- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 3
- قرآن کے فضائل کا بیان
- حدیث نمبر 2213
باب:قرأت قرآن کے متعلق متفرق مضامین کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2213
قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: كُنْتُ فِي الْمَسْجِدِ، فَدَخَلَ رَجُلٌ يُصَلِّيْ، فَقَرَأَ قِرَاءَةً أَنْكَرْتُهَا عَلَيْهِ، ثُمَّ دَخَلَ آخَرُ فَقَرَأَ قِرَاءَةً سِوَى قِرَاءَةِ صَاحِبِهٖ ، فَلَمَّا قَضَيْنَا الصَّلَاةَ دَخَلْنَا جَمِيْعًا عَلٰى رَسُوْلِ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنَّ هٰذَا قَرَأَ قِرَاءَةً أَنْكَرْتُهَا عَلَيْهِ، وَدَخَلَ آخَرُ فَقَرَأَ سِوٰى قِرَاءَةِ صَاحِبِهٖ ، فَأَمَرَهُمَا النَّبِيُّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَقَرَأَا، فَحَسَّنَ شَأْنَهُمَا، فَسُقِطَ فِيْ نَفْسِيْ مِنَ التَّكْذِيْبِ وَلَا إِذْ كُنْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ,فَلَمَّا رَأَى رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- مَا قَدْ غَشِيَنِيْ ضَرَبَ فِيْ صَدْرِيْ، فَفِضْت عَرَقًا، وَكَأَنَّمَا أَنظُرُ إِلَى اللّٰهِ فَرَقًا، فَقَالَ لِيْ: "يَا أُبَيُّ! أُرْسِلَ إِلَيَّ: أَنِ اقْرَأ الْقُرْآنَ عَلٰى حَرْفٍ، فَرَدَدْتُ إِلَيْهِ: أَنْ هَوِّنْ عَلٰى أُمَّتِيْ، فَرَدَّ إِلَيَّ الثَّانِيَةَ: اقْرَأْهُ عَلٰى حَرْفَيْنِ، فَرَدَدْتُ إِلَيْهِ: أَنْ هَوِّنْ عَلٰى أُمَّتِيْ، فَرَدَّ إِلَيَّ الثَّالِثَةَ: اقْرَأْهُ عَلٰى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، وَلَكَ بِكُلِّ رَدَّةٍ رَدَدْتُكَهَا مَسْأَلَةٌ تَسْأَلُنِيْهَا، فَقُلْتُ: اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لأُمَّتِي، اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لأُمَّتِيْ، وَأَخَّرْتُ الثَّالِثَةَ لِيَوْمٍ يَرْغَبُ إِلَيَّ الْخَلْقُ كُلُّهُمْ حَتّٰى إِبْرَاهِيْمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
وعن أبي بن كعب قال: كنت في المسجد، فدخل رجل يصلي، فقرأ قراءة أنكرتها عليه، ثم دخل آخر فقرأ قراءة سوى قراءة صاحبه ، فلما قضينا الصلاة دخلنا جميعا على رسول الله -صلى الله عليه وسلم، فقلت: إن هذا قرأ قراءة أنكرتها عليه، ودخل آخر فقرأ سوى قراءة صاحبه ، فأمرهما النبي -صلى الله عليه وسلم- فقرأا، فحسن شأنهما، فسقط في نفسي من التكذيب ولا إذ كنت في الجاهلية,فلما رأى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- ما قد غشيني ضرب في صدري، ففضت عرقا، وكأنما أنظر إلى الله فرقا، فقال لي: "يا أبي! أرسل إلي: أن اقرأ القرآن على حرف، فرددت إليه: أن هون على أمتي، فرد إلي الثانية: اقرأه على حرفين، فرددت إليه: أن هون على أمتي، فرد إلي الثالثة: اقرأه على سبعة أحرف، ولك بكل ردة رددتكها مسألة تسألنيها، فقلت: اللهم اغفر لأمتي، اللهم اغفر لأمتي، وأخرت الثالثة ليوم يرغب إلي الخلق كلهم حتى إبراهيم عليه السلام". رواه مسلم.