- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 3
- قرآن کے فضائل کا بیان
- حدیث نمبر 2220
باب:قرأت قرآن کے متعلق متفرق مضامین کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2220
قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: أَرْسَلَ إِلَيَّ أَبُوْ بَكْرٍ مَقْتَلَ أَهْلِ الْيَمَامَةِ، فَإِذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عِنْدَهٗ، قَالَ أَبُوْ بَكْرٍ: إِنَّ عُمَرَ أَتَانِيْ فَقَالَ:إِنَّ الْقَتْلَ قَدِ اسْتَحَرَّ يَوْمَ الْيَمَامَةِ بِقُرَّاءِ الْقُرْآنِ، وَإِنِّيْ أَخْشَى أَنِ اسْتَحَرَّ الْقَتْلُ بِالْقُرَّاءِ بِالْمَوَاطِنِ فَيَذْهَبَ كَثِيْرٌ مِنَ الْقُرْآنِ، وَإِنِّيْ أَرٰى أَنْ تَأْمُرَ بِجَمْعِ الْقُرْآنِ، قُلْتُ لِعُمَرَ: كَيْفَ تَفْعَلُ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-؟ فَقَالَ عُمَرُ: هٰذَا وَاللّٰهِ خَيْرٌ، فَلَمْ يَزَلْ عُمَرُ يُرَاجِعُنِيْ حَتّٰى شَرحَ اللّٰهُ صَدْرِيْ لذٰلِكَ، وَرَأَيْتُ فِيْ ذٰلِكَ الَّذِيْ رَأَى عُمَرُ، قَالَ زَيْدٌ: قَالَ أَبُوْ بَكْرٍ: إِنَّكَ رَجُلٌ شَابٌّ عَاقِلٌ لَا نَتَّهِمُكَ، وَقَدْ كُنْتَ تَكْتُبُ الْوَحْيَ لِرَسُوْلِ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-، فَتَتَبَّعِ الْقُرْآنَ فَاجْمَعْهُ،فَوَاللّٰهِ لَوْ كَلَّفُوْنِيْ نَقْلَ جَبَلٍ مِنَ الْحِبَالِ مَا كَانَ أَثْقَلَ عَلَيَّ مِمَّا أَمَرَنِيْ بِهٖ مِنْ جَمْعِ الْقُرْآن، قَالَ: قُلْتُ: كَيفَ تَفْعَلُوْنَ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-؟ قَالَ: هُوَ وَاللّٰهِ خَيْرٌ، فَلَمْ يَزَلْ أَبُوْ بَكْرٍ يُرَاجِعُنِيْ حَتّٰى شَرَحَ اللّٰهُ صَدْرِيْ لِلَّذِيْ شَرَحَ لَهٗ صَدْرَ أَبِيْ بَكْرٍ وَعُمَرَ، فَتَتَبَّعْتُ الْقُرْآنَ أَجْمَعُهٗ مِنَ الْعُسُبِ وَاللِّخَافِ وَصُدُوْرِ الرِّجَال، حَتّٰى وَجَدْتُ آخِرَ سُوْرَةِ التَّوبَةِ مَعَ أَبِيْ خُزَيْمَةَ الأَنْصَارِيِّ، لَمْ أَجِدْهَا مَعَ أَحَدٍ غَيْرِهٖ: لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُوْلٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ حَتّٰى خَاتِمَةِ بَرَاءَةَ، فَكَانَتِ الصُّحُفُ عِنْدَ أَبِيْ بَكْرٍ حَتّٰى تَوَفَّاهُ اللّٰهُ،ثُمَّ عِنْدَ عُمَرَ حَيَاتَهٗ، ثُمَّ عِنْدَ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ.
