- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 3
- قرآن کے فضائل کا بیان
- حدیث نمبر 2211
باب:قرأت قرآن کے متعلق متفرق مضامین کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2211
قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيْمِ بْنِ حِزَامٍ يقْرَأ سُوْرَةَ الْفُرْقَانِ عَلٰى غَيْرِ مَا أَقْرَؤهَا، وَكَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- أَقْرَأَنِيْهَا، فَكِدْتُ أَنْ أَعْجَلَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَمْهَلْتُهٗ حَتّٰى انْصَرَفَ، ثُمَّ لَبَّبْتُهٗ بِرِدَائِهٖ فجِئْتُ بِهٖ رَسُوْلَ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-، فَقلت: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! إِنِّيْ سَمِعْتُ هٰذَا يَقْرَأُ سُوْرَةَ الْفُرْقَانِ عَلٰى غَيْرِ مَا أَقْرَأْتَنِيْهَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "أَرْسِلْهُ، اِقْرَأ" فَقَرَأَ الْقِرَاءَةَ الَّتِيْ سَمِعْتُهٗ يَقْرَأُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "هَكَذَا أُنْزِلَتْ"، ثُمَّ قَالَ لِيْ: "اِقْرَأ" فَقَرَأتُ، فَقَالَ: "هَكَذَا أُنْزِلَتْ، إِنَّ هٰذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلٰى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، فَاقْرَؤُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَالْلَفْظ لِمُسْلِمٍ.
عن عمر بن الخطاب قال: سمعت هشام بن حكيم بن حزام يقرأ سورة الفرقان على غير ما أقرؤها، وكان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أقرأنيها، فكدت أن أعجل عليه، ثم أمهلته حتى انصرف، ثم لببته بردائه فجئت به رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، فقلت: يا رسول الله! إني سمعت هذا يقرأ سورة الفرقان على غير ما أقرأتنيها، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "أرسله، اقرأ" فقرأ القراءة التي سمعته يقرأ، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "هكذا أنزلت"، ثم قال لي: "اقرأ" فقرأت، فقال: "هكذا أنزلت، إن هذا القرآن أنزل على سبعة أحرف، فاقرؤوا ما تيسر منه". متفق عليه. واللفظ لمسلم.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب سے فرماتے ہیں میں نے ہشام ابن حکیم ابن حزام کو سنا ۱؎کہ وہ سورہ فرقان اس کے خلاف پڑھ رہے ہیں جو میں پڑھتا تھا اور مجھے یہ سورہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے پڑھائی تھی ۲؎قریب تھا کہ میں ان پر جلدی کر بیٹھوں مگر میں نے انہیں مہلت دی حتی کہ فارغ ہوگئے پھر میں نے انہیں ان ہی کی چادر میں لپیٹ لیا ۳؎پھر انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی بارگاہ میں لایا اور عرض کیا یارسول اللہ میں نے انہیں سنا کہ سورۂ فرقان اس کے علاوہ پڑھ رہے ہیں جو مجھے حضور نے پڑھائی ہے ۴؎تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا انہیں چھوڑ دو۵؎ہشام پڑھو انہوں نے وہ ہی قرأت تلاوت کی جو میں نے انہیں تلاوت کرتے سنی تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا یوں ہی اتری ہے پھر مجھ سے فرمایا پڑ ھو میں نے پڑھی فرمایا یوں بھی اتری ہے یہ قرآن سات قرأت پر اترا ہے۔جس طرح آسان ہو تلاوت کرلیا کرو ۶؎(مسلم، بخاری)اور لفظ مسلم کے ہیں ۷؎
