Main Icon

باب : آگ اور آگ والوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5686

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "يُلْقَى عَلَى أَهْلِ النَّارِ الْجُوعُ، فَيَعْدِلُ مَا هُمْ فِيهِ مِنَ الْعَذَابِ، فَيَسْتَغِيثُونَ فَيُغَاثُونَ بِطَعَامٍ {مِنْ ضَرِيعٍ لَا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِي مِنْ جُوعٍ} [الغاشية: 6 - 7] ، فَيَسْتَغِيثُونَ بِالطَّعَامِ، فَيُغَاثُونَ بِطَعَامٍ ذِي غُصَّةٍ، فَيَذْكُرُونَ أَنَّهُمْ كَانُوا يُجِيزُونَ الْغُصَصَ فِي الدُّنْيَا بِالشَّرَابِ، فَيَسْتَغِيثُونَ بِالشَّرَابِ فَيُرْفَعُ إِلَيْهِمُ الْحَمِيمُ بِكَلَالِيبِ الْحَدِيدِ، فَإِذَا دَنَتْ مِنْ وُجُوهِهِمْ شَوَتْ وُجُوهَهُمْ، فَإِذَا دَخَلَتْ بُطُونَهُمْ قَطَعَتْ مَا فِي بُطُوْنِهِمْ، فَيَقُولُوْنَ: ادْعُوا خَزَنَةَ جَهَنَّمَ فَيَقُولُونَ: {قَالُوا أَوَلَمْ تَكُ تَأْتِيكُمْ رُسُلُكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ قَالُوا بَلَى قَالُوا فَادْعُوا وَمَا دُعَاءُ الْكَافِرِينَ إِلَّا فِي ضَلَالٍ} [غافر: 50] " قَالَ: "فَيَقُوْلُوْنَ: ادْعُوا مَالِكًا فَيَقُولُوْنَ: {يَامَالِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ} [الزخرف: 77] " قَالَ: "فيُجيبُهم: {إِنَّكُمْ مَاكِثُونَ} [الزخرف: 77] ". قَالَ الأَعْمَشُ: نُبُّئْتُ أَنَّ بَيْنَ دُعَائِهِمْ وَإِجَابَةِ مَالِكٍ إِيَّاهُمْ أَلْفَ عَامٍ. قَالَ: "فَيَقُولُونَ: ادْعُوا رَبَّكُّمْ، فَلَا أَحَدَ خَيْرٌ مِنْ رَبِّكُمْ، فَيَقُولُونَ: {رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَيْنَا شِقْوَتُنَا وَكُنَّا قَوْمًا ضَالِّينَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ} [المؤمنون: 106 - 107] " قَالَ: "فيُجيبُهم: اخْسَؤُوا فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ" قَالَ: "فَعِنْدَ ذَلِكَ يَئِسُوا مِنْ كُلِّ خَيْرٍ، وَعِنْدَ ذَلِكَ يَأْخُذُونَ فِي الزَّفِيرِ وَالْحَسْرَةِ وَالْوَيْلِ". قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: وَالنَّاسُ لَا يَرْفَعُونَ هَذَا الْحَدِيْثَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وعن أبي الدرداء قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "يلقى على أهل النار الجوع، فيعدل ما هم فيه من العذاب، فيستغيثون فيغاثون بطعام {من ضريع لا يسمن ولا يغني من جوع} [الغاشية: 6 - 7] ، فيستغيثون بالطعام، فيغاثون بطعام ذي غصة، فيذكرون أنهم كانوا يجيزون الغصص في الدنيا بالشراب، فيستغيثون بالشراب فيرفع إليهم الحميم بكلاليب الحديد، فإذا دنت من وجوههم شوت وجوههم، فإذا دخلت بطونهم قطعت ما في بطونهم، فيقولون: ادعوا خزنة جهنم فيقولون: {قالوا أولم تك تأتيكم رسلكم بالبينات قالوا بلى قالوا فادعوا وما دعاء الكافرين إلا في ضلال} [غافر: 50] " قال: "فيقولون: ادعوا مالكا فيقولون: {يامالك ليقض علينا ربك} [الزخرف: 77] " قال: "فيجيبهم: {إنكم ماكثون} [الزخرف: 77] ". قال الأعمش: نبئت أن بين دعائهم وإجابة مالك إياهم ألف عام. قال: "فيقولون: ادعوا ربكم، فلا أحد خير من ربكم، فيقولون: {ربنا غلبت علينا شقوتنا وكنا قوما ضالين ربنا أخرجنا منها فإن عدنا فإنا ظالمون} [المؤمنون: 106 - 107] " قال: "فيجيبهم: اخسؤوا فيها ولا تكلمون" قال: "فعند ذلك يئسوا من كل خير، وعند ذلك يأخذون في الزفير والحسرة والويل". قال عبد الله بن عبد الرحمن: والناس لا يرفعون هذا الحديث. رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوالدرداء سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ دوزخیوں پر بھوک مسلط کی جاوے تو یہ بھوک سارے عذابوں کے برابر ہوجاوے گی ۱∞؎جن میں وہ مبتلا ہیں وہ فریاد کریں گے تو وہ ضریع میں سے دیئے جائیں گے جو نہ موٹا کرے نہ بھوک سے نجات دے ۲؎پھر وہ کھانا مانگیں گے تو انہیں گالنے والا کھانا دیا جاوے گا۳؎تو انہیں یاد آوے گا کہ وہ دنیا میں کاہے پانی سے اتارتے تھے(نگلتے تھے)۴؎چنانچہ وہ پانی مانگیں گے تو ان کی طرف کھولتا پانی پیش کیا جاوے گا لوہے کی سنڈاسیوں سے ۵؎جب وہ ان کے منہ کے قریب ہوگا تو ان کے منہ بھون دے گا ۶؎پھر جب انکے پیٹ میں داخل ہوگا تو ان کے پیٹوں کی ہر چیز کاٹ ڈالے گا تو کہیں گے کہ دوزخ کے منتظمین کو پکارو ۷؎مگر منتظمین کہیں گے کیا تمہارے پاس تمہارے رسول دلیلیں نہیں لائے عرض کریں گے ہاں کہیں گے تو پکارے جاؤ کافروں کی پکاریں ہیں ہی برباد ۸؎پھرکہیں گے مالک کو پکارو کہیں گے اے مالک اب تو تمہارا رب ہمارا فیصلہ ہی کردے ۹؎فرمایا وہ انہیں جواب دے گا تم یہاں ہی رہو گے،اعمش فرماتے ہیں کہ مجھے خبر پہنچی ہے کہ دوزخیوں کی پکار اور مالک کے ان کو جواب دینے میں ایک ہزارسال کا فاصلہ ہوگا ۱۰؎پھر کہیں گے اپنے رب کو پکارو کہ تمہارے رب سے بہتر کوئی نہیں ۱۱∞؎تو کہیں گے اے ہمارے رب ہماری بدنصیبی ہم پر غالب آگئی اور ہم گمراہ قوم تھے ۱۲؎اے ہمارے رب ہم کو اس سے نکال اگر اب ہم کفر کی طرف لوٹ آئیں تو ہم ظالم ہیں۱۳؎فرمایا کہ انہیں جواب دے گا پڑے رہو اس میں مجھ سے بات نہ کرو۱۴؎فرمایا کہ اس وقت ہر بھلائی سے ناامید ہوجائیں گے۱۵؎اور اس وقت ندامت اور خرابی کی پکار میں مشغول ہوں گے۱۶؎عبداللہ ا بن عبدالرحمان نے فرمایا کہ لوگ اس حد یث کو مرفوع نہیں کرتے۱۷؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی دوزخیوں پر اس شدت کی بھوک مسلط کی جاوے گی کہ اس کی تکلیف دوزخ کی باقی تکلیف کے برابر ہو جاوے گی،اس سے یہ لوگ غذا کے لیے بے تاب ہوجاویں گے۔بھوک وہ چیز ہے کہ دنیا میں بعض دفعہ بھوکی عورتوں نے اپنے بچے ذبح کرکے کھالیے ہیں۔رب پناہ د ے! اس بھوک کی وجہ سے انہیں جو بھی کھانے کے لیے دیا جائے گا بے تأمل اسے دوڑ کر لیں اور کھائیں گے کہ کسی طرح پیٹ بھرے۔۲؎ضریععرب شریف میں ایک خار دار گھاس ہے جس کے کانٹے بھی خطرناک ہوتے ہیں اور وہ زہریلی بھی ہوتی ہے اسے جانور منہ نہیں لگاتے بلکہ جس زمین میں وہ ہو جانور ڈر کے مارے چرتے بھی نہیں وہاں ٹھہرتے بھی نہیں دوزخی پیٹ بھرنے کے لیے وہی کھائیں گے اور سخت تکلیف اٹھائیں گے مگر پیٹ اس سے بھی نہ بھرے گا۔۳؎اس حدیث کی تائید قرآن مجید کی اس آیت سے ہے"اِنَّ لَدَیۡنَاۤ اَنۡکَالًا وَّ جَحِیۡمًا وَّ طَعَامًا ذَا غُصَّۃٍ"یعنی کانٹوں والا کھانا یہ ہی ہے جو انہیں ضریع کے بعد دیا جاوے گا۔۴؎یعنی یہ کھانا جب نگلیں گے تو وہ ان کے حلق سے نہ اترے گا،پھنس جائے گا نہ اگل سکیں گے نہ نگل سکیں گے تب انہیں دنیا کا حال یاد آئے گا کہ ہم گلے میں اٹکا ہوا لقمہ پانی سے نگلتے تھے۔۵؎یہ بالٹیاں اور سنڈاسیاں قدرتی ہوں گی جس میں کھولتا پانی بھرا ہوگا،فرشتے ان بالٹیوں کو اٹھائے ہوں گے اس کا ذکر یہاں ہے۔