Main Icon

باب: بھولنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1017

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ سِيرِيْنَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: صَلّٰى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدٰى صَلَاتَيِ الْعَشِيِّ - قَالَ ابْنُ سِيرِيْنَ قَدْسَمَّاهَا أَبُو هُرَيْرَةَ وَلَكِنْ نَسِيتُ أَنَا قَالَ فَصَلّٰى بِنَا رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ فَقَامَ إِلٰى خَشَبَةٍ مَعْرُوضَةٍ فِي الْمَسْجِدِ فَاتَّكَأَ عَلَيْهَا كَأَنَّهٗ غَضْبَانُ وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنٰى عَلَی اليُسْرٰى وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهٖ وَوَضَعَ خَدَّهُ الْأَيْمَنَ عَلیٰ ظَهْرِ كَفِّهِ الْيُسْرٰى وَخَرَجَتْ سَرْعَانَ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ فَقَالُوا قَصُرَتِ الصَّلَاةُ وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَهَابَاهُ أَنْ يُكَلِّمَاهُ وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ فِي يَدَيْهِ طُولٌ يُقَالُ لَهٗ ذُو الْيَدَيْنِ قَالَ يَا رَسُول الله أَنَسِيْتَ أَمْ قَصُرَتِ الصَّلَاةُ قَالَ: «لَمْ أَنْسَ وَلَمْ تُقْصَرْ» فَقَالَ: «أَكَمَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ؟» فَقَالُوا: نَعَمْ. فَتَقَدَّمَ فَصَلّٰى مَا تَرَكَ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهٖ أَوْ أَطْوَلَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهٗ وَكَبَّرَ ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهٖ أَوْ أَطْوَلَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهٗ وَكَبَّرَ فَرُبَّمَا سَأَلُوهُ ثُمَّ سَلَّمَ فَيَقُولُ نُبِّئْتُ أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ قَالَ ثمَّ سَلَّمَ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَلَفْظُهٗ لِلْبُخَارِيِّ وَفِي أُخْرٰى لَهُمَا : فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدَلَ «لَمْ أَنْسَ وَلَمْ تُقْصَرْ» : «كُلُّ ذٰلِكَ لَمْ يَكُنْ» فَقَالَ: قَدْ كَانَ بَعْضُ ذٰلِكَ يَا رَسُولَ اللهِ

وعن ابن سيرين عن أبي هريرة قال: صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم إحدى صلاتي العشي - قال ابن سيرين قدسماها أبو هريرة ولكن نسيت أنا قال فصلى بنا ركعتين ثم سلم فقام إلى خشبة معروضة في المسجد فاتكأ عليها كأنه غضبان ووضع يده اليمنى علی اليسرى وشبك بين أصابعه ووضع خده الأيمن علی ظهر كفه اليسرى وخرجت سرعان من أبواب المسجد فقالوا قصرت الصلاة وفي القوم أبو بكر وعمر رضي الله عنهما فهاباه أن يكلماه وفي القوم رجل في يديه طول يقال له ذو اليدين قال يا رسول الله أنسيت أم قصرت الصلاة قال: «لم أنس ولم تقصر» فقال: «أكما يقول ذو اليدين؟» فقالوا: نعم. فتقدم فصلى ما ترك ثم سلم ثم كبر وسجد مثل سجوده أو أطول ثم رفع رأسه وكبر ثم كبر وسجد مثل سجوده أو أطول ثم رفع رأسه وكبر فربما سألوه ثم سلم فيقول نبئت أن عمران بن حصين قال ثم سلم. (متفق عليه) ولفظه للبخاري وفي أخرى لهما : فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم بدل «لم أنس ولم تقصر» : «كل ذلك لم يكن» فقال: قد كان بعض ذلك يا رسول الله

