Main Icon

باب : قرآنی سجدے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1037

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ (وَالنَّجْمِ)فَسَجَدَ فِيهَا وَسَجَدَ مَنْ كَانَ مَعَهٗ غَيْرَ أَنَّ شَيْخًا مِنْ قُرَيْشٍ أَخَذَ كَفًّا مِنْ حَصًى أَوْ تُرَابٍ فَرَفَعَهُ الٰى جَبْهَتِهٖ وَقَالَ: يَكْفِينِي هَذَا. قَالَ عَبْدُ اللهِ : فَلَقَدْ رَأَيْتُهٗ بَعْدُ قُتِلَ كَافِرًا. وَزَادَ الْبُخَارِيُّ فِي رِوَايَةٍ: وَهُوَ أُمَيَّةُ بْنُ خَلْفٍ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عن ابن مسعود: أن النبي صلى الله عليه وسلم قرأ (والنجم)فسجد فيها وسجد من كان معه غير أن شيخا من قريش أخذ كفا من حصى أو تراب فرفعه الى جبهته وقال: يكفيني هذا. قال عبد الله : فلقد رأيته بعد قتل كافرا. وزاد البخاري في رواية: وهو أمية بن خلف(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے سورۂوَالنَّجْمپڑھی تو اس میں آپ نے بھی سجدہ کیا اور انہوں نے بھی جو آ پ کے ساتھ تھے ۱؎ایک قریشی بڈھے کے سوا ء جس نے ایک مٹھی کنکریا مٹی اٹھا کر اپنی پیشانی سے لگا لی اور بولا مجھے یہی کافی ہے ۲؎عبد الله فرماتے ہیں میں نے بعد میں اسے دیکھا کہ کافر مارا گیا ۳؎(مسلم،بخاری)اور بخاری نے اپنی روایت میں زیادہ کیا کہ وہ امیہ ابن خلف تھا ۴؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی مؤمنین،مشرکین،انسان،جن جو بھی وہاں حاضر تھے سب سجدے میں گر گئے۔اس کی وجہ پہلے بیان ہوچکی کہ چونکہ سورۂوالنجممیں یہاں لات و عزیٰ کا بھی ذکر ہے۔اس لیے مشرکین نے ان کی تعظیم کرتے ہوئے سجدہ کیا یا اس وقت حضور صلی الله علیہ وسلم کی تلاوت میں ایسی ہیبت تھی کہ مشرکین بھی بے اختیار سجدے میں گر گئے۔ یا اس وقت شیطان نے بتوں کی تعریف کی،مسلمان تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی آواز پر سجدے میں گرے ا ور کفار شیطان کی آواز پر۔یہ محض باطل ہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم کی زبان پر بے اختیار اس وقت بتوں کی آواز آگئی،نعوذ بالله،امام عسقلانی نے شرح بخاری میں شیطان والے قصہ کو ثابت کیا ہے،رب تعالٰی نے فرمایا:"اَلْقَی الشَّیۡطٰنُ فِیۡۤ اُمْنِیَّتِہ
۲
؎اس کی یہ حرکت غرور و تکبر کے لیے تھی کہ سب کے ساتھ میرا سجدہ کرنا میری شان کے خلاف ہے۱۲
۳
؎یعنی جن مشرکین نے آج سجدہ کیا تھا وہ سب بعد میں اسلام لے آئے جس نے سجدہ نہ کیا وہ کافر ہی مارا گیا۱۲
۴
؎جو بدر میں مسلمانوں کے ہاتھوں بری طرح مارا گیا جیسے یہ حضرت بلال کو برچھیوں اور نیزوں سے چھیدا کرتا تھا اسی طرح بدر میں صورت یہ بنی کہ اسے چھید چھید کر ہی مارنا پڑا کیونکہ ایک صحابی رضی الله عنہ نے ایفائے عہد کرتے ہوئے اسے بچانے کے لیے خود کو اس کے اوپر ڈال دیا تھا اور اس کا بھائی ابی بن خلف جنگ احد میں حضور صلی الله علیہ وسلم کے ہاتھوں مارا گیا حضور صلی الله علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے صرف اسی کو قتل فرمایا ہے۱۲

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1037