Main Icon

باب: بھولنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1018

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُحَيْنَة: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلّٰى بِهِمْ الظُّهْرَ فَقَامَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ لَمْ يَجْلِسْ فَقَامَ النَّاسُ مَعَهٗ حَتّٰى إِذَا قَضَى الصَّلَاةَ وَانْتَظَرَ النَّاسُ تَسْلِيمَهٗ كَبَّرَ وَهُوَ جَالِسٌ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ ثُمَّ سَلَّمَ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن عبد الله بن بحينة: أن النبي صلى الله عليه وسلم صلى بهم الظهر فقام في الركعتين الأوليين لم يجلس فقام الناس معه حتى إذا قضى الصلاة وانتظر الناس تسليمه كبر وهو جالس فسجد سجدتين قبل أن يسلم ثم سلم(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبد الله ابن بحینہ سے ۱؎کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے صحابہ کوظہر پڑھائی تو پہلی دو رکعتوں میں بغیر بیٹھے کھڑے ہوگئے لوگ بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہوگئے ۲؎حتی کہ جب نماز پوری کی اور لوگوں نے سلام کا انتظار کیا تو آپ نے بیٹھے ہوئے تکبیر کہی سلام سے پہلے دو سجدے کیے پھر سلام پھیرا ۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎مشہو ر یہ ہے کہ بحینہ آپ کی والدہ کا نام ہے اور آپ کے والد کا نام مالک ہے،آپ والدہ کی طرف سے عبدالمطلب میں حضور علیہ السلام سے مل جاتے ہیں کیونکہ بحینہ بنت حارث ابن عبدالمطلب ابن عبدالمناف ہیں،آپ بڑے متقی،صائم الدھرصحابی ہیں،امیر معاویہ کے زمانہ میں وفات ہوئی۔
۲
؎معلوم ہوا کہ اگر ا مام پہلیالتحیاتبھول کر تیسری رکعت میں پورا کھڑا ہوجائے تو مقتدی لقمہ دے کر اسے واپس نہ کریں بلکہ خود بھی کھڑے ہوجائیں کیونکہ وہ بیٹھنا واجب ہے اور یہ قیام فرض،واجب کے لیے فرض نہیں چھوڑا جاسکتا۔
۳
؎اس حدیث کی بنا پر امام شافعی فرماتے ہیں سجدۂ سہو کے لیئے سلام نہ پھیرے مگر دوسری قوی روایات میں آتا ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کے لیے سلام پھیرا ہے اور سرکار صلی الله علیہ وسلم کے بعد عمر فاروق ہمیشہ سجدۂ سہو کے لیے سلام پھیرا کرتے تھے،فاروق اعظم کا یہ عمل اس حدیث کو تقویت دیتا ہے لہذا حق یہ ہے کہ یہ حدیث منسوخ ہے اس کی ناسخ مسلم،بخاری کی وہ روایت ہے جو فصل اول میں گزر گئی اور ہوسکتا ہے کہ یہاں سلام سے مراد نماز کے وہ دو سلام ہوں جن سے نماز ختم کی جاتی ہے اور مطلب یہ ہو کہ لوگوں نے سلام نماز کا انتظار کیا حضور علیہ السلام نے وہ سلام نہ پھیرا بلکہ سہو کا ایک سلام پھیر کر تکبیر کہہ دی تب اسے منسوخ ماننے کی ضرورت نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1018