- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 5
- نکاح کا بیان
- حدیث نمبر 3249
باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3249
نکاح کا بیان - جلد 5
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأْذِنُ عَلَى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدَ النَّاسَ جُلُوسًا بِبَابِهِ لَمْ يُؤْذَنْ لِأَحَدٍ مِنْهُمْ قَالَ: فَأُذِنَ لِأَبِي بَكْرٍ، فَدَخَلَ، ثُمَّ أَقْبَلَ عُمَرُ، فَاسْتَأْذَنَ، فَأُذِنَ لَهُ، فَوَجَدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا حَوْلَهُ نِسَاؤُهُ، وَاجِمًا سَاكتًا قَالَ: فَقَالَ: لأَقُولَنَّ شَيْئًا أُضْحِكُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! لَوْ رَأَيْتَ بِنْتَ خَارِجَةَ سَأَلَتْنِي النَّفَقَةَ، فَقُمْتُ إِلَيْهَا فَوَجَأْتُ عُنُقَهَا، فَضَحِكَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: "هُنَّ حَوْلِي كَمَا تَرَى، يَسْأَلْنَنِي النَّفَقَةَ". فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى عَائِشَةَ يَجَأُ عُنُقَهَا، وَقَامَ عُمَرُ إِلَى حَفْصَةَ يَجَأُ عُنُقَهَا، كِلَاهُمَا يَقُولُ: تَسْأَلِينَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَيْسَ عِنْدَهُ؟ ! فَقُلْنَ: وَاللّٰهِ لَا نَسْأَلُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا أَبَدًا لَيْسَ عِنْدَهُ، ثُمَّ اعْتَزَلَهُنَّ شَهْرًا، أَوْ تِسْعًا وَعشْرين، ثُمَّ نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ: يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ حَتَّى بلغ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا قَالَ: فَبَدَأَ بعائشة فَقَالَ: "يَا عَائِشَةُ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَعْرِضَ عَلَيْكِ أَمْرًا، أُحِبُّ أَنْ لَا تَعْجَلِي فِيهِ حَتَّى تَسْتَشِيرِي أَبَوَيْكِ". قَالَتْ: وَمَا هُوَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ؟ فَتَلَا عَلَيْهَا الآيَةَ. قَالَتْ: أَفِيكَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ! أَسْتَشِيرُ أَبَوَيَّ؟ بَلْ أَخْتَارُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الآخِرَةَ، وَأَسْأَلُكَ أَنْ لَا تُخْبِرَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِكَ بِالَّذِي قُلْتُ، قَالَ: "لَا تَسْأَلُنِي امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ إِلَّا أَخْبَرْتُهَا، إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَبْعَثْنِي مُعَنِّتًا وَلَا مُتَعَنِّتًا، وَلَكِنْ بَعَثَنِي مُعَلِّمًا مُيَسِّرًا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
