Main Icon

باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3262

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لَيْسَ مِنَّا مَنْ خَبَّبَ امْرَأَةً عَلَى زَوْجِهَا أَوْ عَبْدًا عَلَى سَيِّدِهِ". رَوَاهُ أَبُو أَبُو دَاوُدَ .

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "ليس منا من خبب امرأة على زوجها أو عبدا على سيده". رواه أبو أبو داود .

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ وہ شخص ہم میں سے نہیں جو عورت کو اس کے خاوند پر یا غلام کو اس کے آقا پر خراب کردے ۱؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎خاوند بیوی میں فساد ڈالنے کی بہت صورتیں ہیں:عورت سے خاوند کی برائیاں بیان کرکے دوسرے مردوں کی خوبیاں ظاہر کرے کیونکہ عورت کا دل کچی شیشی کی طرح کمزور ہوتا ہے یا ان میں اختلاف ڈالنے کے لیے جادو تعویذ گنڈے کرنے سب حرام ہے اور غلام یا لونڈی کو بگاڑنے کے معنی یہ ہیں کہ اسے بھاگ جانے پر آمادہ کرے،اگر وہ خود بھاگنا چاہیں تو ان کی امداد کرے،بہرحال دو دلوں کو جوڑنے کی کوشش کرو توڑو نہ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3262