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن سیرین سے ۱؎وہ حضرت ابوہریرہ سے راوی فرماتے ہیں کہ ہم کو حضور صلی الله علیہ وسلم نے شام کی دو نمازوں میں سے کوئی نماز پڑھائی ۲؎ابن سیرین کہتے ہیں کہ ابو ہریرہ نے وہ نماز بتائی تھی لیکن میں بھول گیا ۳؎فرماتے ہیں کہ ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں پھر سلام پھیر دیا پھر مسجد میں پڑی ہوئی لکڑی کی طرف تشریف لے گئے اور اس پر ٹیک لگائی گویا غصّے میں تھے ۴؎اور اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھا اور اپنی انگلیوں میں انگلیاں ڈالیں اور دایاں رخسار بائیں ہتھیلی کی پشت پر رکھا ۵؎اور قوم کے جلد باز لوگ مسجد کے دروازوں سے یہ کہتے نکلے کہ نماز کم ہوگئی ۶؎اور قوم میں ابوبکر و عمر رضی الله عنہما بھی تھے لیکن انہوں نے کلام کرنے سے خوف کیا ۷؎اور قوم میں ایک صاحب تھے جن کے ہاتھ کچھ لمبے تھے انہیں ہاتھوں والا کہا جاتا تھا۸؎وہ بولے یا رسول الله آپ بھول گئے یا نماز کم ہوگئی فرمایا نہ میں بھولا نہ نماز کم ہوئی پھر فرمایا کہ کیا ایسا ہی ہے جیسا ذوالیدین کہتے ہیں لوگوں نے کہا ہاں ۹؎آپ آگے بڑھ گئے چھوٹی رکعتیں پڑھ لیں پھر سلام پھیرا پھر تکبیر کہی اور سجدوں کے برابر یا کچھ دراز سجدہ کیا پھر اپنا سر اٹھایا اور تکبیر کہی پھر تکبیر کہی اور سجدوں کے برابر یا کچھ دراز سجدہ کیا ۱۰؎پھر سر اٹھایا اور تکبیر کہی لوگوں نے ان سے پوچھا کہ پھر سلام بھی پھیرا تو آپ کہنے لگے کہ مجھے خبر ملی کہ عمران ابن حصین نے کہا پھر سلام پھیرا ۱؎(مسلم،بخاری)اور لفظ بخاری کے ہیں اور ان دونوں کی دوسری روایت میں ہے کہ حضور انور صلی الله علیہ وسلم نے بجائے نہ بھولا اور نہ نماز کم ہوئی یہ فرمایا کہ ان میں سے کچھ نہ ہواذوالیدیننے کہا یارسول الله صلی الله علیہ وسلم کچھ تو ہوا ہے ۱۲؎

