Main Icon

باب: بھولنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1021

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلّٰى الْعَصْرَ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثِ رَكَعَاتٍ ثُمَّ دَخَلَ مَنْزِلَهٗ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ الْخِرْبَاقُ وَكَانَ فِي يَدَيْهِ طُولٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ فَذَكَرَ لَهٗ صَنِيْعَهٗ فَخَرَجَ غَضْبَانَ يَجُرُّ رِدَاءَهٗ حَتّٰى اِنْتَهَى الَى النَّاسِ فَقَالَ: «أَصَدَقَ هَذَا» . قَالُوا: نَعَمْ. فَصَلّٰى رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

عن عمران بن حصين: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى العصر وسلم في ثلاث ركعات ثم دخل منزله فقام إليه رجل يقال له الخرباق وكان في يديه طول فقال: يا رسول الله فذكر له صنيعه فخرج غضبان يجر رداءه حتى انتهى الى الناس فقال: «أصدق هذا» . قالوا: نعم. فصلى ركعة ثم سلم ثم سجد سجدتين ثم سلم. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے عصر پڑھی اور تین رکعتوں میں سلام پھیردیا پھر اپنے گھر تشریف لے گئے ان کی خدمت میں ا یک صاحب حاضر ہوئے جنہیں خرباق کہا جاتا تھا ان کے ہاتھوں میں کچھ درازی تھی عرض کیا یارسول ا للہ پھر آپ کا عمل شریف ذکر کیا تو آپ غصے میں اپنی چادر کھینچتے ہوئے تشریف لائے حتی کہ لوگوں تک پہنچ گئے فرمایا کیا انہوں نے درست کہا لوگوں نے کہا ہاں تو ایک رکعت پڑھی پھر سلام پھیرا پھر دو سجدے کیے پھر سلام پھیرا ۱؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎صحیح یہ ہے کہ یہ دوسرا واقعہ ہے کیونکہ یہاں حجرے شریف میں پہنچ جانے کا ذکر ہے اور وہاں مسجد میں ٹھہرنے کا ذکر تھا،یہاں غصہ کی وجہ معلوم نہ ہوسکی اور دوسرےثُمَّ سَلَّمَسے معلوم ہوتا ہے کہ سجدۂ سہو کے بعد بھیالتحیاتپڑھی جائے گی کیونکہثُمَّتاخیر کے لیے آتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1021