Main Icon

باب: بھولنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1016

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلّٰى الظُّهْرَ خَمْسًا فَقِيلَ لَهٗ : أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ؟ فَقَالَ: «وَمَا ذَاكَ؟» قَالُوا: صَلَّيْتَ خَمْسًا. فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَمَا سَلَّمَ. وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ: «إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ أَنْسٰى كَمَا تَنْسَوْنَ فَإِذَا نَسِيتُ فَذَكِّرُونِي وَإِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهٖ فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ فَلْيُتِمَّ عَلَيْهِ ثُمَّ لِيُسَلِّمْ ثمَّ يَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن عبد الله بن مسعود: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى الظهر خمسا فقيل له : أزيد في الصلاة؟ فقال: «وما ذاك؟» قالوا: صليت خمسا. فسجد سجدتين بعدما سلم. وفي رواية: قال: «إنما أنا بشر مثلكم أنسى كما تنسون فإذا نسيت فذكروني وإذا شك أحدكم في صلاته فليتحر الصواب فليتم عليه ثم ليسلم ثم يسجد سجدتين»(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبد الله ابن مسعود سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ظہر پانچ رکعت پڑھ لی آپ سے عرض کیا گیا کیانماز میں زیادتی کی گئی فرمایا کیا بات ہے عرض کیا آپ نے پانچ پڑھ لیں تو آپ نے سلام کے بعد دو سجدے کرلیے ۱؎اور ایک روایت میں ہے کہ فرمایا تم جیسا بشر ہوں تمہاری طرح بھولتا ہوں ۲؎جب میں بھول جایا کروں تو مجھے یاد دلادیا کرو جب تم میں سے کوئی نماز میں شک کرے تو درستی تلاش کرے اسی پر نماز پوری کرے پھر سلام پھیرے پھر دو سجدے کرے ۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب نماز کلام کرنے سے فاسد نہ ہوتی تھی،چونکہ اس سوال و جواب کے باوجود نماز باقی تھی لہذا سجدۂ سہو کرلیا اب ایسا نہیں ہوسکتا۔سَلَّمَسے مراد وہی نماز کا سلام ہے جو نماز تمام کرنے کی نیت سے کیا گیا تھا۔ خیال رہے کہ اگر کسی نمازی کو سلام کے بعد اپنی بھول یاد آئے تو فورًا سجدۂ سہو میں گرجائے اور پھر التحیات پڑھ کر سلام پھیرے پہلا سلام سہو کا ہوجائے گا دوسرا نماز کا۔
۲
؎یہ لفظ حضور صلی الله علیہ وسلم کے منہ سے سجتا ہے ہم بشرکہہ کر حضور صلی الله علیہ وسلم کو نہیں پکارسکتے رب فرماتا ہے:"لَا تَجْعَلُوۡا دُعَآءَ الرَّسُوۡلِ"الخ۔یہاں صرف بھولنےمیں تشبیہ ہے نہ کہ بھولنے کی نوعیت میں اپنی اور نبی صلی الله علیہ وسلم کی بھول کا فرق ہم ابھی عرض کرچکے ہیں۔
۳
؎یہ تلاش کا حکم اس صورت میں ہے جب کہ کسی جانب گمان غالب ہو اور اگر کوئی گمان غالب نہ ہو تو کم کو لے،لہذا یہ حدیث گزشتہ حدیث کے خلاف نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1016