Main Icon

باب:قرأت قرآن کے متعلق متفرق مضامین کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2216

قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّهٗ مَرَّ عَلٰى قَاصٍّ يَقْرَأُ ثُمَّ يَسْأَلُ، فَاسْتَرْجَعَ ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَقُوْلُ:"مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَلْيَسْأَلِ اللّٰهَ بِهٖ، فَإِنَّهٗ سَيَجِيْءُ أَقْوَامٌ يَقْرَؤُوْنَ الْقُرْآنَ يَسْأَلُوْنَ بِهِ النَّاسَ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ.

وعن عمران بن حصين أنه مر على قاص يقرأ ثم يسأل، فاسترجع ثم قال: سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول:"من قرأ القرآن فليسأل الله به، فإنه سيجيء أقوام يقرؤون القرآن يسألون به الناس". رواه أحمد والترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے کہ وہ ایک قصہ خواں پر گزرے جو قرآن پڑھتا اور لوگوں سے مانگتا تھا ۱؎آپ نےإِنّا للّٰهپڑھی پھر فرمایا ۲؎میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جو قرآن پڑھے تو اس کے ذریعہ صر فسے مانگے عنقریب ایسی قومیں ہوں گی جو قرآن پڑ ھیں گی اس کے ذریعہ لوگوں سے مانگیں گی(احمد،ترمذی)۳؎

شرح حدیث

۱∞؎محدثین کی اصطلاح میںقاصّپیشہ ور واعظ کو کہتے ہیں جو اپنی تقریر میں احکام شرعیہ بیان نہ کرے صرف شعر اشعار قصے کہانیاں سنا کر لوگوں کو خوش کرنے کی کوشش کرے اگرچہ قرآن شریف ہی کے قصے سنائے مگر احکام سے خالی جیسے آج کل کے عام بے علم واعظین یہ سب قاص ہیں واعظ نہیں کہ واعظ تو نصیحت کرنے والوں کو کہتے ہیں وہ نصیحت نہیں کرتا صرف پیسے مانگتا ہے حاجت مند کسی کو نصیحت نہیں کر سکتا۔
۲
؎اس گناہ و بدعت و علامت قیامت کو دیکھ کر آپ کو سخت صدمہ ہوا اظہار رنج کے لیے آپ نےإِنّا للّٰهپڑھی۔
۳
؎یا تو اس طرح کہ دوران تلاوت میں جب آیت رحمت پر گزرے تو اس کے حصول کی دعا مانگ لے اور جب آیت عذاب تلاوت کرے تو اس سے پناہ مانگ لے یا اس طرح کہ تلاوت سے فارغ ہو کر دعا مانگے،معلوم ہوا کہ تلاوت سے فراغت پر خصوصًا ختم قرآن کے موقع پر دعا ضرور مانگی جائے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2216