- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 2
- نماز کا بیان
- حدیث نمبر 1017
باب: بھولنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1017
نماز کا بیان - جلد 2
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنِ ابْنِ سِيرِيْنَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: صَلّٰى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدٰى صَلَاتَيِ الْعَشِيِّ - قَالَ ابْنُ سِيرِيْنَ قَدْسَمَّاهَا أَبُو هُرَيْرَةَ وَلَكِنْ نَسِيتُ أَنَا قَالَ فَصَلّٰى بِنَا رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ فَقَامَ إِلٰى خَشَبَةٍ مَعْرُوضَةٍ فِي الْمَسْجِدِ فَاتَّكَأَ عَلَيْهَا كَأَنَّهٗ غَضْبَانُ وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنٰى عَلَی اليُسْرٰى وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهٖ وَوَضَعَ خَدَّهُ الْأَيْمَنَ عَلیٰ ظَهْرِ كَفِّهِ الْيُسْرٰى وَخَرَجَتْ سَرْعَانَ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ فَقَالُوا قَصُرَتِ الصَّلَاةُ وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَهَابَاهُ أَنْ يُكَلِّمَاهُ وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ فِي يَدَيْهِ طُولٌ يُقَالُ لَهٗ ذُو الْيَدَيْنِ قَالَ يَا رَسُول الله أَنَسِيْتَ أَمْ قَصُرَتِ الصَّلَاةُ قَالَ: «لَمْ أَنْسَ وَلَمْ تُقْصَرْ» فَقَالَ: «أَكَمَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ؟» فَقَالُوا: نَعَمْ. فَتَقَدَّمَ فَصَلّٰى مَا تَرَكَ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهٖ أَوْ أَطْوَلَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهٗ وَكَبَّرَ ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهٖ أَوْ أَطْوَلَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهٗ وَكَبَّرَ فَرُبَّمَا سَأَلُوهُ ثُمَّ سَلَّمَ فَيَقُولُ نُبِّئْتُ أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ قَالَ ثمَّ سَلَّمَ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَلَفْظُهٗ لِلْبُخَارِيِّ وَفِي أُخْرٰى لَهُمَا : فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدَلَ «لَمْ أَنْسَ وَلَمْ تُقْصَرْ» : «كُلُّ ذٰلِكَ لَمْ يَكُنْ» فَقَالَ: قَدْ كَانَ بَعْضُ ذٰلِكَ يَا رَسُولَ اللهِ
وعن ابن سيرين عن أبي هريرة قال: صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم إحدى صلاتي العشي - قال ابن سيرين قدسماها أبو هريرة ولكن نسيت أنا قال فصلى بنا ركعتين ثم سلم فقام إلى خشبة معروضة في المسجد فاتكأ عليها كأنه غضبان ووضع يده اليمنى علی اليسرى وشبك بين أصابعه ووضع خده الأيمن علی ظهر كفه اليسرى وخرجت سرعان من أبواب المسجد فقالوا قصرت الصلاة وفي القوم أبو بكر وعمر رضي الله عنهما فهاباه أن يكلماه وفي القوم رجل في يديه طول يقال له ذو اليدين قال يا رسول الله أنسيت أم قصرت الصلاة قال: «لم أنس ولم تقصر» فقال: «أكما يقول ذو اليدين؟» فقالوا: نعم. فتقدم فصلى ما ترك ثم سلم ثم كبر وسجد مثل سجوده أو أطول ثم رفع رأسه وكبر ثم كبر وسجد مثل سجوده أو أطول ثم رفع رأسه وكبر فربما سألوه ثم سلم فيقول نبئت أن عمران بن حصين قال ثم سلم. (متفق عليه) ولفظه للبخاري وفي أخرى لهما : فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم بدل «لم أنس ولم تقصر» : «كل ذلك لم يكن» فقال: قد كان بعض ذلك يا رسول الله
