Main Icon

باب : آگ اور آگ والوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5683

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَرَأَ هَذِهِ الآيَةَ: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} [آل عمران: 102] ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "لَوْ أَنَّ قَطْرَةً مِنَ الزَّقُّوْمِ قَطَرَتْ فِي دَارِ الدُّنْيَا لأَفْسَدَتْ عَلَى أَهْلِ الأَرْضِ مَعَايِشَهُمْ، فَكَيْفَ بِمَنْ يَكُونُ طَعَامَهُ؟ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صحِيحٌ.

وعن ابن عباس أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قرأ هذه الآية: {ياأيها الذين آمنوا اتقوا الله حق تقاته ولا تموتن إلا وأنتم مسلمون} [آل عمران: 102] ، قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "لو أن قطرة من الزقوم قطرت في دار الدنيا لأفسدت على أهل الأرض معايشهم، فكيف بمن يكون طعامه؟ ". رواه الترمذي وقال: هذا حديث حسن صحيح.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ آیت کریمہ تلاوت کی کہ اللہ سے ڈرو اس کے ڈرنے جیسا حق ۱∞؎اور نہ مرو مگر اسی حالت میں کہ تم مسلمان ہو۲؎فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اگر زقوم کا ایک قطرہ زمین میں ٹپکا دیا جاوے تو دنیا والوں پر ان کی روزیاں خراب کردے۳؎تو اس کا کیا حال ہوگا جس کا کھانا ہی زقوم ہو۴؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث حسن بھی ہے صحیح بھی۔

شرح حدیث

۱∞؎حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں کہ ڈرنے کا حق یہ ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے،نافرمانی سے بچا جائے،شکر کیا جائے ناشکری سے دور رہا جائے،اسے یاد کیا جائے بھولا نہ جائے۔(حاکم،مرقات)اللہ اس قال کو حال بنادے۔۲؎اس طرح کہ اسلام و ایمان پر مرتے دم تک قائم رہو مسلم جیو مؤمن مرو۔شعر
پانی بھریں پنھاریاں رنگ برنگ گھڑے بھریا اس کا جانئے جس کا توڑ چڑھے
۳
؎زقوم تھوڑ کو کہتے ہیں وہاں دوزخیوں کی یہ غذا ہوگی۔مطلب یہ ہے کہ اگر زقوم(ناگ پھنی)نچوڑی جائے اس کی ایک بوند زمین پر ٹپکا دی جائے۔لہذ اس فرمان عالی پر یہ اعتراض نہیں کہ زقوم کسی پانی کا نام نہیں پھر اس کا قطرہ کیسا اور ٹپکانا کیا۔سیب پھل ہے مگر اس میں عرق تو ہے جو نچوڑنے سے ٹپکتا ہے۔۴؎یعنی اس ایک قطرے کی کڑواہٹ بدبو گرم کی وجہ سے روئے زمین کے سارے دانے پھل کردے،بدبو دار گرم ہوجائیں زقوم بھی کفار ہی کو کھلایا جائے گا،رب فرماتاہے:"اِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّوۡمِ طَعَامُ الْاَثِیۡمِخیال رہے کہزقومبنا ہےزقمسے بمعنی سخت بدمزگی۔(مرقات)یہ غذا بھی ان پر سخت عذاب ہوگی مگر کھائیں گے کہ بھوک ان پر مسلط کردی جائے گی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5683