Main Icon

باب:خلع اور طلاق کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3280

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "أَبْغَضُ الْحَلَالِ إِلَى اللّٰهِ الطَّلَاقُ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

وعن ابن عمر أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "أبغض الحلال إلى الله الطلاق". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ناپسندیدہ ترین حلال اکے نزدیک طلاق ہے ۱؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اتعالٰی نے ضرورت عباد کی بنا پر طلاق مباح تو کردی ہے مگر رب کو پسند نہیں کہ اس میں دو محبوبوں کی جدائی گھر بگڑنا اولاد کی تباہی ہے غرضکہ بلا وجہ طلاق کراہت سے خالی نہیں بہت سی چیزیں حلال ہیں مگر بہتر نہیں جیسے بلا عذر مرد کا گھر میں نماز پڑھ لینا یا اذان جمعہ ہوچکنے کے بعد تجارت کرنا یا غیر معتکف کا مسجد میں کھانا پینا لہذا حدیث پر نہ تو یہ اعتراض ہے کہ حلال چیزنا پسند کیسے ہوسکتی ہے اور نہ یہ اعتراض ہے کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بی بی سودہ کو طلاق دینے کا ارادہ کیوں فرمایا تھا، امام حسن نے بہت بیویوں کوطلاق کیوں دی حلال کام پر نہ گناہ ہے نہ عتاب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض وہ کام کیے ہیں جو امت کے لیے مکروہ ہیں کیوں،تبلیغ کے لیے آپ کو ان پر بھی ثواب ملے گا جیسے منبر پر کھڑے ہو کر نماز پڑھنا،اونٹ پر طواف کرنا،نواسے کو کندھے پر لے کر نماز ادا کرنا، حضرت حسین علیہ السلام کے لیے خطبہ جمعہ توڑ کر آگے جا کر انہیں گود میں لے لینا وغیرہ یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں"لَا جُنَاحَ عَلَیۡکُمْ اِنۡ طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ"وہاں طلاق میں گناہ کی نفی ہے،یہاں بہتر نہ ہونے کا ثبوت۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3280