Main Icon

باب:خلع اور طلاق کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3276

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: خَيَّرَنَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَرْنَا اللّٰهَ وَرَسُولَهُ، فَلَمْ يَعُدَّ ذَلِكَ عَلَيْنَا شَيْئًا. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن عائشة قالت: خيرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخترنا الله ورسوله، فلم يعد ذلك علينا شيئا. متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں ہم کو رسول اصلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار دیا تو ہم نے رسول اکو اختیار کرلیا تو اسے ہم پر کچھ بھی شمار نہ کیا گیا ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اگر خاوند اپنی عورت کو طلاق کا اختیار دے مگر عورت خاوند کو اختیار کرے طلاق نہ دے تو اس اختیار دینے سے طلاق واقع نہیں ہوتی دیکھو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تمام ازواج پاک کو طلاق کا اختیار دیا ان تمام نے حضور کے پاس رہنا اختیار کیا تو کسی کو طلاق واقع نہ ہوئی یہ ہی مذہب ہے جمہور صحابہ کا اور یہ ہی قول ہے امام اعظم و امام شافعی و غیرہم رضی اللہ عنہم کا،مگر حضرت علی اور امام مالک کا مذہب یہ ہے کہ اس صورت میں اگر عورت طلاق اختیار کرے تو طلاق بائنہ واقع ہوگی اور اگر خاوند کو اختیار کرے تو طلاق رجعی واقع ہوگی،حضرت ام المؤمنین ان ہی صاحبوں کی تردید فرمارہی ہیں حضرت علی و زید ابن ثابت فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے طلاق کا اختیار دیا ہی نہ تھا بلکہ مقصد یہ تھا کہ اگر تم دنیا کی زینت چاہتی ہو تو میں تم کو طلاق دے دوں اگر طلاق کا اختیار ہوتا تو مجلس تک محدود رہتا حالانکہ حضور نے حضرت عائشہ سے فرمایا کہ جلدی نہ کرو اپنے ماں باپ سے پوچھ کر فیصلہ کرو۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں ارادہ طلاق تھا نہ کہ تفویض طلاق مگر تفویض طلاق دائمی بھی ہوتی ہے فوری بھی اور وقت معین تک کے لیے بھی یہ تفویض وقت معین کی تھی لہذا حضرت ام المؤمنین جمہور صحابہ کا قول قوی ہے۔(فتح القدیر اور مرقات وغیرہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3276