Main Icon

باب:خلع اور طلاق کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3279

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "أَيُّمَا امْرَأَةٍ سَأَلَتْ زَوْجَهَا طَلَاقًا فِي غَيْرِ مَا بَأْسٍ، فَحَرَامٌ عَلَيْهَا رَائِحَةُ الْجَنَّةِ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ.

عن ثوبان قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "أيما امرأة سألت زوجها طلاقا في غير ما بأس، فحرام عليها رائحة الجنة رواه أحمد والترمذي وأبو داود وابن ماجه والدارمي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ثوبان سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ وسلم نے جو عورت اپنے خاوند سے بلا ضرورت طلاق مانگے ۱؎تو اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے ۲؎(احمد،ترمذی، ابو داؤد،ابن ماجہ،دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎یہاںبأ سسے مراد سختی ہے،مازائدہ ہے یعنی جو بغیر سخت تکلیف کے طلاق مانگے۔
۲
؎یعنی ایسی عورت کا جنت میں جانا تو کیا ہی ہوگا وہاں کی خوشبو بھی نہ پائے گی اس سے مراد ہے اولیٰ داخلہ ورنہ آخر کار سارے مؤمن جنت میں پہنچیں گے اگرچہ کیسے ہی گنہگار ہوں لہذا یہ حدیث حدیث شفاعت کے خلاف نہیں،بعض شارحین نے فرمایا کہ ایسی عورت جنت میں پہنچ کر بھی وہاں کی خوشبو سے محروم رہے گی جیسے یہاں نزلہ و زکام والا آدمی پھول ناک پر رکھ کر بھی خوشبو نہیں پاتا۔ (مرقات)مگر پہلے معنی زیادہ قوی ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3279