Main Icon

باب:قرأت قرآن کے متعلق متفرق مضامین کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2218

قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- لَا يَعْرِفُ فَصْلَ السُّوْرَةِ حَتّٰى يَنْزِلَ عَلَيْهِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

وعن ابن عباس قال: كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- لا يعرف فصل السورة حتى ينزل عليه بسم الله الرحمن الرحيم . رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سورتوں میں فاصلہ نہ پہچانتے تھے حتی کہ آپ پربسم الله الرحمن الرحیماتری تھی ۱؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یہ حدیث مذہب حنفی کی قوی دلیل ہے کہبسم الله الرحمن الرحیمہر سورت کا جزء نہیں ہے بلکہ سورتوں کے درمیان فیصلہ کے لیے نازل فرمائی گئی ہے اسی لیے امام جہری نمازوں میںبسم اللهبلند آواز سے نہیں پڑھتا اور جب حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم پرسب سے پہلی سورۃ یعنیاقرأ باسم ربكاتری توبسم اللهنہ اتری کہ یہ نزول میں پہلی سورت تھی یہاں فصل کرنے کی ضرورت نہ تھی اور اس لیےبسم اللهدوسری آیتوں سے ملا کر نہیں لکھی جاتی بلکہ علیحدہ سطر میں لکھی جاتی ہیں اور اس لیے سورۃ توبہ میںبسم اللهنہ لکھی گئی کیونکہ وہاںبسم اللهکی جگہ معلوم نہ ہوسکی سورۃ توبہ کا علیحدہ سورت ہونا مشکوک تھا اس لیے وہاں سورۃ کا نام تو لکھ دیا گیابسم اللهنہ لکھی گئی، بعض علماء نے فرمایا کہبسم اللهرحمت کی آیت ہےاور سورۃ توبہ عذاب و قہر کی سورۃ ہے اس لیے قہر کی سورت میں رحمت کی آیت مناسب نہیں۔(مرقات لمعات مع اضافہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2218