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابی ابن کعب سے فرماتے ہیں،میں مسجد میں تھا کہ ایک شخص آکر نماز پڑھنے لگا اس نے ایسی قرأت کی جس کا میں نے انکار کیا ۱؎پھر دوسرا شخص آیا تو اس نے بھی اس پہلے والے کی قرأۃ کے سواء اور قرأت کی ۲؎جب ہم نماز پڑھ چکے اور ہم سب رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۳؎تو میں نے عرض کیا کہ ان صاحب نے ایسی قرأت کی ہے جس کا میں انکاری ہوں اور دوسرے صاحب آئے تو انہوں نے ان کے سوا اور ہی قرأت کی تب نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ان دونوں کو حکم دیا انہوں نے قرأت کی ۴؎تو حضور نے ان کی تعریف کی اس سے میرے دل میں کچھ تردد پیدا ہوا ۵؎جو زمانہ جاہلیت میں نہ ہوا تھا۶؎جب رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے مجھ پر چھایا ہوا تردد ملاحظہ کیا تو میرے سینے پر دستِ اقدس مارا کہ میں پسینے سے نچڑ گیا اور ڈر سے میں ایسا ہوگیا گویا ر ب کو دیکھ رہا ہوں ۷؎مجھ سے فرمایا اے ابی قرآن مجھ پر ایک قرأت میں بھیجا گیا تھا میں نے رب کی بارگاہ میں رجوع کیا کہ الٰہی میری امت پر آسانی کر ر ب نے مجھے دوبارہ جواب دیا کہ دو قرأتوں پر پڑھ سکتے ہو پھر میں نے رب کی طرف رجوع کیا کہ میر ی امت پر آسانی فرما رب نے تبارہ جواب دیا کہ سات قرأتوں پر تلاوت کرسکتے ہو ۸؎اور اے محبوب تمہیں ہر بار عرض کے عوض ایک خصوصی دعا بخشے ہیں جو تم ہم سے مانگ لینا ۹؎میں نے عرض کیا الٰہی میری امت بخش دے الٰہی میری امت بخش دے ۱۰؎اور میں نے تیسری دعا اس دن کے لیے بچا رکھی ہے جب ساری خلقت حتی کہ ابراہیم علیہ السلام بھی میرے در پر شفاعت کے لیے آئیں گے ۱۱؎(مسلم)
شرح حدیث
۱∞؎غالبًا یہ قرأۃ نماز سے خارج ہوگی یعنی انہوں نے نماز سے فارغ ہو کر قرآن کریم تلاوت کی اس تلاوت میں یہ واقعہ پیش آیا انکار کی وجہ یہ ہوئی کہ حضرت ابی نے حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے اور طرح تلاوت سیکھی تھی اور یہ دوسری طرح تھی ان کے علم میں یہ بات نہ تھی کہ تلاوت قرآن مختلف طرح سے درست ہے یہاں انکار سے مراد دلی انکار ہے یعنی میں نے دل میں ان پر اعتراض کیا۔
۲؎یعنی ان دوسرے صاحب کی قرأت میری قرأت کے بھی خلاف تھی اور اس پہلے شخص کی قرأۃ کے بھی خلاف،اس سے میرا تعجب و انکار اور بڑھ گیا۔
۳؎مرقات نے فرمایا غالبًا یہ نماز چاشت تھی جو آگے پیچھے ان بزرگوں نے پڑھی،مسجد نبوی میں ان سب کا اجتماع ہوگیا فرض نماز ہوتی تو ایک ساتھ جماعت سے پڑھی جاتی لہذا حدیث بالکل ظاہر ہے،بعد نماز یہ حضرات حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے کسی حجرے میں حاضر ہوئے جہاں اس وقت حضور صلی اللہ علیہ و سلم جلوہ گر تھے۔
۴؎وہ ہی قرأتیں کی جو میں نے ان دونوں سے سنی تھیں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے دونوں کی ان مختلف قرأتوں کو صحیح فرمایا کہ تم بھی ٹھیک پڑ ھتے ہو اور تم بھی۔
۵؎ظاہر یہ ہے کہفسقطمعروف ہے اس لیے اس کے یہ معنے کیے گئے اور تکذیب سے مراد ہے اس کے کلام الٰہی ہونے کا انکار کہ اگر یہ کلام ربانی ہوتا تو ایک ہی طرح ہوتا چند طرح کیسا۔خیال رہے کہ بے اختیاری برے خیال کو وسوسہ کہتے ہیں اس پر نہ عذاب ہے نہ سزا یہ وسوسہ ہی تھا اس لیے حضرتاُبَیپر نہ فتویٰ کفر لگ سکتا ہے نہ فتویٰ فسق،اس لیےسقطفرمایا یعنی غیر اختیاری طور پر دل میں بدگمانی سی پیدا ہوئی۔