وعن زيد بن ثابت قال: أرسل إلي أبو بكر مقتل أهل اليمامة، فإذا عمر بن الخطاب عنده، قال أبو بكر: إن عمر أتاني فقال:إن القتل قد استحر يوم اليمامة بقراء القرآن، وإني أخشى أن استحر القتل بالقراء بالمواطن فيذهب كثير من القرآن، وإني أرى أن تأمر بجمع القرآن، قلت لعمر: كيف تفعل شيئا لم يفعله رسول الله -صلى الله عليه وسلم-؟ فقال عمر: هذا والله خير، فلم يزل عمر يراجعني حتى شرح الله صدري لذلك، ورأيت في ذلك الذي رأى عمر، قال زيد: قال أبو بكر: إنك رجل شاب عاقل لا نتهمك، وقد كنت تكتب الوحي لرسول الله -صلى الله عليه وسلم-، فتتبع القرآن فاجمعه،فوالله لو كلفوني نقل جبل من الحبال ما كان أثقل علي مما أمرني به من جمع القرآن، قال: قلت: كيف تفعلون شيئا لم يفعله رسول الله -صلى الله عليه وسلم-؟ قال: هو والله خير، فلم يزل أبو بكر يراجعني حتى شرح الله صدري للذي شرح له صدر أبي بكر وعمر، فتتبعت القرآن أجمعه من العسب واللخاف وصدور الرجال، حتى وجدت آخر سورة التوبة مع أبي خزيمة الأنصاري، لم أجدها مع أحد غيره: لقد جاءكم رسول من أنفسكم حتى خاتمة براءة، فكانت الصحف عند أبي بكر حتى توفاه الله،ثم عند عمر حياته، ثم عند حفصة بنت عمر. رواه البخاري.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت زید ابن ثابت سے فرماتے ہیں مجھے ابوبکر صدیق نے جنگ یمامہ کے موقعہ پر بلایا ۱؎تو حضرت عمر ابن خطاب آپ کے پاس تھے ابوبکر صدیق نے فرمایا کہ جناب عمر میرے پاس آئے تو بولے کہ یمامہ کے دن قرآن کے قاری بہت شہید ہو گئے میں ڈرتا ہوں کہ اگر اور چند جنگوں میں قاری شہید ہوتے رہے تو بہت سا قرآن ضائع ہوجائے گا ۲؎لہذا میری رائے یہ ہے آپ قرآن جمع کرنے کا حکم دے دیں ۳؎میں نے عمر سے کہا تم وہ کام کیسے کرسکتے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے نہ کیا ۴؎فرماتے ہیں کہ تب حضرت عمر نے کہا رب کی قسم یہ کام اچھا ہے حضرت عمر بار بار یہ کہتے رہے حتی کہ اللہ نے اس کام کے لیے میرا سینہ کشادہ کردیا ۵؎اور میں نے حضرت عمر کی رائے میں مصلحت دیکھی حضرت زید کہتے ہیں کہ جناب ابوبکر نے فرمایا تم جوان ہو عقلمند ہو ہمیں تم پر بداعتمادی نہیں ۶؎اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس وحی لکھتے رہے ہو ۷؎لہذا تم ہی قرآن تلاش کرو اور اسے جمع کردو ۸؎اللہ کی قسم اگر وہ مجھے پہاڑوں میں سے کسی پہاڑ کے ہٹادینے کا حکم دیتے وہ مجھ پر اتنا گراں نہ ہوتا جتنا قرآن جمع کرنے کا حکم مجھ پر بھاری پڑا ۹؎فرماتے ہیں میں نے کہا آپ وہ کام کیوں کرتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے نہ کیا حضرت صدیق نے فرمایا خدا کی قسم یہ کام بہت ہی اچھا ہے ۱۰؎پھر حضرت صدیق بار بار مجھے یہ فرماتے رہے حتی