Main Icon

باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3273

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَرْبَعٌ مَنْ أُعْطِيَهُنَّ فَقَدْ أُعْطِيَ خَيْرَ الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ: قَلْبٌ شَاكِرٌ، وَلسَانٌ ذَاكِرٌ، وَبَدَنٌ عَلَى الْبَلَاءِ صَابِرٌ، وَزَوْجَةٌ لَا تَبْغِيهِ خَوْنًا فِي نَفْسِهَا وَلَا مَالِهِ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ".

وعن ابن عباس: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: أربع من أعطيهن فقد أعطي خير الدنيا والآخرة: قلب شاكر، ولسان ذاكر، وبدن على البلاء صابر، وزوجة لا تبغيه خونا في نفسها ولا ماله. رواه البيهقي في "شعب الإيمان".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ رسول انے فرمایا چار چیزیں وہ ہیں جسے وہ دی گئیں اسے دین و دنیا کی بھلائی دے دی گئی ۱؎شکر والا دل،ذکر والی زبان اور جسم مصیبتوں ۲؎پر صبر والا ۳؎اور ایسی بیوی جو اپنے نفس اور اس کے مال میں بغاوت نہ کرے ۴؎(بیہقی شعب الایمان)

شرح حدیث

۱∞؎اعطیمجہول فرما کر ادھر اشارہ فرمایا کہ یہ چاروں نعمتیں صرف اپنی کوشش سے نہیں ملتیں بلکہ خاص عطاء رب ذوالجلال ہیں لہذا جسے یہ نعمتیں ملیں وہ انہیں اپنا کمال نہ سمجھے رب کی عطا سمجھ کر شکریہ ادا کرے چونکہ ان چاروں چیزوں کا تعلق دنیا سے بھی ہے اور آخرت سے بھی اس لیے ارشاد ہوا کہ اسے دین و دنیا کی بھلائی مل گئی۔
۲
؎اگر چہ شکر زبان سے بھی ہوتا ہے اور ذکر ادل سے بھی کیا جاتا ہے مگر چونکہ دل کا شکر زبانی شکر سے اعلیٰ ہے اور زبانی ذکر کا تبین فرشتوں کی تحریر میں آتا ہے اور زبانی ذکر ہی نماز کا رکن ہے اسی زبان سے تلاوت قرآن ہوتی ہے اسی لیے خصوصیت سے دلی شکر اور زبانی ذکر کا تذکرہ فرمایا دلی شکر کی حقیقت یہ ہے کہ ہر نعمت کو رب تعالٰی کی طرف سے جانے اور اس نعمت کے حقوق ادا کرنے کی کوشش کرے رب تعالٰی نے شکر کی جگہ جگہ بہت تعریف فرمائی ہے"اِنَّہٗ کَانَ عَبْدًا شَکُوۡرًا
۳
؎اگرچہ صبر بھی دل سے ہی ہوتا ہے مگر اس کا تعلق سارے جسم سے ہے،اس لیے صبر کو پورے جسم کی طرف نسبت فرمایا مصیبتوں میں زبان سے بکواس نہ کرنا، آنکھوں سے بے صبری کے آنسو نہ بہانا، ہاتھ پاؤں سے بے صبری کا اظہار نہ کرنا،جسم کا صبر ہے۔
۴
؎بیوی اکثر اپنے خاوند کے مال کی امینہ و محافظہ ہوتی ہے اور اکثر مال اس کے پاس رہتا ہے نیز خود بیوی خاوند کی امانت ہے،اسی لیےنفسہافرمایا اور بعد میںمالہیعنی بغیر خاوند کی اجازت نہ کہیں جائے نہ کسی سے تعلق رکھے،اس کا مال اس کی ہی اجازت سے خرچ کرے ایسی بیوی اکی نعمت ہے پارسا عورت خاوند کو بھی پرہیزگار بنادیتی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3273