوں میں زہر نہ ہوگا پھر ان سے کیا فائدہ بلکہ وہاں زیادہ بڑا سانپ زیادہ زہریلا ہوگا۔۳؎سانپ کے زہر سے جو جانکنی ہوتی ہے وہ بہت ہی تکلیف دہ ہوتی ہے خدا کی پناہ یہ جانکنی کی تکلیف اسے چالیس سال تک محسو س ہوگی مگر جان نکلے گی نہیں اور موت آوے گی نہیں لیکن جانکنی کی شدت محسوس ہوتی رہے گی۔۴؎بچھو کے ڈنگ کی تکلیف اس کو معلوم ہے جسے کبھی بچھو نے کاٹا ہو،اس کا زہر سارے جسم کو پریشان کردیتا ہے خصوصًا کالا بچھو جو سانپ کو ڈنگ مارے تو وہ بھی مرجاوے۔بعض بچھو دنیا میں ایسے ہیں کہ تانبہ پر ڈنگ ماردیں تو وہ راکھ بن جاوے،پھر دوزخ کے بچھو رب جانے کیسے زہریلے ہوں گے پھر یہ زہر انہیں تکلیف تو دے گامگر اس سے انکی جان نہیں نکلے گی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5691