کہ اللہ نے میرا سینہ بھی اس کے لیے کھول دیا جس کے لیے حضرت صدیق و فاروق کا سینہ کھولا ۱۱؎پھر میں نے قرآن کی تلاش شروع کی کہ اسے خرمے کی شاخوں،پتھروں اور لوگوں کے سینوں سے جمع کرنے لگا۱۲؎حتی کہ سورہ توبہ کا آخری حصہ حضرت ابو خزیمہ انصاری کے پاس پایا ان کے سواء کسی کے پاس نہ ملا ۱۳؎یعنی لقد جاء کم رسول سے ختم سورۃ برات تک ۱۴؎پھر یہ اوراق حضرت ابوبکر کے پاس رہے حتی کہ رب نے انہیں وفات دی دی پھر تاحین حیات حضرت عمر کے پاس پھر حضرت حفصہ بنت عمر کے پاس ۱۵؎(بخاری)۱۶؎روایت ہے حضرت زید ابن ثابت سے فرماتے ہیں مجھے ابوبکر صدیق نے جنگ یمامہ کے موقعہ پر بلایا ۱؎تو حضرت عمر ابن خطاب آپ کے پاس تھے ابوبکر صدیق نے فرمایا کہ جناب عمر میرے پاس آئے تو بولے کہ یمامہ کے دن قرآن کے قاری بہت شہید ہو گئے میں ڈرتا ہوں کہ اگر اور چند جنگوں میں قاری شہید ہوتے رہے تو بہت سا قرآن ضائع ہوجائے گا ۲؎لہذا میری رائے یہ ہے آپ قرآن جمع کرنے کا حکم دے دیں ۳؎میں نے عمر سے کہا تم وہ کام کیسے کرسکتے جو رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے نہ کیا ۴؎فرماتے ہیں کہ تب حضرت عمر نے کہا رب کی قسم یہ کام اچھا ہے حضرت عمر بار بار یہ کہتے رہے حتی کہ اللہ نے اس کام کے لیے میرا سینہ کشادہ کردیا ۵؎اور میں نے حضرت عمر کی رائے میں مصلحت دیکھی حضرت زید کہتے ہیں کہ جناب ابوبکر نے فرمایا تم جوان ہو عقلمند ہو ہمیں تم پر بداعتمادی نہیں ۶؎اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس وحی لکھتے رہے ہو ۷؎لہذا تم ہی قرآن تلاش کرو اور اسے جمع کردو ۸؎اللہ کی قسم اگر وہ مجھے پہاڑوں میں سے کسی پہاڑ کے ہٹادینے کا حکم دیتے وہ مجھ پر اتنا گراں نہ ہوتا جتنا قرآن جمع کرنے کا حکم مجھ پر بھاری پڑا ۹؎فرماتے ہیں میں نے کہا آپ وہ کام کیوں کرتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے نہ کیا حضرت صدیق نے فرمایا خدا کی قسم یہ کام بہت ہی اچھا ہے ۱۰؎پھر حضرت صدیق بار بار مجھے یہ فرماتے رہے حتی کہ اللہ نے میرا سینہ بھی اس کے لیے کھول دیا جس کے لیے حضرت صدیق و فاروق کا سینہ کھولا ۱۱؎پھر میں نے قرآن کی تلاش شروع کی کہ اسے خرمے کی شاخوں،پتھروں اور لوگوں کے سینوں سے جمع کرنے لگا۱۲؎حتی کہ سورہ توبہ کا آخری حصہ حضرت ابو خزیمہ انصاری کے پاس پایا ان کے سواء کسی کے پاس نہ ملا ۱۳؎یعنی لقد جاء کم رسول سے ختم سورۃ برات تک ۱۴؎پھر یہ اوراق حضرت ابوبکر کے پاس رہے حتی کہ رب نے انہیں وفات دی دی پھر تاحین حیات حضرت عمر کے پاس پھر حضرت حفصہ بنت عمر کے پاس ۱۵؎(بخاری)۱۶؎
شرح حدیث
