Main Icon

باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3238

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "اسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا فَإِنَّهُنَّ خُلِقْنَ مِنْ ضِلَعٍ، وَإِنَّ أَعْوَجَ شَيْءٍ فِي الضِّلَعِ أَعْلَاهُ، فَإِنْ ذَهَبْتَ تُقِيمُهُ كَسْرَتَهُ، وَإِنْ تَرَكْتَهُ لَمْ يَزَلْ أَعْوَجَ، فَاسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ". مُتَّفَقٌ عَلَيهِ.

عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "استوصوا بالنساء خيرا فإنهن خلقن من ضلع، وإن أعوج شيء في الضلع أعلاه، فإن ذهبت تقيمه كسرته، وإن تركته لم يزل أعوج، فاستوصوا بالنساء". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے بیویوں کے متعلق نیکی کی وصیت قبول کرو ۱؎کیونکہ وہ پسلی سے پیدا کی گئی ہیں اور یقینًا پسلی کا ٹیڑھا حصہ اس کا اوپر کا ہے۲؎تو اگر اسے سیدھا کرنے لگو توتو ڑ دو گے اور اگر چھوڑ دو تو ٹیڑھا رہے گا۳؎لہذا عورتوں کے متعلق وصیت قبول کرو (مسلم، بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اس جملہ کے چند مطلب ہوسکتے ہیں: ایک یہ کہ میں تم کو اپنی بیویوں سے اچھے سلوک کی وصیت کرتا ہوں،تم لوگ قبول کرو ان سے اچھا برتاؤ کرو،یا تم لوگ اپنی بیویوں کے متعلق اچھی وصیت کیا کرو کہ ان کے ساتھ تمہارے عزیز وا قارب اچھا سلوک کریں،یا اپنی بیویوں کو بھلائی کا حکم کرو،غرضکہ یہاں باب استفعال کئی احتمال رکھتا ہے۔(اشعہ مرقات،لمعات)
۲
؎یعنی حضرت حوا کی پیدائش آدم علیہ السلام کی پسلی کے اوپری حصہ سے ہوئی جو ٹیڑھا ہے اور تمام عورتیں انہی حوا کی اولاد سے ہیں فطری طور پر سب میں قدر کجی سخت مزاجی ہے اور رہے گی۔ حضرت حوّاکی پیدائش کی تفصیل ہماری تفسیر نعیمی کلاں پارہ اول میں ملاحظہ کیجئے۔
۳
؎یعنی جو چیز ٹیڑھی بھی ہو خشک بھی وہ سیدھی نہیں ہوسکتی،پسلی کا اوپر ی حصہ ٹیڑھا اور خشک ہے اور وہ سیدھا نہیں ہوسکتا اسی طرح عورت بالکل سیدھی نہیں ہوسکتی،معلوم ہوا کہ اصل کا اثر شاخ میں ہوتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3238