Main Icon

باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3255

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لَو كُنْتُ آمُرُ أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ؛ لأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "لو كنت آمر أحدا أن يسجد لأحد؛ لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها". رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اگر میں کسی کو حکم دیتا کہ وہ کسی کو سجدہ کرے ۱؎تو عورت کو حکم دیتا کہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے ۲؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ہمارے شریعت میں غیر خدا کو سجدہ حرام ہے، سجدہ عبادت کفر ہے، سجدہ تعظیم حرام،دوسری شریعتوں میں بندوں کو سجدہ تعظیم جائز تھا۔ اس عبارت سے معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم مالک احکام ہیں کہ فرماتے ہیں اگر میں کسی کو سجدہ کا حکم دیتا اس کی پوری تحقیق ہماری کتاب سلطنت مصطفیٰ میں دیکھئے۔یہاں حکم سے مراد وجوبی حکم ہے یا استحبابی یا اباحت کا۔
۲
؎کیونکہ خاوند کے حقوق بہت زیادہ ہیں اور عورت اس کے احسانات کے شکریہ سے عاجز ہے اسی لیے خاوند ہی اس کے سجدے کا مستحق ہوتا۔(مرقات)اس سے معلوم ہوا کہ خاوند کی اطاعت و تعظیم اشد ضروری ہے اس کی ہر جائز تعظیم کی جائے،اسی قاعدے سے فقیر کہتا ہے کہ اگر اسلام میں کسی بندے کے لیے سجدہ جائز ہوتا تو میں اپنے نبی کو بلکہ ان کے نام کو سجدہ کرتا۔خیر دل تو ان کو ساجد ہی ہے۔شعر
اے جوش دل گر ان کو یہ سجدہ روا نہیں اچھا وہ سجدہ کیجئے کہ سر کو خبر نہ ہو

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3255