Main Icon

باب:قرأت قرآن کے متعلق متفرق مضامین کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2211

قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيْمِ بْنِ حِزَامٍ يقْرَأ سُوْرَةَ الْفُرْقَانِ عَلٰى غَيْرِ مَا أَقْرَؤهَا، وَكَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- أَقْرَأَنِيْهَا، فَكِدْتُ أَنْ أَعْجَلَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَمْهَلْتُهٗ حَتّٰى انْصَرَفَ، ثُمَّ لَبَّبْتُهٗ بِرِدَائِهٖ فجِئْتُ بِهٖ رَسُوْلَ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-، فَقلت: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! إِنِّيْ سَمِعْتُ هٰذَا يَقْرَأُ سُوْرَةَ الْفُرْقَانِ عَلٰى غَيْرِ مَا أَقْرَأْتَنِيْهَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "أَرْسِلْهُ، اِقْرَأ" فَقَرَأَ الْقِرَاءَةَ الَّتِيْ سَمِعْتُهٗ يَقْرَأُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "هَكَذَا أُنْزِلَتْ"، ثُمَّ قَالَ لِيْ: "اِقْرَأ" فَقَرَأتُ، فَقَالَ: "هَكَذَا أُنْزِلَتْ، إِنَّ هٰذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلٰى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، فَاقْرَؤُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَالْلَفْظ لِمُسْلِمٍ.

عن عمر بن الخطاب قال: سمعت هشام بن حكيم بن حزام يقرأ سورة الفرقان على غير ما أقرؤها، وكان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أقرأنيها، فكدت أن أعجل عليه، ثم أمهلته حتى انصرف، ثم لببته بردائه فجئت به رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، فقلت: يا رسول الله! إني سمعت هذا يقرأ سورة الفرقان على غير ما أقرأتنيها، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "أرسله، اقرأ" فقرأ القراءة التي سمعته يقرأ، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "هكذا أنزلت"، ثم قال لي: "اقرأ" فقرأت، فقال: "هكذا أنزلت، إن هذا القرآن أنزل على سبعة أحرف، فاقرؤوا ما تيسر منه". متفق عليه. واللفظ لمسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب سے فرماتے ہیں میں نے ہشام ابن حکیم ابن حزام کو سنا ۱؎کہ وہ سورہ فرقان اس کے خلاف پڑھ رہے ہیں جو میں پڑھتا تھا اور مجھے یہ سورہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے پڑھائی تھی ۲؎قریب تھا کہ میں ان پر جلدی کر بیٹھوں مگر میں نے انہیں مہلت دی حتی کہ فارغ ہوگئے پھر میں نے انہیں ان ہی کی چادر میں لپیٹ لیا ۳؎پھر انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی بارگاہ میں لایا اور عرض کیا یارسول اللہ میں نے انہیں سنا کہ سورۂ فرقان اس کے علاوہ پڑھ رہے ہیں جو مجھے حضور نے پڑھائی ہے ۴؎تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا انہیں چھوڑ دو۵؎ہشام پڑھو انہوں نے وہ ہی قرأت تلاوت کی جو میں نے انہیں تلاوت کرتے سنی تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا یوں ہی اتری ہے پھر مجھ سے فرمایا پڑ ھو میں نے پڑھی فرمایا یوں بھی اتری ہے یہ قرآن سات قرأت پر اترا ہے۔جس طرح آسان ہو تلاوت کرلیا کرو ۶؎(مسلم، بخاری)اور لفظ مسلم کے ہیں ۷؎

