Main Icon

باب: بھولنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1014

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ يُصَلِّيْ جَاءَهُ الشَّيْطَانُ فَلَبِسَ عَلَيْهِ حَتّٰى لَايَدْرِيْ كَمْ صَلّٰى فَإِذَا وَجَدَ ذٰلِكَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْجُدْ سَجَدَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ» (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «إن أحدكم إذا قام يصلي جاءه الشيطان فلبس عليه حتى لايدري كم صلى فإذا وجد ذلك أحدكم فليسجد سجدين وهو جالس» (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تم میں سے کوئی جب نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے تو اس کے پاس شیطان آتا ہے اور اس پر شبہ ڈال دیتا ہے حتی کہ وہ نہیں جانتا کہ کتنی نماز پڑھی ۱؎جب تم میں سے کوئی یہ پائے تو بیٹھے ہوئے دو سجدے کرے ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ ترجمہ بہت مناسب ہے فقہاء فرماتے ہیں کہ جسے اس بھول کی عادت ہو وہ کم کا لحاظ کر ے اور سجدۂ سہو کرے اور جسے پہلی بار یہ بھول ہوئی وہ نماز لوٹائے یہاں بھول کی عادت کا ذکر ہے جیسا کہلَایَدْرِیْسے معلوم ہورہا ہے۔
۲
؎ایک سلام پھیر کر جیسا کہ اور احادیث میں ہے۔خیال رہے کہ اس صورت میں ہمارے ہاں سجدہ واجب ہے،امام شافعی کے ہاں سنت،یہ حدیث ہماری دلیل ہے کیونکہفَلْیَسْجُدْامر ہے،امرو جوب کے لیے ہوتاہے یہاں شیخ نے فرمایااَحَدُکُمْسے معلوم ہوتا ہے کہ حضور علیہ السلام کو نماز میں بھول شیطانی اثر سے نہیں ہوسکتی بلکہ عالم غیب میں توجہ کی بناء پر ہوتی ہے۔ سُبْحَانَ اللّٰهِ !بہترین بات فرمائی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1014