وعن جابر قال: دخل أبو بكر يستأذن على رسول الله صلى الله عليه وسلم، فوجد الناس جلوسا ببابه لم يؤذن لأحد منهم قال: فأذن لأبي بكر، فدخل، ثم أقبل عمر، فاستأذن، فأذن له، فوجد النبي صلى الله عليه وسلم جالسا حوله نساؤه، واجما ساكتا قال: فقال: لأقولن شيئا أضحك النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله! لو رأيت بنت خارجة سألتني النفقة، فقمت إليها فوجأت عنقها، فضحك رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال: "هن حولي كما ترى، يسألنني النفقة". فقام أبو بكر إلى عائشة يجأ عنقها، وقام عمر إلى حفصة يجأ عنقها، كلاهما يقول: تسألين رسول الله صلى الله عليه وسلم ما ليس عنده؟ ! فقلن: والله لا نسأل رسول الله صلى الله عليه وسلم شيئا أبدا ليس عنده، ثم اعتزلهن شهرا، أو تسعا وعشرين، ثم نزلت هذه الآية: ياأيها النبي قل لأزواجك حتى بلغ للمحسنات منكن أجرا عظيما قال: فبدأ بعائشة فقال: "يا عائشة إني أريد أن أعرض عليك أمرا، أحب أن لا تعجلي فيه حتى تستشيري أبويك". قالت: وما هو يا رسول الله؟ فتلا عليها الآية. قالت: أفيك يا رسول الله! أستشير أبوي؟ بل أختار الله ورسوله والدار الآخرة، وأسألك أن لا تخبر امرأة من نسائك بالذي قلت، قال: "لا تسألني امرأة منهن إلا أخبرتها، إن الله لم يبعثني معنتا ولا متعنتا، ولكن بعثني معلما ميسرا". رواه مسلم.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق آئے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضری کی اجازت لیں لوگوں کو آپ کے دروازہ پر بیٹھے پایا جن میں سے کسی کو اجازت نہ ملی تھی ۱؎فرماتے ہیں کہ ابوبکر کو اجازت مل گئی آپ داخل ہوگئے پھر جناب عمر آئے اجازت مانگی انہیں بھی مل گئی ۲؎انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو غمگین خاموش بیٹھے پایا کہ آپ کی ازواج اردگرد تھیں ۳؎آپ نے سوچا کہ میں ایسی بات کہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو ہنسا دوں۴؎تو عرض کیا یارسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم حضور خارجہ کی بیٹی کو ملاحظہ فرماتے ۵؎کہ اس نے مجھ سے خرچہ مانگا تو میں اس کی طرف بڑھا اس کی گردن مروڑی ۶؎چنانچہ رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم ہنس پڑے ۷؎اور فرمایا یہ جو میرے گرد بیٹھی ہیں جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو مجھ سے خرچہ کا مطالبہ کرتی ہیں ۸؎تو ابوبکر عائشہ کی طرف اٹھے ان کی گردن مروڑنے لگے اور حضرت عمر حفصہ کی طرف بڑھے وہ ان کی گردن مروڑنے لگے۹؎یہ دونوں کہتے تھے کیا تم رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم سے وہ چیزیں مانگتی ہوجو ان کے پاس نہیں ہیں ۱۰؎وہ بولیںﷲکی قسم ہم رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم سے کبھی وہ چیز نہ مانگیں گی جو آپ کے پاس نہ ہو ۱۱؎پھر حضور ازواج سے ایک ماہ یا انتیس دن علیحدہ رہے ۱۲؎پھر یہ آیہ کریمہ نازل ہوئی اے نبی اپنی بیویوں سے فرما دو الیٰ قولہ تم میں سے نیک کار بیویوں کے لیے بڑا ثواب ہے ۱۳؎فرماتے ہیں کہ پھر حضور نے عائشہ سے ابتداء کی ۱۴؎اے عائشہ تم پر ایک چیز پیش کرتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ اس میں جلدی نہ کرنا حتی کہ اپنے والدین سے مشورہ کرلو ۱۵؎آپ بولیں یارسولﷲوہ کیا ہے ؟ تب حضور نے ان پر یہ آیت تلاوت کی ۱۶؎آپ بولیں کیا آپ کے بارے میں یارسولﷲمیں ماں باپ سے مشورہ کروں بلکہ میںﷲرسول اور آخرت کے گھر کو اختیار کرتی ہوں ۱۷؎اور حضور سے عرض ہے کہ اپنی ازواج میں سے کسی بی بی کو نہ بتائیں ۱۸؎جو میں نے عرض کیا آپ نے فرمایا ان میں سے کوئی بی بی مجھ سے نہ پوچھے گی مگر میں خبر دے دوں گا ۱۹؎یقینًاﷲنے مجھے نہ مشقت میں ڈالنے والا بھیجا نہ مشقت میں پڑنے والا ۲۰؎لیکن مجھے بھیجا ہے علم سکھانے والا آسانی کرنے والا ۲۱؎(مسلم)
شرح حدیث
۱∞؎واقعہ یہ تھا کہ ازواج مطہرات نے حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے فقر و فاقہ کی شکایت کرتے ہوئے زیادہ خرچہ دینے کے متعلق عرض کیا بعض نے یہ بھی کہا کہ فلاں فلاں کی بیویاں ایسے عمدہ لباس پہنتی ہیں ایسے عیش میں ہیں تب نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ ہم ایک ماہ تک تم میں سے کسی کے پاس نہ آئیں گے اور بالاخانہ پر تشریف فرما ہوگئے اور تمام صحابہ سے بھی علیحدگی اختیار فرمالی۔اس پر مشہور ہوگیا کہ حضور نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی،لوگ گھبرا گئے،اسی گھبراہٹ میں حضرت ابوبکر صدیق و عمر فاروق حاضر ہوئے،کیونکہ ان کی صاحبزادیاں بی بی عائشہ صدیقہ اور بی بی حفصہ حضور کے نکاح میں تھیں۔
۲؎چونکہ اس وقت تک پردہ کی آیات نہ آئی تھیں اس لیے ان دونوں بزرگوں کو ازواج پاک کی موجودگی میں اجازت دے دی گئی۔
۳؎غالبًا یہ اجتماع عائشہ صدیقہ کے حجرے میں تھا۔
۴؎یہ ہنسانا بھی عبادت تھا حضور کو خوش کرنا عبادت ہے،جیسے آپ کو غمگین کرنا گناہ،ایسے موقعوں پر جناب عمر ہمیشہ یہ عمل کرتے تھے۔
۵؎بنت خارجہ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی زوجہ پاک ہیں۔
۶؎یعنی میری بیوی نے مجھ سے حاجت سے زیادہ خرچہ مانگا عیش و طرب کے لیے تو میں نے اسے یہ سزا دی کیونکہ بقدر ضرور ت تو خرچہ میں دیتا ہوں۔
۷؎معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت فاروق کا یہ عمل پسند فرمایا،پتہ لگا کہ خاوند اپنی زوجہ کو نافرمانی یا بے جا مطالبہ پر سزا دے سکتا ہے،کہ مرد عورت کا حاکم ہے۔
۸؎یعنی ہمارے ہاں بھی یہ ہی معاملہ درپیش ہے کہ ہماری یہ ازواج ہم سے زیادہ خرچہ کا مطالبہ کررہی ہیں۔
۹؎معلوم ہوا کہ والد اپنی جوان شادی شدہ بیٹی کو سزا دے سکتا ہے ان دونوں حضرات نے حضور کی موجودگی میں اپنی صاحبزادیوں سے یہ برتاؤ کیا۔
۱۰؎شعر
مالک کونین ہیں گو پاس کچھ رکھتے نہیں دو جہاں کی نعمتیں ہیں ان کے خالی ہاتھ میں
بوریا ممنون خواب راحتش تاج کسریٰ زیر پائے امتش
جہاں کو غنی فرمایا اپنے پاس کچھ نہ رکھا"اَغْنٰہُمُ اللہُ وَرَسُوۡلُہٗ مِنۡ فَضْلِہٖ"۔
