Main Icon

باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3271

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "ثَلَاثَةٌ لَا تُقْبَلُ لَهُمْ صَلَاةٌ، وَلَا تَصْعَدُ لَهُمْ حَسَنَةٌ، الْعَبْدُ الآبِقُ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى مَوَالِيهِ، فَيَضَعَ يَدَهُ فِي أَيْدِيهِمْ، وَالْمَرْأَةُ السَّاخِطُ عَلَيْهَا زَوْجُهَا، وَالسَّكْرَانُ حَتَّى يَصْحُوَ". رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَان".

وعن جابر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "ثلاثة لا تقبل لهم صلاة، ولا تصعد لهم حسنة، العبد الآبق حتى يرجع إلى مواليه، فيضع يده في أيديهم، والمرأة الساخط عليها زوجها، والسكران حتى يصحو". رواه البيهقي في "شعب الإيمان".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ تین شخص ہیں جن کی نہ نماز قبول ہو نہ کوئی نیکی اوپر چڑھے ۱؎بھگوڑا غلام یہاں تک کہ اپنے مولاؤں کی طرف لوٹ آئے ۲؎اور اپنا ہاتھ ان کے ہاتھوں میں دے دے اور وہ عورت جس پر اس کا خاوند ناراض ہو اور نشہ والا یہاں تک کہ ہوش میں آجائے۔(بیہقی شعب الایمان)۳؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی بارگاہ الہٰی میں قبولیت کے لیے نہیں چڑھتی رب تعالٰی فرماتاہے:"اِلَیۡہِ یَصْعَدُ الْکَلِمُ الطَّیِّبُ
۲
؎جب کہ اس غلام کے مولیٰ بہت سے ہوں اور اگر ایک ہی مولیٰ ہو تو اس ایک ہی کے پاس حاضر ہوجائے ہاتھ میں دینے سے مراد ہے کہ اس کی فرماں برداری کرنا اپنے کو اس کے حوالے کردینا۔
۳
؎یا اس طرح کہ نشہ پینے سے توبہ کرے یا اس طرح کہ نشہ اتر جائے،پہلی صورت بہت ہی اعلیٰ ہے مقصد یہ ہے کہ گناہ کی حالت میں غضب الہٰی متوجہ ہوتا ہے تو بہ کرنے سے رحمت الہٰی بندے کو اپنی آغوش میں لے لیتی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3271