Main Icon

باب:قرأت قرآن کے متعلق متفرق مضامین کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2214

قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَالَ: "أَقْرَأَنِيْ جِبْرِيْلُ عَلٰى حَرْفٍ فَرَاجَعْتُهٗ، فَلَمْ أَزَلْ أَسْتَزِيْدُهٗ وَيَزِيْدُنِيْ حَتَّى انْتَهَى إِلٰى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ". قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: بَلَغَنِيْ أَنَّ تِلْكَ السَّبْعَةَ الأَحْرُفَ إِنَّمَا هِيَ فِي الأَمْرِ تَكُوْنُ وَاحِدًا لَا تَخْتَلِفُ فِيْ حَلَالٍ وَلَا حَرَامٍ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن ابن عباس قال: إن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: "أقرأني جبريل على حرف فراجعته، فلم أزل أستزيده ويزيدني حتى انتهى إلى سبعة أحرف". قال ابن شهاب: بلغني أن تلك السبعة الأحرف إنما هي في الأمر تكون واحدا لا تختلف في حلال ولا حرام. متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا مجھے جبریل نے ایک قرأت پر قرآن پیش کیا تھا مگر میں نے انہیں واپس بھیجا میں رب سے زیادہ مانگتا رہا رب مجھے زیادہ دیتا رہا،حتی کہ سات قرأتوں تک پہنچ گیا ۱؎ابن شہاب فرماتے ہیں مجھے خبر ملی ہے کہ یہ سات قرأتیں حقیقتًا ایک ہی ہیں جو حلال و حرام میں مختلف نہیں ۲؎(مسلم، بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی پہلی ایک قرأت تو رب تعالٰی کی طرف سے میری بغیر طلب ملی،بقیہ چھ قرأتیں میری طلب پر عطا ہوئیں۔یہ قرآنی آیات بلکہ اسلامی احکام کا حال ہے کہ بعض تو خود ر ب تعالٰی نے عطا فرمائیں اور بعض حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی طلب و خواہش پر دی گئیں رب تعالٰی فرماتاہے:"قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْہِكَ فِی السَّمَآءِ"الایہ۔معلوم ہوا کہ تبدیلی قبلہ کا حکم اور ا س کی آیت حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی خواہش کی بنا پر ہے اس خواہش میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی محبوبیت کا اظہارہےـ
∞۲
؎ابن شہاب یعنی امام زہری کا مقصد یہ ہے کہ یہاںسبعۃ احرفسے مراد احکام قرآنی نہیں ہیں جیسا کہ بعض لوگوں نے سمجھا وہ بولے کہ قصے،مثالیں،امر،نہی حلال،حرام،محکم،متشابہ و غیرہ مضامین جو قرآن کریم میں وارد ہوئے یہاں وہ مرا دہیں،امام زہری فرماتے ہیں نہیں یہ مراد نہیں بلکہ سات قرأتیں مراد ہیں کہ ان قرأتوں میں صرف حروف کی ہیئتوں میں فرق ہوتا ہے معانی و احکام وغیرہ میں فرق نہیں ہوتا۔ علماء اصول نے فرمایا کہ قرآن میں مطلق مفید،عام،خاص،نص،قول،ناسخ،منسوخ،مجمل مفسر وغیرہ ہیں، نحویوں نے کہا کہ اس میں ذکر،حذف،تقدیم،،تاخیر،استعارہ،تکرار،کنایہ،حقیقت و مجاز وغیرہ ہیں۔صوفیاء نے فرمایا کہ قرآن میں زہد و قناعت،یقین،حرف،خدمت،حیاء،کرم،مجاہدہ،مراقبہ،خوف،امید،رضاء،شکر و صبر محبت شوق،مشاہدہ وغیرہ ہیں،یہاں وہ مراد ہے،مگر امام زہری کا قول قوی ہے کہ یہاں سات قرأتیں مراد ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2214