۱∞؎یمامہ ایک سر سبز شہر ہے جو مدینہ منورہ سے سولہ منزل پر واقع ہے ،یمامہ عورت کے نام پر رکھا گیا،وہاں قبیلہ بنی حنیفہ کے ایک شخص مسیلمہ نے دعویٰ نبوت کیا اس پر بہت لوگ ایمان لے آئے ان مرتدین سے حضرت ابوبکر صدیق نے جہاد کیا بڑے گھمسان کا رن پڑا بارہ سو مسلمان شہید ہوئے جن میں سات سو حافظ قرآن و قاری صحابہ بھی تھے قرآن کریم کی حفاظت خطرہ میں پڑ گئی حضرت خالد ابن ولید اسلامی سپہ سالار تھے،آخر حضرت وحشی نے مسلیمہ کو ہلاک کیا یہ کہہ کر کہ یہ حضرت حمزہ کے خون کا کفارہ ہے خولہ بنت جعفر حنیفہ اسی جنگ میں گرفتار آئیں، جو حضرت علی مرتضی کو دی گئیں جن سے محمد ابن حنیفہ پیدا ہوئے اس جنگ کی خبر قرآن کریم نے یوں"سَتُدْعَوْنَ اِلٰی قَوْمٍ اُولِیۡ بَاۡسٍ شَدِیۡدٍ"۔
۲؎کیونکہ ابھی تک قرآن کریم نہ تو جمع ہوا ہے نہ کتابی شکل میں باقاعدہ لکھا گیا ہے صرف سینوں میں ہے اگر یہ سینے ہی ختم ہوگئے تو قرآن بھی ختم ہوجائے گا۔
۳؎اے عمر فاروق اللہ تمہیں ہم سب کی طرف سے جزاء خیر دے تم ہی نے قرآن جمع کرایا اور تم ہی نے حفاظت قرآن کا ذریعہ قائم کیا،یعنی باقاعدہ تراویح کی جماعت میں ختم قرآن ہونا،اگر تراویح نہ ہوتی تو حفظ قرآن کا رواج بھی ختم ہوچکا ہوتا تمہارے احسان سے مسلمان تا قیامت سبکدوش نہیں ہو سکتے، اللہ تمہاری قبر انور نور سے بھر دے رضی اللہ تعالٰی عنہ۔
۴؎یعنی جمع قرآن بدعت ہے اور ہر بدعت بری ہوتی ہے لہذا یہ کام بھی بر ا ہوگا۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہر وہ کام جو حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ پاک میں نہ ہو وہ بدعت ہے اسی لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تراویح کی باقاعدہ جماعت کر کے فرمایانعمت البدعۃ ھٰذہیہ بڑی اچھی بدعت ہے یعنی سنت صحابہ شرعی بدعت ہے۔خیال رہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے زمانہ حیات میں قرآنی آیات کی ترتیب تو دے دی تھی کہ ہر آیت کے نزول پر فرمادیتے تھے کہ اسے فلاں سورۃ میں فلاں آیت کے بعد رکھو یہ ترتیب لوح محفوظ کی ترتیب کے موافق تھی مگر قرآن جمع نہ فرمایا تھا کیونکہ جمع ممکن نہ تھا آخر حیات شریف تک تو مختلف سورتوں کی مختلف آیتیں آتی رہی ہیں جمع قرآن کی یہ سعادت تو حضرت ابوبکر و عمر و عثمان غنی کے نصیب میں تھی۔
۵؎اور میں نے بھی یہ سمجھ لیا کہ ہربدعت بری نہیں ہوتی بلکہ بعض بدعتیں اچھی بھی ہوتی ہیں حتی کہ بدعت حسنہ مستحب کبھی واجب اور کبھی فرض بھی ہوتی ہے،اس وقت جمع قرآن بدعت تھا مگر فرض تھا،اس سے بدعت حسنہ کا قوی ثبوت ہوا۔
۶؎مجھے یقین ہوگیا کہ اس وقت جمع قرآن نہ کرنا یہ اس کے ضائع ہونے کا سبب ہوگا ۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ جمع قرآن بدعت تھا مگر خیر بدعت۔
۷؎یعنی جمع قرآن میں قوت کی بھی ضرورت ہے اور علم و حفظ اور دیانتداری کی بھی تم میں خدا کے فضل سے یہ سارے اوصا ف جمع ہیں۔
