Main Icon

باب:خلع اور طلاق کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3274

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ امْرَأَةَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ مَا أَعْتِبُ عَلَيْهِ فِي خُلُقٍ وَلَا دِينٍ، وَلَكِنِّي أَكْرَهُ الْكُفْرَ فِي الإِسْلَامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "اقْبَلِ الْحَدِيقَةَ وَطَلِّقْهَا تَطْلِيقَةً". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

عن ابن عباس: أن امرأة ثابت بن قيس أتت النبي صلى الله عليه وسلم فقالت: يا رسول الله! ثابت بن قيس ما أعتب عليه في خلق ولا دين، ولكني أكره الكفر في الإسلام، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "أتردين عليه حديقته؟ قالت: نعم، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "اقبل الحديقة وطلقها تطليقة". رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ حضرت ثابت ابن قیس کی بیوی ۱؎نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں عرض کیا یارسول اصلی اللہ علیہ وسلم میں ثابت ابن قیس کی عادت میں دین میں اعتراض نہیں کرتی ۲؎مگر میں اسلام میں کفر کو ناپسند کرتی ہوں ۳؎رسول اصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم ان کا باغ لوٹا دو گی ۴؎وہ بولیں ہاں ۵؎تو رسول اصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا باغ قبول کرلو اور انہیں ایک طلاق دے دو ۶؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎ثابت ابن قیس ابن شماس پستہ قد قدرے سیاہ فام تھے،ان کی بیوی حبیبہ بنت سہل یا جمیلہ یعنی عبداللہ ابن اُبی کی بہن بہت خوبصورت دراز قامت تھی یہ اپنے خاوند کی شکل وصورت پسند نہ کرتی تھیں۔(از مرقات و اشعہ)
۲
؎یعنی ان کی عادت بھی اچھی ہے اوریہ دیندار بھی ہیں،سبحان ا ﷲ!یہ ہے حضرات صحابہ کرام کی حق گوئی کہ جس سے ناراض ہوں اس کو بہتان نہیں لگاتے۔
۳
؎یعنی مجھے یہ پسند نہیں لہذا میں یہ نہیں کرسکتی کہ دل سے ناپسند کروں اور زبان سے انہیں اچھا کہے جاؤں کہ یہ تقیہ ہے اور اسلام کے خلاف ہے میں ان کے ساتھ رہنے پر راضی نہیں اس ناراضی کی وجہ ان حضرت ثابت کا خوب صورت نہ ہونا تھا۔(اشعہ)
۴
؎کھجور کا وہ باغ جو تم کو انہوں نے مہر میں دیا ہے۔معلوم ہوا کہ بہتر یہی ہے کہ خاوند خلع میں مہریا اور کوئی اپنی دی ہوئی چیز ہی واپس لے زیادہ نہ مانگے۔
۵
؎معلوم ہوا کہ خلع میں اگر مرد کی طرف سے ابتداء ہو تو عورت کا قبول کرنا ضروری اور اگر عورت کی طرف سے ابتدا ہو تو مرد کا قبول کرنا لازم ہے آج کل جو عورتیں دھڑا دھڑ بذریعہ کچہری سے تنسیخ نکاح کرالیتی ہیں مرد راضی نہیں ہوتا اور اسے خلع کہتی ہیں محض غلط ہے۔
۶
؎اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ خلع میں عورت کا کام ہے مال دینا اور مرد کا کام طلاق دینا۔دوسرے یہ کہ خلق طلاق ہے فسخ نکاح نہیں۔تیسرے یہ کہ خلع میں بھی ایک طلاق بائنہ ہی دیجائے تین طلاقیں نہ دے تاکہ اگر پھر عورت و مرد راضی ہوں تو پھر نکاح کرسکیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3274