- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 7
- فتنوں کا بیان
- حدیث نمبر 5686
باب : آگ اور آگ والوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5686
فتنوں کا بیان - جلد 7
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "يُلْقَى عَلَى أَهْلِ النَّارِ الْجُوعُ، فَيَعْدِلُ مَا هُمْ فِيهِ مِنَ الْعَذَابِ، فَيَسْتَغِيثُونَ فَيُغَاثُونَ بِطَعَامٍ {مِنْ ضَرِيعٍ لَا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِي مِنْ جُوعٍ} [الغاشية: 6 - 7] ، فَيَسْتَغِيثُونَ بِالطَّعَامِ، فَيُغَاثُونَ بِطَعَامٍ ذِي غُصَّةٍ، فَيَذْكُرُونَ أَنَّهُمْ كَانُوا يُجِيزُونَ الْغُصَصَ فِي الدُّنْيَا بِالشَّرَابِ، فَيَسْتَغِيثُونَ بِالشَّرَابِ فَيُرْفَعُ إِلَيْهِمُ الْحَمِيمُ بِكَلَالِيبِ الْحَدِيدِ، فَإِذَا دَنَتْ مِنْ وُجُوهِهِمْ شَوَتْ وُجُوهَهُمْ، فَإِذَا دَخَلَتْ بُطُونَهُمْ قَطَعَتْ مَا فِي بُطُوْنِهِمْ، فَيَقُولُوْنَ: ادْعُوا خَزَنَةَ جَهَنَّمَ فَيَقُولُونَ: {قَالُوا أَوَلَمْ تَكُ تَأْتِيكُمْ رُسُلُكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ قَالُوا بَلَى قَالُوا فَادْعُوا وَمَا دُعَاءُ الْكَافِرِينَ إِلَّا فِي ضَلَالٍ} [غافر: 50] " قَالَ: "فَيَقُوْلُوْنَ: ادْعُوا مَالِكًا فَيَقُولُوْنَ: {يَامَالِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ} [الزخرف: 77] " قَالَ: "فيُجيبُهم: {إِنَّكُمْ مَاكِثُونَ} [الزخرف: 77] ". قَالَ الأَعْمَشُ: نُبُّئْتُ أَنَّ بَيْنَ دُعَائِهِمْ وَإِجَابَةِ مَالِكٍ إِيَّاهُمْ أَلْفَ عَامٍ. قَالَ: "فَيَقُولُونَ: ادْعُوا رَبَّكُّمْ، فَلَا أَحَدَ خَيْرٌ مِنْ رَبِّكُمْ، فَيَقُولُونَ: {رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَيْنَا شِقْوَتُنَا وَكُنَّا قَوْمًا ضَالِّينَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ} [المؤمنون: 106 - 107] " قَالَ: "فيُجيبُهم: اخْسَؤُوا فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ" قَالَ: "فَعِنْدَ ذَلِكَ يَئِسُوا مِنْ كُلِّ خَيْرٍ، وَعِنْدَ ذَلِكَ يَأْخُذُونَ فِي الزَّفِيرِ وَالْحَسْرَةِ وَالْوَيْلِ". قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: وَالنَّاسُ لَا يَرْفَعُونَ هَذَا الْحَدِيْثَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