۸؎یعنی اکثر کتابت وحی تم نے کی ہے،مرقات نے فرمایا کہ کاتبین وحی چوبیس صحابہ تھے جس میں خلفائے راشدین بھی ہیں ہم نے اپنی کتاب،امیر معاویہ میں بحوالہ صواعق محرقہ وغیرہ لکھا ہے کہ کاتبین وحی تیرہ ہیں،یعنی زیادہ ترلکھنے والے خلفائے راشدین(۴)،عامر ابن فہیرہ(۵)،عبد اللہ ابن ارقم(۶)،ابی ابن کعب(۷)،ثابت ابن قیس(۸)،خالد ابن سعید ابن عاص(۹)،حنظلہ ابن ربیع سلمی(۱۰) ،زید ابن ثابت(۱۱)،معاویہ ابن ابی سفیان(۱۲)،شرجیل ابن حسنہ(۱۳)۔
۹؎یعنی یہ کام قریبًا سارے صحابہ کریں گے،مگر اس کے منتظم تم ہو گے،لہذا اس جملہ پر یہ اعتراض نہیں کہ پھر تو قرآن کریم متواتر نہ رہا ایک زید ابن ثابت کی روایت سے شروع ہوا۔
۱۰؎یا تو اس لیے کہ جمع قرآن کو میں نے بدعت جانا اور ناجائز سمجھا اس لیے کہ پہاڑ کا منتقل کرنا جسمانی مشقت سے ہے اور جمع قرآن میں جسمانی اور روحانی دونوں مشقتیں ہیں یا اس لیے کہ پہاڑ ٹال دینے میں کوئی زمہ داری نہیں اور جمع قرآن میں قیامت تک مسلمانوں کے ایمان و اعمال کی حفاظت کی ذمہ داری ہے کہ اگر ایک آیت میں ذرا سی بھی غلطی ہوگئی تو کسی کے نہ ایمان کی خیر ہے نہ اعمال کی۔
۱۱؎یعنی اگرچہ قرآن جمع کرنا بدعت ہے مگر اچھی بدعت ہے ۔خیال رہے کہ ایجادات صحابہ کو حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے سنت فرمایا ہےعلیکم بسنتی و سنۃ الخلفاء الراشدینلغوی معنے سے یعنی طریقہ و مسلک،رب تعالٰی نے فرمایاہے:"سُنَّۃَ مَنۡ قَدْ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنۡ رُّسُلِنَا"۔اور میں بھی سمجھ گیا کہ ہر بدعت بری نہیں ہوتی بعض بدعتیں اچھی بھی ہوتی ہیں جمع قرآن مجید ہے تو بدعت مگر اچھی ہے۔
۱۲؎خیال رہے کہ چار صحابہ کو قرآن کریم مکمل حفظ تھا،ابی ابن کعب،زید ابن ثابت،معاذ ابن جبل،ابوالدرداء رضی اللہ عنہم،مگر حضرت زید نے صرف اپنی یاد پر جمع نہ فرمایا بلکہ تمام صحابہ سے ہر آیت کی تائید حاصل کی چنانچہ مختلف آیتیں مختلف صحابہ سے مختلف طرح ملیں کسی کو صرف یاد تھیں، کسی کے پاس یاد کے علاوہ پتوں،پتھروں وغیرہ پر لکھی ہوئی بھی تھیں،حضرت زید بن ثابت نے ان تمام چیزوں کو جمع کیا،پھر اپنی یاد سے مقابلہ کیا پھر انہیں مختلف اوراق میں پرچوں کی شکل میں یکجا کرکے انہی دھاگہ سے باندھ کر ایک تھیلہ میں محفوظ کرلیا۔صدیق اکبر کے زمانہ میں جمع قرآن کی یہ نوعیت ہوئی کہ آیات قرآنیہ متفرق تھیں ایک دھاگہ اور ایک تھیلہ میں جمع ہوگئیں،حضرت عثمان غنی کے زمانہ میں یہ تمام پرزے اور ورق ایک کتابی شکل میں جمع کرکے ان کی مختلف نقلیں کرا کر ہر طرف بھیجی گئیں کتابی شکل میں قرآن کا آنا عہد عثمانی میں ہوا،اس لیے حضرت عثمان کو جامع قرآن کہا جاتا ہے۔