۶؎یعنی آج کا یہ انکار غیراختیاری اتنا قوی تھا کہ اس سے پہلے حالت کفر میں اس قسم کا اتنا سخت انکار میرے دل میں نہ آیا تھا۔خیال رہے کہ اس انکار کو اتنا سخت کہنا اس لیے ہے کہ پہلے تو وہ مسلمان تھے ہی نہیں اس وقت انکار کرنا اتنا بڑا جرم نہ تھا اب ہوچکے تھے مسلمان اور مسلمان ہو کر انکار بڑا جرم ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ اتنا خطرناک انکار زمانہ کفر میں میرے دل میں نہ آیا تھا اس انکار کو خطرناک جاننا کمال ایمان کی دلیل ہے اور یہ ندامت بہترین عبادت۔ ہوسکتا ہے کہ پوشیدہ ہو اورمن التکذیبکی تعلیلہ یعنی اس غیر اختیاری تکذیب کی وجہ سے مجھے اتنی شرمندگی ہوئی اور میرے دل میں ایسی ندامت واقع ہوئی کہ ایسی ندامت اس سے پہلے کبھی نہ ہوئی تھی نہ کفر میں نہ اسلام میں اس صورت میں معنی بالکل واضح ہیں۔
۷؎اس واقع میں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے تین معجزے ظاہر ہوئے:ایک یہ حضرت ابی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی ندامت و شرمندگی معلوم فرمالینا دوسرے دست اقدس رکھ کر اس انکار اور ندامت کو ختم فرمادینا،تیسرے حضرت ابی ابن کعب کواحسان کے اعلیٰ درجہ پر پہنچا دینا کہ حضرت ابی کو یہ محسوس ہونے لگا کہ میں رب کو دیکھ رہا ہو ا اس وقت جو فیضان ہوا ہوگا وہ بیان سے باہر ہے حضرت ابی کو پسینہ آجانا قوت فیض کی بنا پر تھا حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کو جاڑوں کے موسم میں وحی نازل ہونے پر پسینہ آجاتا تھا بعض مشا ئخ اپنے مریدین کو ان کے سینے پرہاتھ مار کر فیض دیتے ہیں ان کا ماخذ یہ حدیث ہے۔
۸؎سرکار عالی کا یہ ارشاد فرمانا جنانی تسکین عطا فرمانے کے بعد لسانی تسکین ہے حضرت ابی کو اطمینان تو پہلے ہی ہوچکا تھا مگر وہ بیان میں نہ آسکتا تھا اب کلامًا ارشاد فرمایا جس کی تبلیغ بھی ہو سکتی ہے گویا پہلے طریقت سکھائی پھر شریعت بتائی۔
۹؎یعنی اے محبوب ہم تو پہلے ہی جانتے تھے کہ قرآن کریم کی قرأتیں سات ہوں گی مگر ہمارا منشاء یہ تھا کہ یہ آسانی تمہاری طلب پر دیں تاکہ ہماری یہ نعمت امت کو تمہارے طفیل ملے جیسے پچاس نمازوں کی پانچ رہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی عرض اور تمہاری کوشش سے اور ہم کو تمہاری یہ عرض و معروض ایسی پیاری معلوم ہوئیں کہ ہم تمہیں ہر عرض پر ایک انعام خاص بخشے ہیں کہ تم نے تین بار عرض کیا ہم تمہیں تین خصوصی دعائیں دیتے ہیں جو مانگو سو پاؤ۔
۱۰؎اس رحمت والے داتا کے قربان اس کی دین کے صدقے اس وقت حضور اپنے اور اپنی اولاد کے لیے جو چاہتے مانگ لیتے مگر امت کو یاد فرمایا۔خیال رہے کہ پہلی بخشش سے کبیرہ گناہوں کی بخشش مراد ہے اور دوسری بخشش سے صغیرہ گناہوں کی مغفرت مقصود یعنی الٰہی میری امت کے چھوٹے بڑے سارے گناہ بخش دے چونکہ یہ بخششیں صرف مجرم مسلمانوں کے لیے ہی ہوسکتی ہیں اس لیے اپنی امت کا ذکر کیا۔
۱۱؎یعنی تیسری دعا قیامت کے لیے اٹھا رکھی ہے اس دعا کا فائدہ کفار،مسلمان گنہگار،نیک کار انبیائے کرام،اولیائے عظام سب ہی اٹھائیں گے کہ اس دعا سے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم شفاعت کبریٰ کا دروازہ کھولیں گے اس کی برکت سے کفار کو میدان محشر سے نجات ہم گنہگاروں کو دوزخ سے نجات،نیک کاروں کو رفع درجات میسر ہوں گے اور سب کے لیے عرض حاجات کا دروازہ کھل جائے گا اور حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے نام کی دھوم مچ جائے گی۔شعر
گرتے ہوؤں کو مژدہ سجدہ میں گرے مولا رو رو کے شفاعت کی تمہید اٹھائی ہےاللھم صل وسلم وبارك علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وسلم
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2213