شرح حدیث

۱∞؎پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ حکیم ابن حزام قرشی ہیں حضرت ام المؤمنین خدیجۃ الکبری کے بھتیجے ہیں فتح مکہ کے دن ایمان لائے آپ کے ساری اولاد صحابی ہے ان میں سے ہشام بھی ہیں۔
۲
؎یعنی مجھے اپنی قرأت کے صحیح ہونے کا یقین تھا کیو نکہ میں نے کسی اور سے نہ سیکھی تھی خو د حصور انور صلی اللہ علیہ و سلم سے سیکھی تھی اس لیے مجھے شبہ ہوا کہ ہشام دیدہ و دانستہ قرآن غلط پڑ ھ رہے ہیں۔
۳
؎اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ دین میں کسی کی رعایت نہیں عزیز قریبی ہو یا اجنبی معمولی آدمی ہو یا بڑا۔ دوسرے یہ کہ تلاوت قرآن کا بڑا احترام ہے کسی شخص کو دوران تلاوت میں اس سے لڑنا جھگڑنا نہیں چاہیئے نہ اس کی تلاوت میں رکاوٹ ڈالئے دیکھو حضرت عمر قرآن کے الفاظ میں فرق دیکھ کر طیش میں آگئے مگر تلاوت ختم ہونے پر حضرت ہشام کو گویا گرفتار کرلیا نہ رعایۃً نہ قرابۃً کی تلاوت۔
۴
؎اس لیے میں انہیں گرفتار کرکے آپ کی خدمت میں لایا ہوں تاکہ آپ اس سے منع فرمادیں اورگزشتہ قصور پر سزا دیں۔ معلوم ہوا کہ حتی الامکان کسی ملزم کو خود سزا نہ دو حاکم سے فیصلہ کراؤ۔
۵
؎چونکہ حضرت عمر کا یہ طیش نفس کے لیے نہ تھا اللہ کے لیے تھا،نیز حضرت عمر مثل استاد کے تھے اور حضرت ہشام مثل شاگرد کے اس لیے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے نہ تو حضرت عمر پر عتاب فرمایا اور نہ انہیں حضرت ہشام سے معافی مانگنے کا حکم دیا جیسے حضرت موسی علیہ السلام نے حضرت ہارون کی بے قصور داڑھی سر کے بال پکڑ لیے انہیں کھینچا کیونکہ ماں باپ استاد شیخ اگر غلط فہمی سے کسی کو سزا ناجائز طور پر بھی دیدیں تب بھی مجرم نہیں۔
۶
؎محدثین فرماتے ہیں کہ قرآن شریف لغت قریش میں نازل ہوا مگر چونکہ عرب کے بہت سے قبیلے تھے جن کی زبانیں مختلف تھیں ہر قبیلہ کی زبان گراں معلوم ہوتی تھی،اپنی زبان آسان تھی اور زمانہ بالکل نیا تھا اندیشہ تھا کہ دوسرے قبیلے تلاوت قرآن چھوڑ دیں گے اسی لیے سات بلکہ سات سے بھی زیادہ طریقوں سے تلاوت کی اجازت دے دی گئی تھی،یہاں سات سے مراد بیان زیادتی ہے نہ کہ خاص یہ عدد اور حرف سے مراد طریقہ تلاوت ہے خواہ خود حرف کی ذات میں فرق ہو جیسےنُنْشِزُھَا زسے اورنُنْشِرُھَارائے مہملہ سے یا صفات حرف میں فرق ہو جیسے"مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِ"اور "مَلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِ"خواہ طریقہ ادا میں فرق ہو جیسے ادغام اظہار تفخیم،ترقیق،امالہ،مد قصر،تلیین وغیرہ مگر ان اختلاف کی وجہ سے معانی نہ بدلیں گے قرآن کریم کی سات قرأتیں تو متواتر ہیں اور چودہ شاذ،متواتر قرأتوں کی تلاوت کرے شاذ کی نہ کرے جیسے"فصیام ثلثہ ایام متوالیات"یا جیسے"و صلوۃ الوسطی صلوۃ العصر"وغیرہ اب ہماری قرأت ابو حفصعن عاصموالی ہے قاریوں کو چاہیئے کہ اس کی قرأۃ کیا کریں، ورنہ عوام میں فتنہ پھیلے گا اور لوگ ان قرأتوں کا انکار ہی کردیں گے۔
۷
؎بعض محدثین نے فرمایا کہ یہ حدیث متواتر ہے اکیس صحابہ سے مروی ہے شاید متواتر سے مراد متواتر المعنی ہو۔(مرقاۃ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2211