Main Icon

باب : قرآنی سجدے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1023

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْن عَبَّاسٍ قَالَ: سَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّجْمِ وَسَجَدَ مَعَهُ المُسْلِمونَ وَالْمُشْرِكُونَ وَالْجِنُّ وَالْإِنْسُ. رَوَاهُ البُخَارِيّ

عن ابن عباس قال: سجد النبي صلى الله عليه وسلم بالنجم وسجد معه المسلمون والمشركون والجن والإنس. رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے سورۂ نجم میں سجدہ کیا اور آپ کے ساتھ مسلمانوں، مشرکوں اور جن و انس نے سجدہ کیا ۱؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎حضور علیہ السلام نے سجدے کی آیت پڑھ کر اور صحابہ نے سن کر سجدہ کیا،مشرکین نے اس موقعہ پر یا تواپنے بتوں لات و عزیٰ کا ذکر سن کر سجدہ کیا یا حضور علیہ السلام سے ذکر الٰہی سن کر مرعوب ہوئے اور سجدہ میں گر گئے۔بعض روایا ت میں آیا ہے کہ اس موقع پر شیطان نے حضور علیہ السلام کی سی آواز بنا کر بتوں کی تعریف کی یا بغیر قصد حضور علیہ السلام کی زبان پر وہ الفاظ جاری ہوئے،مشرکین سمجھے کہ حضور علیہ السلام ہمارے دین کی طرف لوٹ آئے تو شکرانہ کے طور پر وہ سجدے میں گر گئے یعنی مسلمانوں نے سجدۂ تلاوت کیا اور مشرکوں نے اپنی غلط فہمی پر سجدۂ شکر مگر آپ کی زبان پر بتوں کی تعریف جاری ہونے کی روایت باطل محض ہے اور شیطان کا اپنی آواز کو حضور علیہ السلام کی آواز کی مثل بنا کر یہ کہہ دینا اسے بھی حضرت شیخ نے لمعات میں اور ملا علی قاری نے مرقاۃ میں باطل قرار دیا اور اس قصہ کو موضوع قرار دیا اور فرمایا کہ یہ مؤرخین کی ایجاد ہے،محدثین نے اسے نہیں لیا لیکن بعض علماء نے"اَلْقَی الشَّیۡطٰنُ فِیۡۤ اُمْنِیَّتِہ"کی تفسیر میں یہ پہلا واقعہ بیان کیا یعنی شیطان کا یہ کہہ دینا معلوم ہوتا ہے،صحابہ نے اس موقع پر جنات کو بھی سجدہ کرتے دیکھا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1023