Main Icon

باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3272

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَن أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قِيلَ لِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّ النِّسَاءِ خَيْرٌ؟ قَالَ: "الَّتِي تَسُرُّهُ إِذَا نَظَرَ، وَتُطِيعُهُ إِذَا أَمَرَ، وَلَا تُخَالِفُهُ فِي نَفْسِهَا وَلَا مَالِهَا بِمَا يَكْرَهُ". رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ".

وعن أبي هريرة قال: قيل لرسول الله صلى الله عليه وسلم : أي النساء خير؟ قال: "التي تسره إذا نظر، وتطيعه إذا أمر، ولا تخالفه في نفسها ولا مالها بما يكره". رواه النسائي والبيهقي في "شعب الإيمان".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم سے عرض کیا گیا کونسی عورت اچھی ہے فرمایا کہ اسے خاوند جب دیکھے تو اچھی لگے ۱؎اور جب اسے حکم دے تو اطاعت کرے اور اس کی مخالفت نہ کرے نہ اپنی جان میں نہ اپنے مال میں جو خاوند کو ناپسند ہو ۲؎(نسائی،بیہقی شعب الایمان)

شرح حدیث

۱∞؎یا اس لیے کہ خوبصورت ہو یا اس لیے کہ خاوند کے سامنے بناؤ سنگار سے پاک و صاف ہو کر آئے یا اس لیے کہ خاوند کو دیکھ کر خوش ہوجائے کھل جائے ایسی خندہ پیشانی سے ملے کہ خاوند خوش ہوجائے ۔یہاں مرقات میں ہے اگر عورت میں صورت و سیرت دونوں جمع ہوجائیں تو مرد کے لیے سرور پر سرور ہے نور پر نور۔
۲
؎مطلب یہ ہے کہ بیوی کے پاس جو مال ہو خواہ میکے سے ملا ہوا ہو خواہ خاوند کا دیا ہوا اسے ایسی جگہ خرچ نہ کرے جس سے خاوند ناراض ہو خود ایسا کوئی کام نہ کرے ایسی جگہ نہ جائے جس سے خاوند ناخوش ہو ایسی عورت اتعالٰی کی بڑی نعمت ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3272