شرح حدیث
۱∞؎پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ حکیم ابن حزام قرشی ہیں حضرت ام المؤمنین خدیجۃ الکبری کے بھتیجے ہیں فتح مکہ کے دن ایمان لائے آپ کے ساری اولاد صحابی ہے ان میں سے ہشام بھی ہیں۔
۲؎یعنی مجھے اپنی قرأت کے صحیح ہونے کا یقین تھا کیو نکہ میں نے کسی اور سے نہ سیکھی تھی خو د حصور انور صلی اللہ علیہ و سلم سے سیکھی تھی اس لیے مجھے شبہ ہوا کہ ہشام دیدہ و دانستہ قرآن غلط پڑ ھ رہے ہیں۔
۳؎اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ دین میں کسی کی رعایت نہیں عزیز قریبی ہو یا اجنبی معمولی آدمی ہو یا بڑا۔ دوسرے یہ کہ تلاوت قرآن کا بڑا احترام ہے کسی شخص کو دوران تلاوت میں اس سے لڑنا جھگڑنا نہیں چاہیئے نہ اس کی تلاوت میں رکاوٹ ڈالئے دیکھو حضرت عمر قرآن کے الفاظ میں فرق دیکھ کر طیش میں آگئے مگر تلاوت ختم ہونے پر حضرت ہشام کو گویا گرفتار کرلیا نہ رعایۃً نہ قرابۃً کی تلاوت۔
۴؎اس لیے میں انہیں گرفتار کرکے آپ کی خدمت میں لایا ہوں تاکہ آپ اس سے منع فرمادیں اورگزشتہ قصور پر سزا دیں۔ معلوم ہوا کہ حتی الامکان کسی ملزم کو خود سزا نہ دو حاکم سے فیصلہ کراؤ۔
۵؎چونکہ حضرت عمر کا یہ طیش نفس کے لیے نہ تھا اللہ کے لیے تھا،نیز حضرت عمر مثل استاد کے تھے اور حضرت ہشام مثل شاگرد کے اس لیے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے نہ تو حضرت عمر پر عتاب فرمایا اور نہ انہیں حضرت ہشام سے معافی مانگنے کا حکم دیا جیسے حضرت موسی علیہ السلام نے حضرت ہارون کی بے قصور داڑھی سر کے بال پکڑ لیے انہیں کھینچا کیونکہ ماں باپ استاد شیخ اگر غلط فہمی سے کسی کو سزا ناجائز طور پر بھی دیدیں تب بھی مجرم نہیں۔
۶؎محدثین فرماتے ہیں کہ قرآن شریف لغت قریش میں نازل ہوا مگر چونکہ عرب کے بہت سے قبیلے تھے جن کی زبانیں مختلف تھیں ہر قبیلہ کی زبان گراں معلوم ہوتی تھی،اپنی زبان آسان تھی اور زمانہ بالکل نیا تھا اندیشہ تھا کہ دوسرے قبیلے تلاوت قرآن چھوڑ دیں گے اسی لیے سات بلکہ سات سے بھی زیادہ طریقوں سے تلاوت کی اجازت دے دی گئی تھی،یہاں سات سے مراد بیان زیادتی ہے نہ کہ خاص یہ عدد اور حرف سے مراد طریقہ تلاوت ہے خواہ خود حرف کی ذات میں فرق ہو جیسےنُنْشِزُھَا زسے اورنُنْشِرُھَارائے مہملہ سے یا صفات حرف میں فرق ہو جیسے"مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِ"اور "مَلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِ"خواہ طریقہ ادا میں فرق ہو جیسے ادغام اظہار تفخیم،ترقیق،امالہ،مد قصر،تلیین وغیرہ مگر ان اختلاف کی وجہ سے معانی نہ بدلیں گے قرآن کریم کی سات قرأتیں تو متواتر ہیں اور چودہ شاذ،متواتر قرأتوں کی تلاوت کرے شاذ کی نہ کرے جیسے"فصیام ثلثہ ایام متوالیات"یا جیسے"و صلوۃ الوسطی صلوۃ العصر"وغیرہ اب ہماری قرأت ابو حفصعن عاصموالی ہے قاریوں کو چاہیئے کہ اس کی قرأۃ کیا کریں، ورنہ عوام میں فتنہ پھیلے گا اور لوگ ان قرأتوں کا انکار ہی کردیں گے۔
۷؎بعض محدثین نے فرمایا کہ یہ حدیث متواتر ہے اکیس صحابہ سے مروی ہے شاید متواتر سے مراد متواتر المعنی ہو۔(مرقاۃ)
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2211