- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 5
- نکاح کا بیان
- حدیث نمبر 3266
باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3266
نکاح کا بیان - جلد 5
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَنْ قَيْسِ ابْنِ سَعْدٍ قَالَ: أَتَيْتُ الْحِيرَةَ، فَرَأَيْتُهُمْ يَسْجُدُونَ لِمَرْزُبَانٍ لَهُمْ، فَقُلْتُ: لَرَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَقُّ أَنْ يُسْجَدَ لَهُ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: إِنِّي أَتَيْتُ الْحِيرَةَ فَرَأَيْتُهُمْ يَسْجُدُونَ لِمَرْزُبَانٍ لَهُمْ، فَأَنْتَ أَحَقُّ بِأَنْ يُسْجَدَ لَكَ، فَقَالَ لِي: "أَرَأَيْتَ لَوْ مَرَرْتَ بِقَبْرِي أَكُنْتَ تَسْجُدُ لَهُ؟ " فَقُلتُ: لَا فَقَالَ: "لَا تَفْعَلُوا لَوْ كُنْتُ آمُرُ أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ، لأَمَرْتُ النِّسَاءَ أَنْ يَسْجُدْنَ لِأَزْوَاجِهِنَّ لِمَا جَعَلَ اللّٰهُ لَهُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ حَقٍّ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
عن قيس ابن سعد قال: أتيت الحيرة، فرأيتهم يسجدون لمرزبان لهم، فقلت: لرسول الله صلى الله عليه وسلم أحق أن يسجد له، فأتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت: إني أتيت الحيرة فرأيتهم يسجدون لمرزبان لهم، فأنت أحق بأن يسجد لك، فقال لي: "أرأيت لو مررت بقبري أكنت تسجد له؟ " فقلت: لا فقال: "لا تفعلوا لو كنت آمر أحدا أن يسجد لأحد، لأمرت النساء أن يسجدن لأزواجهن لما جعل الله لهم عليهن من حق". رواه أبو داود.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت قیس ابن سعد سے فرماتے ہیں میں حیرہ گیا ۱؎وہاں لوگوں کو دیکھا کہ اپنے سردار کو سجدہ کرتے ہیں ۲؎تو میں نے رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم سے عرض کیا زیادہ حق دار ہیں کہ آپ کو سجدہ کیا جائے ۳؎پھر رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کیا کہ میں حیرہ پہنچا تو انہیں دیکھا کہ اپنے سردار کو سجدہ کرتے ہیں تو آپ زیادہ حق دار ہیں کہ آپ کو سجدہ کیا جائے ۴؎تو فرمایا بتاؤ تو اگر تم میری قبر پر گزرو تو کیا تم قبر کو سجدہ کرو گے ۵؎میں نے عرض کیا نہیں تو فرمایا یہ بھی نہ کرو اگر میں کسی کو حکم کرتا کہ کسی کو سجدہ کرے تو عورتوں کو حکم دیتا کہ اپنے خاوندوں کو سجدہ کریں ۶؎کیونکہ اﷲتعالٰی نے خاوندوں کا ان پر حق قرار دیا(ابوداؤد)۷؎
شرح حدیث
۱؎آپ سعد ابن عبادہ کے فرزند ہیں انصاری خزرجی ہیں،دس سال حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی صحبت پاک میں رہے،حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی طرف سے مصر کے حاکم رہے ۶۰ھ ∞ میں مدینہ منورہ میں وفات پائی حیرہ کوفہ سے ملا ہوا مشہور شہر ہے۔
۲؎ظاہر یہ ہے کہ حیرہ کے باشندے مشرکین تھے جو اپنے بادشاہ سردار کو تعظیمی سجدہ کرتے تھے۔
۳؎کیونکہ تمام خلق سے افضل ہیں،اور تمام کے محسن اعظم،جب وہ ایک علاقہ کے سردار کو سجدہ کرتے ہیں تو ہم جہاں بھر کے سردار کو سجدہ کیوں نہ کریں۔
۴؎لہذا آپ ہم کو سجدہ کی اجازت دیں کہ آپ کو سجدہ کیا کریں۔
۵؎اس کلام کا مقصد یہ ہے کہ سجدہ اسے لائق ہے جس کو نہ موت آئے نہ اس کی قبر ہو،ہمیشہ زندہ رہے وہ صرف رب تعالٰی کی ذات ہے بندہ آج زندہ ہے زمین پر ہے کل بعد وفات زمین میں ہوگا جب بعد موت قبر کو سجدہ نہیں ہوسکتا تو زندگی میں بھی سجدہ نہیں ہوسکتا۔ اس سے معلوم ہو اکہ قبر کو سجدہ کرنا حرام ہے اس پر تمام اہل اسلام کا اتفاق ہے۔
۶؎یعنی اگر سوائے خدا کسی کو سجدہ کرنا جائز ہوتا تو بیوی اپنے خاوند کو سجدہ کرتی،کیونکہ خاوند کے حقوق بھی عورت پر بہت ہیں اور احسانات بھی زیادہ جب عورت خاوند کو سجدہ نہیں کرسکتی تو اور کوئی بھی کسی بندی کو سجدہ نہیں کرسکتا۔خیال رہے کہ سجدہ عبادت کسی دین میں بھی غیر خدا کو جائز نہ تھا مگر سجدہ تعظیمی بعض گزشتہ دینوں میں جائز تھا جیسے یعقوب علیہ السلام اور ان کے گیارہ بیٹوں نے یوسف علیہ السلام کو سجدہ کیا۔ہمارے اسلام میں یہ سجدہ بھی حرام ہے۔ اس حدیث سے وہ جاہل پیر عبرت پکڑیں جو اپنے مریدین سے اپنے کو سجدہ کراتے ہیں جب حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو سجدہ حرام ہوا تو کسی کو کیسے جائز ہوگا۔
۷؎یہ حدیث احمد نے حضرت معاذ سے اور حاکم نے حضرت بریدہ سے روایت کی،بعض لوگ کہتے ہیں کہ نبیوں کو سجدہ کرنا قرآن کریم سے ثابت ہے اور ممانعت صرف ظنی احادیث سے جو مسلم،بخاری کی بھی نہیں لہذا ان احادیث کا اعتبار نہیں۔قرآن کے مقابل خبرو احد غیر معتبر ہے اس کا نہایت نفیس جواب ہم نے اپنے حاشیہ القرآن میں دیا ہے۔غیر اﷲکو سجدہ تعظیمی کی ممانعت کی احادیث متواتر المعنی ہیں اور اس کے جواز کی آیات قطعی الثبوت تو ہیں قطعی الدلالت نہیں یعنی دوسری شریعتوں میں سجدہ تعظیمی کا جواز بطور قطعی نہیں ہوتا۔حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کسی شریعت کا حکم نہ تھا کہ اس وقت دنیا میں نہ شریعت آئی تھی نہ نبی کی نبوت اور حضرت یعقوب علیہ السلام کا یوسف علیہ السلام کو سجدہ کرنا حکم شرعی نہ تھا بلکہ خواب کی تعبیر پوری کرنے کے لیے تھا،جیسے فرزند کا ذبح کردینا دین ابراہیمی کا مسئلہ نہ تھا بلکہ خواب کی تعبیر پوری کرنے کو کہا تھا۔اگر مان لیا جائے کہ وہ سجدہ شریعت یعقوبی کا مسئلہ تھا تو چاہیے کہ آج پیر مریدوں کو سجدہ کریں کہ نہ مرید پیر کو،کیونکہ افضل نے مفضول کو سجدہ کیا تھا۔یعنی یعقوب علیہ السلام نے اپنے فرزند کو۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3266