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابن سیرین سے ۱؎وہ حضرت ابوہریرہ سے راوی فرماتے ہیں کہ ہم کو حضور صلی الله علیہ وسلم نے شام کی دو نمازوں میں سے کوئی نماز پڑھائی ۲؎ابن سیرین کہتے ہیں کہ ابو ہریرہ نے وہ نماز بتائی تھی لیکن میں بھول گیا ۳؎فرماتے ہیں کہ ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں پھر سلام پھیر دیا پھر مسجد میں پڑی ہوئی لکڑی کی طرف تشریف لے گئے اور اس پر ٹیک لگائی گویا غصّے میں تھے ۴؎اور اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھا اور اپنی انگلیوں میں انگلیاں ڈالیں اور دایاں رخسار بائیں ہتھیلی کی پشت پر رکھا ۵؎اور قوم کے جلد باز لوگ مسجد کے دروازوں سے یہ کہتے نکلے کہ نماز کم ہوگئی ۶؎اور قوم میں ابوبکر و عمر رضی الله عنہما بھی تھے لیکن انہوں نے کلام کرنے سے خوف کیا ۷؎اور قوم میں ایک صاحب تھے جن کے ہاتھ کچھ لمبے تھے انہیں ہاتھوں والا کہا جاتا تھا۸؎وہ بولے یا رسول الله آپ بھول گئے یا نماز کم ہوگئی فرمایا نہ میں بھولا نہ نماز کم ہوئی پھر فرمایا کہ کیا ایسا ہی ہے جیسا ذوالیدین کہتے ہیں لوگوں نے کہا ہاں ۹؎آپ آگے بڑھ گئے چھوٹی رکعتیں پڑھ لیں پھر سلام پھیرا پھر تکبیر کہی اور سجدوں کے برابر یا کچھ دراز سجدہ کیا پھر اپنا سر اٹھایا اور تکبیر کہی پھر تکبیر کہی اور سجدوں کے برابر یا کچھ دراز سجدہ کیا ۱۰؎پھر سر اٹھایا اور تکبیر کہی لوگوں نے ان سے پوچھا کہ پھر سلام بھی پھیرا تو آپ کہنے لگے کہ مجھے خبر ملی کہ عمران ابن حصین نے کہا پھر سلام پھیرا ۱؎(مسلم،بخاری)اور لفظ بخاری کے ہیں اور ان دونوں کی دوسری روایت میں ہے کہ حضور انور صلی الله علیہ وسلم نے بجائے نہ بھولا اور نہ نماز کم ہوئی یہ فرمایا کہ ان میں سے کچھ نہ ہواذوالیدیننے کہا یارسول الله صلی الله علیہ وسلم کچھ تو ہوا ہے ۱۲؎
شرح حدیث
۱∞؎آپ کا نام محمد ہے،حضرت انس کے آزاد کرد ہ غلام ہیں،شہادت حضرت عثمان سے دو برس پہلے پیدا ہوئے،تیس صحابہ سے ملاقات ہوئی، فن حدیث و تعبیر خواب کے امام تھے،ایک بار جوزاتارے کو ثریا سے آگے بڑھا ہوا پایا تو فرمایا میری موت قریب ہے مگر پہلے حسن بصری وفات پائیں گے پھر میں چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ سو ۱۰۰ دن پہلے خواجہ حسن بصری فوت ہوئے بعد میں آپ۔(مرقاۃ)
۲؎وہ نماز عصر تھی جیسا کہ دوسری روایات میں ہے سورج ڈھلے سے ڈوبنے تک کو عَشِی کہا جاتا ہے لہذا اس میں ظہر و عصر ہی داخل ہیں نہ کہ مغرب و عشاء،وقت عشاءعَشُوَا ءٌسے ہے وہاں دوسرے معنے ہیں۔
۳؎اتفاقًا نہ کہ حافظہ کی کمزوری کی وجہ سے لہذا اس حدیث سے ابن سیرین کو ضعیف نہ کہا جائے گا،وہ بھول ضعف کا باعث ہے جو حدیث غلط بیان کرنے کا ذریعہ بن جائے۔
۴؎غصہ کی وجہ کچھ اور ہوگی جو راوی کو معلوم نہ ہوسکی،یہ لکڑی یا تو وہی تھی جس سے ٹیک لگا کر خطبہ پڑھتے تھے یا کوئی دوسری۔