وعن أبي الدرداء قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "يلقى على أهل النار الجوع، فيعدل ما هم فيه من العذاب، فيستغيثون فيغاثون بطعام {من ضريع لا يسمن ولا يغني من جوع} [الغاشية: 6 - 7] ، فيستغيثون بالطعام، فيغاثون بطعام ذي غصة، فيذكرون أنهم كانوا يجيزون الغصص في الدنيا بالشراب، فيستغيثون بالشراب فيرفع إليهم الحميم بكلاليب الحديد، فإذا دنت من وجوههم شوت وجوههم، فإذا دخلت بطونهم قطعت ما في بطونهم، فيقولون: ادعوا خزنة جهنم فيقولون: {قالوا أولم تك تأتيكم رسلكم بالبينات قالوا بلى قالوا فادعوا وما دعاء الكافرين إلا في ضلال} [غافر: 50] " قال: "فيقولون: ادعوا مالكا فيقولون: {يامالك ليقض علينا ربك} [الزخرف: 77] " قال: "فيجيبهم: {إنكم ماكثون} [الزخرف: 77] ". قال الأعمش: نبئت أن بين دعائهم وإجابة مالك إياهم ألف عام. قال: "فيقولون: ادعوا ربكم، فلا أحد خير من ربكم، فيقولون: {ربنا غلبت علينا شقوتنا وكنا قوما ضالين ربنا أخرجنا منها فإن عدنا فإنا ظالمون} [المؤمنون: 106 - 107] " قال: "فيجيبهم: اخسؤوا فيها ولا تكلمون" قال: "فعند ذلك يئسوا من كل خير، وعند ذلك يأخذون في الزفير والحسرة والويل". قال عبد الله بن عبد الرحمن: والناس لا يرفعون هذا الحديث. رواه الترمذي.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابوالدرداء سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ دوزخیوں پر بھوک مسلط کی جاوے تو یہ بھوک سارے عذابوں کے برابر ہوجاوے گی ۱∞؎جن میں وہ مبتلا ہیں وہ فریاد کریں گے تو وہ ضریع میں سے دیئے جائیں گے جو نہ موٹا کرے نہ بھوک سے نجات دے ۲؎پھر وہ کھانا مانگیں گے تو انہیں گالنے والا کھانا دیا جاوے گا۳؎تو انہیں یاد آوے گا کہ وہ دنیا میں کاہے پانی سے اتارتے تھے(نگلتے تھے)۴؎چنانچہ وہ پانی مانگیں گے تو ان کی طرف کھولتا پانی پیش کیا جاوے گا لوہے کی سنڈاسیوں سے ۵؎جب وہ ان کے منہ کے قریب ہوگا تو ان کے منہ بھون دے گا ۶؎پھر جب انکے پیٹ میں داخل ہوگا تو ان کے پیٹوں کی ہر چیز کاٹ ڈالے گا تو کہیں گے کہ دوزخ کے منتظمین کو پکارو ۷؎مگر منتظمین کہیں گے کیا تمہارے پاس تمہارے رسول دلیلیں نہیں لائے عرض کریں گے ہاں کہیں گے تو پکارے جاؤ کافروں کی پکاریں ہیں ہی برباد ۸؎پھرکہیں گے مالک کو پکارو کہیں گے اے مالک اب تو تمہارا رب ہمارا فیصلہ ہی کردے ۹؎فرمایا وہ انہیں جواب دے گا تم یہاں ہی رہو گے،اعمش فرماتے ہیں کہ مجھے خبر پہنچی ہے کہ دوزخیوں کی پکار اور مالک کے ان کو جواب دینے میں ایک ہزارسال کا فاصلہ ہوگا ۱۰؎پھر کہیں گے اپنے رب کو پکارو کہ تمہارے رب سے بہتر کوئی نہیں ۱۱∞؎تو کہیں گے اے ہمارے رب ہماری بدنصیبی ہم پر غالب آگئی اور ہم گمراہ قوم تھے ۱۲؎اے ہمارے رب ہم کو اس سے نکال اگر اب ہم کفر کی طرف لوٹ آئیں تو ہم ظالم ہیں۱۳؎فرمایا کہ انہیں جواب دے گا پڑے رہو اس میں مجھ سے بات نہ کرو۱۴؎فرمایا کہ اس وقت ہر بھلائی سے ناامید ہوجائیں گے۱۵؎اور اس وقت ندامت اور خرابی کی پکار میں مشغول ہوں گے۱۶؎عبداللہ ا بن عبدالرحمان نے فرمایا کہ لوگ اس حد یث کو مرفوع نہیں کرتے۱۷؎(ترمذی)
