Main Icon

باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3250

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كُنْتُ أَغَارُ مِنَ اللَّاتِي وَهَبْنَ أَنْفُسَهُنَّ لِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: أَتَهَبُ الْمَرْأَةُ نَفْسَهَا؟ فَلَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكَ قُلْتُ: مَا أَرَى رَبَّكَ إِلَّا يُسَارعُ فِي هَوَاكَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَحَدِيثُ جَابِرٍ: "اتَّقُوا اللَّهَ فِي النِّسَاءِ" ذُكِرَ فِي "قِصَّةِ حَجَّةِ الْوَدَاعِ".

وعن عائشة قالت: كنت أغار من اللاتي وهبن أنفسهن لرسول الله صلى الله عليه وسلم، فقلت: أتهب المرأة نفسها؟ فلما أنزل الله تعالى: ترجي من تشاء منهن وتؤوي إليك من تشاء ومن ابتغيت ممن عزلت فلا جناح عليك قلت: ما أرى ربك إلا يسارع في هواك. متفق عليه. وحديث جابر: "اتقوا الله في النساء" ذكر في "قصة حجة الوداع".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں میں ان عورتوں پر غیرت کرتی تھی جو اپنی جانیں رسولصلی اللہ علیہ و سلم کو بخش دیتی تھیں میں کہتی تھی کیا عورت اپنی جان بخشتی ہے ۱؎پھر جبتعالٰی نے یہ آیت اتاری کہ آپ ان عورتوں میں سے جسے چاہیں ہٹائیں جسے چاہیں اپنے پاس جگہ دیں اور جن کو علیحدہ کردیا ہے ان میں جسے چاہیں بلالیں تو آپ پر کوئی گناہ نہیں ۲؎تو میں نے عرض کیا کہ میں آپ کے رب کو نہیں دیکھتی مگر وہ آپ کی خواہش پوری فرمانے میں جلدی کرتا ہے ۳؎(مسلم،بخاری)اور حضرت جابر کی حدیث کہ عورتوں کے بارے میںسے ڈرو حجتہ الوداع کے قصہ میں ذکر کردی گئی ۴؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی بعض عورتیں بارگاہ رسالت میں عرض کرتی تھیں کہ میں اپنی جان آپ کے سپرد کرتی ہوں میں اسے بے غیرتی سمجھتی تھی کہ عورت یہ جرأت کیسے کرتی ہے کہ اپنے کو مرد پر پیش کرے ؟۔
۲
؎اس آیت کے دو معنی کیے گئے ہیں: ایک یہ کہ اے محبوب آپ کو اختیار ہے کہ جس بیوی کو چاہیں اپنے سے علیحدہ رکھیں کہ اس کے لیے باری کوئی مقرر نہ فرمائیں اور جس کو چاہیں اپنے پاس رکھیں۔ دوسرے یہ کہ اے محبوب جس عورت سے آپ چاہیں نکاح کریں اور اسے اپنے پاس رکھیں اور جس سے چاہیں نکاح نہ کریں،آپ پر تعداد ازواج کی کوئی پابندی نہیں،اسی لیے علماء فرماتے ہیں کہ یہ آیت اس آیت کی ناسخ ہے"لَا یَحِلُّ لَکَ النِّسَآءُ مِنۡۢ بَعْدُ
۳
؎ام المؤمنین نے اس آیت کی دوسری تفسیر اختیار فرمائی کہ آپ جس قدر عورتوں سے چاہیں نکاح کریں اس سے معلوم ہو کہ حضرت ام المؤمنین کا عقیدہ یہ تھا۔شعر
خدا کی رضا چاہتے ہیں دوعالم خدا چاہتا ہے رضائے محمد
لہذا اگر حضور ہم جیسے گناہ گاروں کو رب سے بخشوانا چاہیں تو رب تعالٰی ضرور بخش دے گا،کیونکہ وہ حضور کی رضا چاہتا ہیں
؎تو جو چاہے تو ابھی میل میرے دل کے دُھلیں کہ خدا دل نہیں کرتا کبھی میلا تیرا
خیال رہے کہ چند عورتوں نے اپنے کو حضور پر پیش کیا ہے،میمونہ،ام شریک،زینب بنت خزیمہ،خولہ بنت حکیم،رب تعالٰی فرماتاہے: "
وَ امْرَاَۃً مُّؤْمِنَۃً اِنۡ وَّھَبَتْ نَفْسَہَا لِلنَّبِیِّ"الخ(مرقات)
۴
؎یعنی مصابیح میں وہ حدیث اس جگہ تھی میں نے مناسبت کا خیال کر تے ہوئے حجتہ الوداع کے باب میں ذکر کردی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3250