اس پانی کی گرمی اس حد تک ہوگی کہ کوئی شخص نہ اس بالٹی کے قریب جاسکے گا نہ ہاتھ لگا سکے اس کا ذکر آگے آرہا ہے۔۶؎جس پانی کی گرمی کا یہ حال ہو وہ جب منہ میں یا پیٹ میں پہنچے گا تو کیا حال ہوگا اس بلا سے رب تعالٰی بچائے۔۷؎یعنی آپس میں ایک دوسرے سے کہیں گے کہ دوزخ کے داروغہ مالک سے اور دیگر متعلقہ فرشتوں سے عرض کرو کہ ہم کو اس عذاب سے نجات ملے یا موت دے دی جائے۔خیال رہے کہ د وزخی کبھی تو فرشتوں کو پکاریں گے،کبھی رب تعالٰی کو پکاریں گے لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں"ادْعُوۡا رَبَّکُمْ یُخَفِّفْ عَنَّا یَوْمًا مِّنَ الْعَذَابِ"وہاں دوسری پکار کا ذکر ہے۔۸؎اس فرمان عالی سے معلوم ہوا کہ یہ آیت قیامت کے متعلق ہے کہ دوزخ میں کفار کی دعا پکاربے کار ہوگی کچھ نہ سنی جائے گی، دنیا میں کفار کی بعض دعائیں قبول ہوجاتی ہیں،شیطان نے درازیٔ عمر کی دعا کی جو قبول ہوئی"اِنَّکَ مِنَ المُنۡظَرِیۡنَ(مرقات)اس آیت کے معنی ایک یہ بھی کئے گئے ہیں کہ کافروں کے لیے ان کی نجات کےلیے کسی کی دعا قبو ل نہیں ایسی دعائیں برباد ہیں۔(مرقات)۹؎یہاں فیصلہ سے مراد موت کا فیصلہ ہے یعنی ہم کو موت دے دے حکمی فیصلہ تو پہلے ہی ہوچکا ہے کہ وہ دوزخ میں رہیں۔۱۰؎اس ایک ہزار سال میں برابر چیختے چلاتے ہی رہیں گے جواب کا انتظار بھی کریں گے اور چیختے چلاتے بھی رہیں گے۔۱۱∞؎یعنی وہ ارحم الراحمین ہے۔کاش دنیا میں وہ لوگ یہ مانتے اطاعت کرلیتے تو یہ دن کیوں دیکھتے۔۱۲؎اگر یہ بات دنیا میں وہ لوگ مان لیتے اور ایمان قبول کرلیتے تو یہ نوبت نہ آتی ہر کام وقت پر ہی درست ہوتا ہے توبہ اور ایمان کا وقت یہ زندگی ہے موت کی سکرات کے وقت کا ایمان بھی قبول نہیں چہ جائیکہ اس وقت کا ایمان۔۱۳؎یعنی ابھی ہم ظالم نہیں بلکہ دھوکا کھانے والوں میں ہیں ہم دنیا میں دھوکا کھا گئے کہ یہ جگہ ہم نے دیکھی نہ تھی نبیوں کا ہم نے اعتبار نہ کیا اب ہم یہ عذاب اپنی آنکھوں دیکھ چکے،اگر دوبارہ دنیا میں جا کر تیری نافرمانی کریں تو واقعی ہم بڑے مجرم ہوں گے ایک بار ہم کو دنیا میں اور بھیج دے ہمیں موقعہ اور عطا فرما۔۱۴؎یعنی تمہاری درخواست نامنظور ہے۔اس ایمان و اعمال کا اعتبار ہے جو نبی کی زبان پر اعتماد کرکے بے دیکھے اختیار کیا جائے اب تم نے یہ عذاب اپنی آنکھوں دیکھ لیا اگر تم دنیا میں جا کر ایمان لاؤ بھی تو بھی ایمان بالغیب تم کو میسر نہ ہوگا ایمان بالشہادۃ ہوگا جو مردود ہے،یا یہ مطلب ہے کہ اگر تم دوبارہ دنیامیں گئے تو بھی کفر و شرک و بدکاری ہی کرو گے عادی مجرم جب چھوٹتا ہے لوٹتا ہے لہذا ہم سے اس بارے میں کلام ہی نہ کرو ایسی درخواست پیش نہ کرو تمہاری اپیل خارج۔۱۵؎کیونکہ اپیل کی آخری عدالت یہ ہی تھی جب یہاں سے ہی اپیل خارج ہوگئی تو اب کہاں جا کر فریاد کریں۔۱۶؎اگرچہ اس سے پہلے بھی وہ شور مچاتے رہے تھے مگر وہ شوروغل تکلیف کا تھا یہ شوروغل مایوسی اور حسرت افسوس کا ہوگا اور کیسا ہوگا وہ رب تعالٰی ہی جانے اس کا بیان نہیں ہوسکتا۔۱۷؎یعنی اس روایت میں یہ حدیث مرفوع ہے مگر محدثین عمومًا اسے مرفوع نہیں کرتے بلکہ حضرت ابوالدرداء پر موقوف کرتے ہیں۔لیکن خیال رہے کہ ایسی موقوف حدیثیں مرفوع کے حکم میں ہوتی ہیں کہ ان میں قیاس کو دخل نہیں،صحابی ایسی بات حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے سن کر ہی کہہ سکتے ہیں۔(مرقات،اشعہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5686