شرح حدیث
۱∞؎یعنی دوزخیوں پر اس شدت کی بھوک مسلط کی جاوے گی کہ اس کی تکلیف دوزخ کی باقی تکلیف کے برابر ہو جاوے گی،اس سے یہ لوگ غذا کے لیے بے تاب ہوجاویں گے۔بھوک وہ چیز ہے کہ دنیا میں بعض دفعہ بھوکی عورتوں نے اپنے بچے ذبح کرکے کھالیے ہیں۔رب پناہ د ے! اس بھوک کی وجہ سے انہیں جو بھی کھانے کے لیے دیا جائے گا بے تأمل اسے دوڑ کر لیں اور کھائیں گے کہ کسی طرح پیٹ بھرے۔۲؎ضریععرب شریف میں ایک خار دار گھاس ہے جس کے کانٹے بھی خطرناک ہوتے ہیں اور وہ زہریلی بھی ہوتی ہے اسے جانور منہ نہیں لگاتے بلکہ جس زمین میں وہ ہو جانور ڈر کے مارے چرتے بھی نہیں وہاں ٹھہرتے بھی نہیں دوزخی پیٹ بھرنے کے لیے وہی کھائیں گے اور سخت تکلیف اٹھائیں گے مگر پیٹ اس سے بھی نہ بھرے گا۔۳؎اس حدیث کی تائید قرآن مجید کی اس آیت سے ہے"اِنَّ لَدَیۡنَاۤ اَنۡکَالًا وَّ جَحِیۡمًا وَّ طَعَامًا ذَا غُصَّۃٍ"یعنی کانٹوں والا کھانا یہ ہی ہے جو انہیں ضریع کے بعد دیا جاوے گا۔۴؎یعنی یہ کھانا جب نگلیں گے تو وہ ان کے حلق سے نہ اترے گا،پھنس جائے گا نہ اگل سکیں گے نہ نگل سکیں گے تب انہیں دنیا کا حال یاد آئے گا کہ ہم گلے میں اٹکا ہوا لقمہ پانی سے نگلتے تھے۔۵؎یہ بالٹیاں اور سنڈاسیاں قدرتی ہوں گی جس میں کھولتا پانی بھرا ہوگا،فرشتے ان بالٹیوں کو اٹھائے ہوں گے اس کا ذکر یہاں ہے۔اس پانی کی گرمی اس حد تک ہوگی کہ کوئی شخص نہ اس بالٹی کے قریب جاسکے گا نہ ہاتھ لگا سکے اس کا ذکر آگے آرہا ہے۔۶؎جس پانی کی گرمی کا یہ حال ہو وہ جب منہ میں یا پیٹ میں پہنچے گا تو کیا حال ہوگا اس بلا سے رب تعالٰی بچائے۔۷؎یعنی آپس میں ایک دوسرے سے کہیں گے کہ دوزخ کے داروغہ مالک سے اور دیگر متعلقہ فرشتوں سے عرض کرو کہ ہم کو اس عذاب سے نجات ملے یا موت دے دی جائے۔خیال رہے کہ د وزخی کبھی تو فرشتوں کو پکاریں گے،کبھی رب تعالٰی کو پکاریں گے لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں"ادْعُوۡا رَبَّکُمْ یُخَفِّفْ عَنَّا یَوْمًا مِّنَ الْعَذَابِ"وہاں دوسری پکار کا ذکر ہے۔۸؎اس فرمان عالی سے معلوم ہوا کہ یہ آیت قیامت کے متعلق ہے کہ دوزخ میں کفار کی دعا پکاربے کار ہوگی کچھ نہ سنی جائے گی، دنیا میں کفار کی بعض دعائیں قبول ہوجاتی ہیں،شیطان نے درازیٔ عمر کی دعا کی جو قبول ہوئی"اِنَّکَ مِنَ المُنۡظَرِیۡنَ"۔