Main Icon

باب:خلع اور طلاق کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3283

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ رُكَانَةَ بْنِ عَبْدِ يَزِيدَ: أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ سُهَيْمَةَ الْبَتَّةَ، فَأَخْبَرَ بِذَلِكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: وَاللّٰهِ مَا أَرَدْتُ إِلَّا وَاحِدَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "وَاللّٰهِ مَا أَرَدْتَ إِلَّا وَاحِدَةً؟ " فَقَالَ رُكَانَةُ: واللّٰهِ مَا أَرَدْتُ إِلَّا وَاحِدَةً، فَرَدَّهَا إِلَيْهِ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَطَلَّقَهَا الثَّانِيَةَ فِي زَمَانِ عُمَرَ، وَالثَّالِثَةَ فِي زَمَانِ عُثْمَانَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ إِلَّا أَنَّهُمْ لَمْ يَذْكُرُوا الثَّانِيَةَ وَالثَّالِثَة.

وعن ركانة بن عبد يزيد: أنه طلق امرأته سهيمة البتة، فأخبر بذلك النبي - صلى الله عليه وسلم وقال: والله ما أردت إلا واحدة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "والله ما أردت إلا واحدة؟ " فقال ركانة: والله ما أردت إلا واحدة، فردها إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فطلقها الثانية في زمان عمر، والثالثة في زمان عثمان. رواه أبو داود والترمذي وابن ماجه والدارمي إلا أنهم لم يذكروا الثانية والثالثة.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت رکانہ ابن عبدیزید سے ۱؎کہ انہوں نے اپنی بیوی سہیمہ کو طلاق دی۲؎پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی اور بولے اکی قسم میں نے صرف ایک کی نیت کی تھی تو رسول انے فرمایا کیا خدا کی قسم تم نے نہ نیت کی مگر ایک کی تو رکانہ بولے اکی قسم میں نے نہ نیت کی مگر ایک کی ۳؎تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ عورت رکانہ کی طرف لوٹا دی ۴؎پھر انہوں نے زمانہ فاروقی میں دوسری طلاق دی اور زمانہ عثمانی میں تیسری ۵؎(ابوداؤد،ترمذی،ابن ماجہ،دارمی)مگر انہوں نے دوسری تیسری طلاق کا ذکر نہ کیا ۶؎

شرح حدیث

۱∞؎آپ رکانہ ابن عبد یزید ابن ہاشم ابن عبدالمطلب ہیں،قریشی ہیں،صحابی ہیں، ۴۲ھ؁ ∞ میں آپ کی وفات ہوئی۔
۲
؎آپ سہیمہ بنت عمرو مزینہ ہیں، حضرت رکانہ نے ان سے کہا کہ تجھے طلاق بتہ ہے جو نکاح ختم کردے نہ طلاق معلقہ ہو نہ رجعیہ۔ خیال رہے کہ طلاق بتہ میں ایک طلاق بائنہ واقع ہوتی ہے لیکن اگر خاوند تین طلاقوں کی نیت کرے تو تین طلاق ہی واقع ہوں گی۔ امام شافعی کے ہاں ایک رجعی واقع ہوگی اگر تین کی نیت کرے تو تین، امام مالک کے ہاں اس سے تین طلاقیں واقع ہوتی ہیں لہذا یہ حدیث امام اعظم و امام شافعی کے موافق ہے امام مالک کے خلاف رضی اللہ عنہم۔
۳
؎اس سوال و جواب سے وہ ہی بات معلوم ہوئی جو ابھی عرض کی گئی کہ طلاق بتہ طلاق بائنہ ہے لیکن اگر اس میں تین طلاق کی نیت کرلی جائے تو تین ہوں گی ورنہ ایک حدیث رکانہ کی تحقیق ہماری کتابطلاق الادلۃ فی حکم الطلاق الثلثہمیں ملاحظہ کیجئے۔
۴
؎اس طرح کہ انہیں دوبارہ نکاح کرلینے کی اجازت دے دی کیونکہ اس سے ایک طلاق بائنہ واقع ہوئی تھی امام شافعی کے ہاں اس کے معنی ہیں بغیر تجدید نکاح اسے رکانہ کی بیوی قرار دیا،کیونکہ اس سے طلاق رجع واقعی ہوئی تھی جس میں عدت کے اندر تجدید نکاح کی ضرورت نہیں ہوتی۔
۵
؎اس سے صاف معلوم ہوا کہ طلاق بتہ ایک ہوتی ہے نہ دو نہ تین کیونکہ حضرت رکانہ نے اس کے بعد دو طلاقیں اور دیں بعض روایات میں ہے کہ رکانہ نے اپنی زوجہ کو بیک وقت تین طلاقیں دی تھیں جنہیں رسول اصلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی قرار دیا مگر وہ حدیث منکر ہے صحیح وہ ہے جو یہاں مذکور ہوا کہ طلاق بتہ دی تھی یعنی ایک بائنہ غیر مقلد حدیث رکانہ کو آڑ لے کر کہتے ہیں ایک دم تین طلاقیں ایک ہوتی ہیں مگر آپ کو حدیث رکانہ کا حال معلوم ہوگیا۔(مرقات)
۶
؎ابن اسحاق نے بروایت عکرمہ عن ابن عباس روایت کی کہ رکانہ نے اپنی زوجہ کو بیک وقت تین طلاقیں دی پھر بہت غمگین ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا حضور نے ان تین طلاقوں کو ایک ہی قرار دیا یہ حدیث منکر ہے صحیح وہ ہی ہے جو ابوداؤد، ابن ماجہ نے روایت کی آپ نے طلاق بتہ دی تھی یعنی ایک طلاق بائنہ باقی دو طلاقیں عہد فاروقی و عثمانی میں دیں جو یہاں مذکور ہے۔(مرقات ولمعات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3283