Main Icon

باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3247

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَسْمَاءَ أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! إِنَّ لِي ضَرَّةً، فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ إِنْ تَشَبَّعْتُ مِنْ زَوْجِي غَيْرَ الَّذِي يُعْطِينِي؟ فَقَالَ: "الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أسماء أن امرأة قالت: يا رسول الله! إن لي ضرة، فهل علي جناح إن تشبعت من زوجي غير الذي يعطيني؟ فقال: "المتشبع بما لم يعط كلابس ثوبي زور". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت اسماء سے کہ ایک عورت نے عرض کیا کہ یارسولمیری ایک سوکن ہے ۱؎تو کیا مجھ پر اس میں گناہ ہے کہ اپنے خاوند کا کوئی عطیہ ظاہر کروں جو اس کے علاوہ ہو ۲؎تو فرمایا نہ دی ہوئی چیز کا ظاہر کرنے والا جھوٹے کپڑے پہننے والے کی طرح ہے ۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎عربی میں سوکن کوضرۃکہتے ہیںضرہ ضرۃسے بنا ہے بمعنی نقصان چونکہ سوکن ضررونقصان کا سبب ہے یا نقصان پہنچانے کی عمومًا کوشش کرتی ہے اس لیے اسے ضرہ کہتے ہیں،اس کا دوسرا نام فطینہ بھی ہے،بمعنی بہت سمجھ دار،ہر سوکن اپنی سوکن کے عیوب سمجھنے میں بڑی فطینہ ہوتی ہے اسی لیے اسے فطینہ کہتے ہیں۔(مرقات)
۲
؎یعنی میں اپنی سوکن کو جلانے،طیش دلانے کے لیے یہ ظاہر کردوں کہ خاوند بمقابلہ تیرے مجھے زیادہ دیتا ہے مثلًا اپنے میکے کا جوڑا پہن کر دکھاؤں کہ خاوند نے دیا ہے۔
۳
؎یعنی جیسے کوئی شخص امانت یا عاریت کے اعلیٰ کپڑے پہن کر پھرے لوگ سمجھیں کہ یہ اس کے اپنے کپڑے ہیں،پھر بعد میں حال کھلنے میں بدنامی بھی ہو گناہ بھی ایسے یہ بھی ہے یا جیسے کوئی فاسق وفاجر متقی کا لباس پہن کر صوفی بنا پھرے پھر حال کھلنے پر رسوا ہو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3247