(مرقات)اس آیت کے معنی ایک یہ بھی کئے گئے ہیں کہ کافروں کے لیے ان کی نجات کےلیے کسی کی دعا قبو ل نہیں ایسی دعائیں برباد ہیں۔(مرقات)۹؎یہاں فیصلہ سے مراد موت کا فیصلہ ہے یعنی ہم کو موت دے دے حکمی فیصلہ تو پہلے ہی ہوچکا ہے کہ وہ دوزخ میں رہیں۔۱۰؎اس ایک ہزار سال میں برابر چیختے چلاتے ہی رہیں گے جواب کا انتظار بھی کریں گے اور چیختے چلاتے بھی رہیں گے۔۱۱∞؎یعنی وہ ارحم الراحمین ہے۔کاش دنیا میں وہ لوگ یہ مانتے اطاعت کرلیتے تو یہ دن کیوں دیکھتے۔۱۲؎اگر یہ بات دنیا میں وہ لوگ مان لیتے اور ایمان قبول کرلیتے تو یہ نوبت نہ آتی ہر کام وقت پر ہی درست ہوتا ہے توبہ اور ایمان کا وقت یہ زندگی ہے موت کی سکرات کے وقت کا ایمان بھی قبول نہیں چہ جائیکہ اس وقت کا ایمان۔۱۳؎یعنی ابھی ہم ظالم نہیں بلکہ دھوکا کھانے والوں میں ہیں ہم دنیا میں دھوکا کھا گئے کہ یہ جگہ ہم نے دیکھی نہ تھی نبیوں کا ہم نے اعتبار نہ کیا اب ہم یہ عذاب اپنی آنکھوں دیکھ چکے،اگر دوبارہ دنیا میں جا کر تیری نافرمانی کریں تو واقعی ہم بڑے مجرم ہوں گے ایک بار ہم کو دنیا میں اور بھیج دے ہمیں موقعہ اور عطا فرما۔۱۴؎یعنی تمہاری درخواست نامنظور ہے۔اس ایمان و اعمال کا اعتبار ہے جو نبی کی زبان پر اعتماد کرکے بے دیکھے اختیار کیا جائے اب تم نے یہ عذاب اپنی آنکھوں دیکھ لیا اگر تم دنیا میں جا کر ایمان لاؤ بھی تو بھی ایمان بالغیب تم کو میسر نہ ہوگا ایمان بالشہادۃ ہوگا جو مردود ہے،یا یہ مطلب ہے کہ اگر تم دوبارہ دنیامیں گئے تو بھی کفر و شرک و بدکاری ہی کرو گے عادی مجرم جب چھوٹتا ہے لوٹتا ہے لہذا ہم سے اس بارے میں کلام ہی نہ کرو ایسی درخواست پیش نہ کرو تمہاری اپیل خارج۔۱۵؎کیونکہ اپیل کی آخری عدالت یہ ہی تھی جب یہاں سے ہی اپیل خارج ہوگئی تو اب کہاں جا کر فریاد کریں۔۱۶؎اگرچہ اس سے پہلے بھی وہ شور مچاتے رہے تھے مگر وہ شوروغل تکلیف کا تھا یہ شوروغل مایوسی اور حسرت افسوس کا ہوگا اور کیسا ہوگا وہ رب تعالٰی ہی جانے اس کا بیان نہیں ہوسکتا۔۱۷؎یعنی اس روایت میں یہ حدیث مرفوع ہے مگر محدثین عمومًا اسے مرفوع نہیں کرتے بلکہ حضرت ابوالدرداء پر موقوف کرتے ہیں۔لیکن خیال رہے کہ ایسی موقوف حدیثیں مرفوع کے حکم میں ہوتی ہیں کہ ان میں قیاس کو دخل نہیں،صحابی ایسی بات حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے سن کر ہی کہہ سکتے ہیں۔(مرقات،اشعہ)
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5686