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام محمد ہے،حضرت انس کے آزاد کرد ہ غلام ہیں،شہادت حضرت عثمان سے دو برس پہلے پیدا ہوئے،تیس صحابہ سے ملاقات ہوئی، فن حدیث و تعبیر خواب کے امام تھے،ایک بار جوزاتارے کو ثریا سے آگے بڑھا ہوا پایا تو فرمایا میری موت قریب ہے مگر پہلے حسن بصری وفات پائیں گے پھر میں چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ سو ۱۰۰ دن پہلے خواجہ حسن بصری فوت ہوئے بعد میں آپ۔(مرقاۃ)
۲
؎وہ نماز عصر تھی جیسا کہ دوسری روایات میں ہے سورج ڈھلے سے ڈوبنے تک کو عَشِی کہا جاتا ہے لہذا اس میں ظہر و عصر ہی داخل ہیں نہ کہ مغرب و عشاء،وقت عشاءعَشُوَا ءٌسے ہے وہاں دوسرے معنے ہیں۔
۳
؎اتفاقًا نہ کہ حافظہ کی کمزوری کی وجہ سے لہذا اس حدیث سے ابن سیرین کو ضعیف نہ کہا جائے گا،وہ بھول ضعف کا باعث ہے جو حدیث غلط بیان کرنے کا ذریعہ بن جائے۔
۴
؎غصہ کی وجہ کچھ اور ہوگی جو راوی کو معلوم نہ ہوسکی،یہ لکڑی یا تو وہی تھی جس سے ٹیک لگا کر خطبہ پڑھتے تھے یا کوئی دوسری۔
۵
؎راویان حدیث حضور صلی الله علیہ وسلم کی ہیئتیں بیان کرتے ہیں تاکہ سننے والے کے ذہن میں وہ نقشہ قائم ہوجائے یہ نقشہ قائم کرنا بھی عبادت ہے۔خیال رہے کہ تشبیک نماز اور انتظار نماز کی حالت میں منع ہے اس کے علاوہ کھیل کود کے لیے ممنوع ویسے جائز ہے۔
۶
؎یعنی غالبًا وحی الٰہی آگئی اور عصر بجائے چار کے دو رکعت رہ گئیں۔
۷
؎آپ کے غصہ کو دیکھ کر ورنہ جو باریابی ان بزرگوں کی تھی وہ دوسروں کو نہ تھی جیسا کہ روایتوں میں ہے کہ اکثر یہ حضرات حضور صلی الله علیہ وسلم کو دیکھ کر اور حضور صلی الله علیہ وسلم ان کو دیکھ کر مسکراتے رہتے تھے۔
۸
؎ان کا نام عمیر ابن عمرو کنیت ابو محمد،لقب خرباق اور حضور صلی الله علیہ وسلم کا عطا کردہ خطاب ذوالیدین تھا۔حجازی سلمی تھے ان کے متعلق اور بہت سی روایتیں ہیں آپ کو بارگاہ رسالت میں بہت باریابی تھی جو بات بڑے صحابہ عرض نہ کرسکتے تھے آپ بے تکلف عرض کر دیتے تھے۔
۹
؎اس گفتگو سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ بھولی ہوئی چیز کا انکار کردینا جھوٹ نہیں بلکہ اس پر قسم کھالینا گناہ نہیں،اس ہی کو قسم لغو کہتے ہیں،رب تعالٰی فرماتا ہے:"لَا یُؤَاخِذُکُمُ اللّٰہُ بِاللَّغْوِ فِیۡۤ اَیۡمٰنِکُمْ" دیکھو سرکار صلی الله علیہ وسلم کو بھول ہوئی مگر فرمایا کہ میں بھولا نہیں کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ مجھے اپنے بھولنے کا خیال نہیں یہ بالکل صحیح ہے شان نبوت کے خلاف نہیں۔دوسرے یہ کہ ایسے موقعہ پر اکثر مقتدیوں کی بات مانی جائے گی نہ کہ ایک کی،اگر ایک کہے کہ دو رکعتیں پڑھیں باقی کہیں چار تو چار ہی مانی جائیں گی،دیکھو حضور صلی الله علیہ وسلم نے ذوالیدین کی خبر کی تصدیق فرما کر اس پر عمل کیا۔
۱۰
؎پہلی تکبیر سجدے میں جانے کے لیئے تھی،دوسری سجدے سے اٹھنے کے لیئے،تیسری پھر سجدے میں جانے کے لیے۔ظاہر یہ ہے کہ سجدۂ سہو کے لیئے ایک ہی سلام پھیرا جو لوگ جاچکے تھے انہیں واپس بلایا گیا اور سب کے ساتھ یہ دو رکعتیں ادا کی گئیں۔
۱۱
؎یعنی لوگوں نے ا بن سیرین سے پوچھا کہ کیا حضور علیہ السلام نے سجدۂ سہو کے بعد نماز کا سلام پھیرا یا نہیں تو آپ نے فرمایا کہ حضرت ابوہریرہ نے مجھ سے سلام کا ذکر نہیں کیا،ہاں میں نے سنا یہ ہے کہ عمران ابن حصین بھی یہ واقعہ بیان کیا کرتے تھے اور وہ کہتے تھے کہ پھر سلام پھیرا۔اس کا مطلب یہ نہیں ہوا کہ ابن سیرین اور حضرت ابوہریرہ کے درمیان عمران ابن حصین ہیں جن کا ذکر نہ کیا گیا تاکہ یہ حدیث منقطع ہوجائے کیونکہ ابن سیرین کی عمران ابن حصین سے ملاقات ہی نہیں ہوئی۔
۱۲
؎یہ چند طرح سے منسوخ ہے:کلام کرنے کے بعد کعبہ سے سینہ پھر جانے کے بعد،بعض مقتدیوں کے مسجد سے نکل جانے اور انہیں واپس بلانے کے بعد نماز پوری کرنا اور سجدۂ سہو کرنا،سجدۂ سہو کے بعد بغیر دوبارہالتحیاتپڑھے فورًا سلام پھیر دینا،اب ان میں سے کسی چیز پر عمل نہیں یہ حدیث اس وقت کی ہے جب نماز میں کلام و کام سب کچھ جائز تھا،یہی صحیح ہے بقیہ تو جیہیں جو عام شارحین نے کی ہیں قابل قبول نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1017