Main Icon

باب : آگ اور آگ والوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5672

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "مَا بَيْنَ مَنْكِبَي الْكَافِرِ فِي النَّارِ مَسِيرَةَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ لِلرَّاكِبِ الْمُسْرِعِ". وَفِي رِوَايَةٍ: "ضِرْسُ الْكَافِرِ مِثْلُ أُحُدٍ، وَغِلَظُ جِلْدِهِ مَسِيرَةُ ثَلَاثٍ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
وَذُكِرَ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ: "إِذَا اشْتَكَتِ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا". فِي "بَابِ تَعْجِيلِ الصَّلَوَاتِ".

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "ما بين منكبي الكافر في النار مسيرة ثلاثة أيام للراكب المسرع". وفي رواية: "ضرس الكافر مثل أحد، وغلظ جلده مسيرة ثلاث". رواه مسلم.
وذكر حديث أبي هريرة: "إذا اشتكت النار إلى ربها". في "باب تعجيل الصلوات".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ دوزخ میں کافر کے دو کندھوں کے درمیان فاصلہ تیز سوار کی تین دن کی راہ کا ہوگا ۱∞؎اور ایک روایت میں ہے کہ کافر کی داڑھ احد پہاڑ کی طرح ہوگی ۲؎اور اس کی کھال کی موٹائی تین دن کی راہ ۳؎اور حضرت ابوہریرہ کی حدیث کہ آگ نے اپنے رب سے شکایت کی،تعجیل نمازکے بیان میں ذکر کردی گئی ۴؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی دوزخ میں پہنچ کر کافر کا جسم بہت ہی بڑا ہوجائے گا،بڑے جسم کو آگ بھی زیادہ گھیرے گی تکلیف بھی زیادہ دے گی۔وہ جو حدیث شریف میں ہے کہ متکبر لوگ چیونٹیوں کی طرح ہوں گے وہاں محشر کے میدان کا ذکر ہے کہ وہ محشر میں چھوٹے ذلیل بے مقدار ہوں گے دوزخ میں پہنچ کر بڑے موٹے ہوجائیں گے لہذا حدیث میں تعارض نہیں،نیز یہ جسم کی موٹائی کفار کے لیے ہوگی گنہگارمؤمنوں کے لیے نہیں۔(مرقات)۲؎احد مدینہ منورہ کے مشہور پہاڑ کا نام ہے،چونکہ وہ کسی پہاڑ سے ملا ہوا نہیں اس لیے احد کہلاتا ہے احد کے معنی ہیں اکیلا۔جب کافر کے منہ کی ایک ڈاڑھ احد پہاڑ جیسی تو سوچ لو کہ اس کا منہ کیسا ہوگا،پھر جسم کتنا بڑا ہوگا،اس کی شکل بھی انسانوں کی سی نہ ہوگی کتوں، گدھوں،سؤروں کی شکل میں ہوں گے۔۳؎حدیث کے بالکل ظاہر ی معنی پر ہی ایمان لانا چاہیے بلاوجہ کسی قسم کی تاویل ایچ پیچ ہیر پھیر نہیں کرنا چاہیے۔اللہ تعالٰی ہر چیز پر قادر ہے،میں نے مچھلی کا ایک کانٹا موٹے شہتیر کی برابر دیکھا۔۴؎یعنی وہ حدیث مصابیح میں یہاں تھی میں نے اس جگہ بیان کردی یہاں سے ہٹا کر کیونکہ اس باب سے زیادہ مناسب تھی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5672