خلاصہ یہ کہ جمع قرآن تین بار ہوا ایک بار تو عہد نبوی میں کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے حکم سے لوگوں نے اپنے ذہن میں ترتیب دے لیں،پھر عہد صدیقی میں کہ مختلف اوراق ایک دھاگہ ایک تھیلہ میں جمع ہوگئے پھر عہد عثمانی میں قرآن شریف کتابی شکل میں آگیا،لمعات و مرقات،اس تقریر سے تمام شبہات دفع ہوگئے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے خود جمع قرآن کیوں نہ کیا،یہ کہ جب جامع قرآن ابوبکر صدیق ہیں تو عثمان غنی کو جامع قرآن کیوں کہا جاتا ہے۔یہ کہ پھر تو قرآنی آیات متواتر نہ رہیں بعض مشکوک ہوگئیں جو محض اوراق یا پتوں یا پتھروں سے لی گئیں وغیرہ۔
۱۳؎یعنی یہ آیت ابوخزیمہ انصاری کے سواء کسی کے پاس لکھی ہوئی محفوظ نہ تھی یاد مجھے بھی تھی اور دوسرے صحابہ کو بھی مگر میں نے صرف اپنی یاد پر آیات جمع نہ کیں لہذا اس سے لازم یہ نہیں کہ یہ آیت متواتر نہ تھی۔
۱۴؎براءۃ سورۃ توبہ کا نام ہے کیونکہ اس کے اول میں ہے"بَرَآءَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ" یعنی سورۂ توبہ کی آخری آیت"لَقَدْ جَآءَکُمْ"سے "رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیۡمِ"تک صرف ابوخزیمہ انصاری کے پاس لکھی ہوئی ملی،مرقات نے فرمایا کہ الفاظ قرآن دلیل قطعی سے ثابت ہیں اور طریقہ کتابت دلیل ظنی سے۔
۱۵؎چونکہ صدیق اکبر کی حیات شریف میں ہی حضرت عمر خلیفہ ہوگئے تھے۔اس لیے اوراق آیات کا یہ تھیلہ عمر فاروق کو خود صدیق اکبر ہی نے عطا فرمادیا تھا اور حضرت فاروق کی زندگی میں خلیفہ مقرر نہ ہوا تھا بعد میں چناؤ ہونا تھا،اس لیے یہ اوراق جناب عمر کی صاحبزادی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی زوجہ مطہرہ ام المؤمنین حفصہ کے پاس امانۃ محفوظ رہے جو پھر حضرت عثمان نے ان سے منگالیے جس کا ذکر اگلی حدیث میں آرہا ہے ۔
۱۶؎یہاں مرقات نے حدیث حسن نقل کی کہ حضرت علی فرماتے ہیں کہ مسلمانوں پر احسان عظیم فرمانے والے ابوبکر صدیق ہیں اللہ ان پر رحمتوں کی بارش کرے کہ مسلمانوں کو قرآن جمع کرکے دے گئے وہ جو بعض لوگ کہتے ہیں کہ حضرت علی نے خفیہ قرآن جمع کیا وہ روافض کی گھڑی ہوئی ہے ورنہ وہ ضرور اس قرآن کی اشاعت کرتے قرآن تو اشاعت کے لیے آیا نہ کہ غار میں چھپانے کے لیے رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّ الَّذِیۡنَ یَکْتُمُوۡنَ مَاۤ اَنۡزَلْنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَالْہُدٰی مِنۡۢ بَعْدِ مَا بَیَّنّٰہُ لِلنَّاسِ فِی الْکِتٰبِ اُولٰٓئِكَ یَلۡعَنُہُمُ اللّٰہُ وَیَلْعَنُہُمُ اللّٰعِنُوۡنَ"یعنی قرآن چھپانے والے پر اللہ کی اور سب خلق کی لعنت ہے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2220