۱۱؎یہ ماجرا دیکھ کر تمام ازواج پاک نے بیک زبان یہ وعدہ کیا۔
۱۲؎کیونکہ حضور اس واقعہ سے پہلے علیحدگی کی قسم اٹھا چکے تھے اس لیے اگرچہ ان بیویوں نے یہ وعدہ کرلیا۔مگر حضور نے اپنی قسم پوری فرمائی۔(مرقات،لمعات)
۱۳؎واقعہ کی ترتیب یہ ہوئی کہ اولًا ازواج مطہرات نے عرصہ تک زیادہ خرچہ کا مطالبہ کیا جس پر حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ایلاء کی قسم اٹھائے پھر حضرت صدیق و فاروق کا یہ واقعہ پیش آیا پھر ازواج پاک نے یہ وعدہ کیا جو یہاں مذکور ہے پھر حضور نے علیحدگی اختیار کی،مدت ایلاء ختم ہونے پر آیت کا نزول ہوا پھر ازواج پاک کو طلاق لینے کا اختیار دیا گیا۔
۱۴؎کیونکہ عائشہ صدیقہ ان سب میں عالمہ عاقلہ تھیں۔
۱۵؎چونکہ تم عمر میں چھوٹی ہو اور چھوٹی بچیاں کبھی دنیا کی زیب و زینت پر زیادہ مائل ہوتی ہیں اس لیے والدین سے مشورہ کرکے فیصلہ کرو(مرقات)اس سے اشارۃً معلوم ہوا کہ سرکار عائشہ صدیقہ کے اپنے پاس رہنے پر بہت ہی خوش ہیں۔
۱۶؎جس میں فرمایا گیا ہے کہ اے نبی کی بیویو! اگر تم کو دنیاوی ٹیپ ٹاپ کا شوق ہے تو آؤ میں تم کو طلاق دے دوں اور اگرﷲرسول اور قیامت کی بہتری چاہتی ہو تو میرے ساتھ فقر و فاقہ پر قناعت کرو تب ام المؤمنین نے یہ جواب دیا۔
۱۷؎یہ ہے حضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہ کی فراست دانائی،علم و عقل اس سے معلوم ہوا کہ دین و دنیا کا اجتماع نہیں ہوتا۔
۱۸؎تاکہ ہر بی بی پاک کے علم و عقل کا امتحان ہوجائے۔
۱۹؎تاکہ وہ پوچھنے والی بی بی تمہاری پیروی کریں جس سے تم کو بھی ثواب ملے۔
۲۰؎معنتبنا ہےعنۃسے بمعنی گناہ مشقت،معنت دوسروں کو گناہ یا مشقت میں ڈالنے والا متعنت خود گناہ یا مشقت میں واقع ہونے والا،مطلب یہ ہے کہ دوسری بیویوں کو تمہارے جواب سے ضرور خبردار کروں گا تاکہ ان کے لیے تمہارا جواب مشعل راہ بنے اس جواب کی اشاعت مفید ہے چھپانا ان کے لیے مضر ہوگا۔چنانچہ ان بیویوں نے وہ ہی جواب دیا جو ام المؤمنین عائشہ صدیقہ نے دیا تھا سب فقر و فاقہ پر راضی ہوگئیں۔اور سب نے حضور کے ساتھ زندگی گزارنے کوﷲکی بڑی نعمت سمجھا۔
۲۱؎اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ضرورت کے وقت حاکم عالم سلطان اپنے دروازے پر ڈیوڑھی بان کو سنبھال سکتے ہیں ورنہ عمومًا حضور کے دروازے پر حاجت ڈیوڑھی بان نہ ہوتے تھے،کسی کے گھر میں بغیر اجازت داخل نہ ہونا چاہیے،خواہ خاص دوست ہو یا اجنبی،اپنی جوان اولاد کو باپ سزا دے سکتا ہے اگرچہ اولاد شادی شدہ ہو،حضور صلی اللہ علیہ و سلم اور ازواج پاک نے بخوشی اپنی زندگی مسکینیت میں گزاردی۔بالا خانہ پر رہنا درست ہے،خاوند اپنی بیوی کو طلاق کا اختیار دے سکتا ہے یہ اختیار دینا طلاق نہ ہوگا بلکہ اگر بیوی طلاق کو اختیار کرے تب طلاق ہوگی حضرت علی اور زید ابن ثابت و حسن سے جو مروی ہے کہ اختیار طلاق دینا ہی طلاق ہے شاید انہیں یہ حدیث نہ پہنچی(مرقات)
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3249