Main Icon

باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3241

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لَوْلَا بَنُو إِسْرَائِيلَ لَمْ يَخْنَزِ اللَّحْمُ، وَلَوْلَا حَوَّاءُ لَمْ تَخُنْ أُنْثَى زَوْجَهَا الدَّهْرَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "لولا بنو إسرائيل لم يخنز اللحم، ولولا حواء لم تخن أنثى زوجها الدهر". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے اگر بنی اسرائیل نہ ہوتے تو کبھی گوشت نہ خراب ہوتا ۱؎اور اگر حوّاء نہ ہوتیں تو کبھی کوئی عورت اپنے خاوند سے خیانت نہ کرتی ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اسرائیل یعقوب علیہ السلام کا نام شریف ہے،ان کی اولاد بنی اسرائیل کہلاتی ہے یہاں اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں بنی اسرائیل میدانِ تیہ میں قید کردیئے گئے،وہاں چالیس سال مقید رہے اس زمانہ میں ان پر قدرتی حلوا اور بھنا ہوا گوشت نازل ہوتا تھا یعنی من،سلویٰ مگر حکم یہ تھا کہ نیاروز اور نئی روزی،آج کا کھانا کل کے لیے نہ بچاؤ،انہوں نے بچانا شروع کردیا تو گوشت بگڑنے لگا،اس سے پہلے گوشت کبھی خراب نہ ہوتا تھا،اگر یہ لوگ توکل سے کام لیتے تو گوشت وغیرہ کبھی خراب نہ ہوتا۔
۲
؎اس میں ایک واقعہ کی طرف اشارہ ہے وہ یہ کہ شیطان نے پہلے بی بی حوّا کو دھوکا دے کر گندم کھانے پر راضی کیا،حضر ت حوّاء نے پہلے خود کھایا،پھر ضد کرکے حضرت آدم علیہ السلام کو کھلایا۔بعض نے فرمایا کہ حضرت آدم علیہ السلام نے جناب حوّاءکو بھیجا کہ گندم کا درخت اکھاڑ کر پھینک دیں،آپ وہاں گئیں،درخت تو اکھاڑ دیا مگر اس کی دو بالیاں محفوظ رکھ لیں جو کچھ عرصہ بعد خود بھی کھالیں اور آدم علیہ السلام کو بھی کھلائیں۔یہاں خیانت سے مراد ضد کرکے خاوند سے غیر مناسب کام کرالینا ہے،یعنی عورتوں کی یہ ضد وہٹ اپنی دادی صاحبہ کی میراث میں ملی ہے یہ وہاں کا اثر ہے۔(از مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3241