۵؎راویان حدیث حضور صلی الله علیہ وسلم کی ہیئتیں بیان کرتے ہیں تاکہ سننے والے کے ذہن میں وہ نقشہ قائم ہوجائے یہ نقشہ قائم کرنا بھی عبادت ہے۔خیال رہے کہ تشبیک نماز اور انتظار نماز کی حالت میں منع ہے اس کے علاوہ کھیل کود کے لیے ممنوع ویسے جائز ہے۔
۶؎یعنی غالبًا وحی الٰہی آگئی اور عصر بجائے چار کے دو رکعت رہ گئیں۔
۷؎آپ کے غصہ کو دیکھ کر ورنہ جو باریابی ان بزرگوں کی تھی وہ دوسروں کو نہ تھی جیسا کہ روایتوں میں ہے کہ اکثر یہ حضرات حضور صلی الله علیہ وسلم کو دیکھ کر اور حضور صلی الله علیہ وسلم ان کو دیکھ کر مسکراتے رہتے تھے۔
۸؎ان کا نام عمیر ابن عمرو کنیت ابو محمد،لقب خرباق اور حضور صلی الله علیہ وسلم کا عطا کردہ خطاب ذوالیدین تھا۔حجازی سلمی تھے ان کے متعلق اور بہت سی روایتیں ہیں آپ کو بارگاہ رسالت میں بہت باریابی تھی جو بات بڑے صحابہ عرض نہ کرسکتے تھے آپ بے تکلف عرض کر دیتے تھے۔
۹؎اس گفتگو سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ بھولی ہوئی چیز کا انکار کردینا جھوٹ نہیں بلکہ اس پر قسم کھالینا گناہ نہیں،اس ہی کو قسم لغو کہتے ہیں،رب تعالٰی فرماتا ہے:"لَا یُؤَاخِذُکُمُ اللّٰہُ بِاللَّغْوِ فِیۡۤ اَیۡمٰنِکُمْ" دیکھو سرکار صلی الله علیہ وسلم کو بھول ہوئی مگر فرمایا کہ میں بھولا نہیں کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ مجھے اپنے بھولنے کا خیال نہیں یہ بالکل صحیح ہے شان نبوت کے خلاف نہیں۔دوسرے یہ کہ ایسے موقعہ پر اکثر مقتدیوں کی بات مانی جائے گی نہ کہ ایک کی،اگر ایک کہے کہ دو رکعتیں پڑھیں باقی کہیں چار تو چار ہی مانی جائیں گی،دیکھو حضور صلی الله علیہ وسلم نے ذوالیدین کی خبر کی تصدیق فرما کر اس پر عمل کیا۔
۱۰؎پہلی تکبیر سجدے میں جانے کے لیئے تھی،دوسری سجدے سے اٹھنے کے لیئے،تیسری پھر سجدے میں جانے کے لیے۔ظاہر یہ ہے کہ سجدۂ سہو کے لیئے ایک ہی سلام پھیرا جو لوگ جاچکے تھے انہیں واپس بلایا گیا اور سب کے ساتھ یہ دو رکعتیں ادا کی گئیں۔
۱۱؎یعنی لوگوں نے ا بن سیرین سے پوچھا کہ کیا حضور علیہ السلام نے سجدۂ سہو کے بعد نماز کا سلام پھیرا یا نہیں تو آپ نے فرمایا کہ حضرت ابوہریرہ نے مجھ سے سلام کا ذکر نہیں کیا،ہاں میں نے سنا یہ ہے کہ عمران ابن حصین بھی یہ واقعہ بیان کیا کرتے تھے اور وہ کہتے تھے کہ پھر سلام پھیرا۔اس کا مطلب یہ نہیں ہوا کہ ابن سیرین اور حضرت ابوہریرہ کے درمیان عمران ابن حصین ہیں جن کا ذکر نہ کیا گیا تاکہ یہ حدیث منقطع ہوجائے کیونکہ ابن سیرین کی عمران ابن حصین سے ملاقات ہی نہیں ہوئی۔
۱۲؎یہ چند طرح سے منسوخ ہے:کلام کرنے کے بعد کعبہ سے سینہ پھر جانے کے بعد،بعض مقتدیوں کے مسجد سے نکل جانے اور انہیں واپس بلانے کے بعد نماز پوری کرنا اور سجدۂ سہو کرنا،سجدۂ سہو کے بعد بغیر دوبارہالتحیاتپڑھے فورًا سلام پھیر دینا،اب ان میں سے کسی چیز پر عمل نہیں یہ حدیث اس وقت کی ہے جب نماز میں کلام و کام سب کچھ جائز تھا،یہی صحیح ہے بقیہ تو جیہیں جو عام شارحین نے کی ہیں قابل قبول نہیں۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1017