Main Icon

باب:خلع اور طلاق کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3281

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَلِيٍّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَا طَلَاقَ قَبْلَ نِكَاحٍ، وَلَا عَتَاقَ إِلَّا بَعْدَ مِلْكٍ، وَلَا وِصَالَ فِي صِيَامٍ، وَلَا يُتْمَ بَعْدَ احْتِلَامٍ، وَلَا رَضَاعَ بَعْدَ فِطَامٍ،وَلَا صَمْتَ يَوْمٍ إِلَى اللَّيْلِ". رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ".

وعن علي عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "لا طلاق قبل نكاح، ولا عتاق إلا بعد ملك، ولا وصال في صيام، ولا يتم بعد احتلام، ولا رضاع بعد فطام،ولا صمت يوم إلى الليل". رواه في "شرح السنة".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علی سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرماتے ہیں نکاح سے پہلے طلاق نہیں ۱؎اور نہیں ہے آزاد کرنا مگر ملکیت کے بعد۲؎اور نہیں ہے وصال روزوں میں ۳؎اور نہیں ہے یتیمی بلوغ کے بعد۴؎اور نہیں ہے شیرخوارگی دودھ چھوٹنےکے بعد ۵؎اور نہیں ہے خاموشی دن بھر کی رات تک ۶؎(شرح سنہ)

شرح حدیث

۱∞؎لہذا اگر کوئی شخص اجنبیہ عورت سے کہے کہ تجھے طلاق ہے پھر اس سے نکاح کرے تو طلاق واقع نہ ہوگی یوں ہی اگر اجنبیہ عورت سے کہے کہ اگر تو گھر میں گئی تو تجھے طلاق پھر اس سے نکاح کرے،پھر وہ عورت گھر میں جائے تو طلاق نہیں واقع ہوگی۔لیکن اگر اجنبیہ عورت سے کہے کہ اگر میں تجھ سے نکاح کروں تو تجھے طلاق پھر اس سے نکاح کرے تو طلاق واقع ہوجائے گی غرضکہ طلاق کے لیے ضروری ہے کہ یا تو نکاح کے بعد بولی جائے یا نکاح پر معلق کی جائے۔
۲
؎یعنی دوسرے کے غلام کو یہ شخص آزاد نہیں کرسکتا اگر اس سے آزادی کے الفاظ کہہ دے پھر اس کا مالک ہوگیا تو وہ غلام آزاد نہ ہوگا۔
۳
؎یعنی روزہ پر روزہ رکھنا درمیان میں افطار نہ کرنا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت ہے کوئی اور نہیں رکھ سکتا ہم کو افطار کرنا ضروری ہے۔
۴
؎جس کا باپ فوت ہوجائے وہ یتیم کہلاتا ہے بشرطیکہ نابالغ ہو بالغ لڑکا یتیم نہیں کہلاتا۔
۵
؎لہذا جو بچہ کسی عورت کا دودھ پی لے،ڈھائی برس عمر کے بعد تو وہ عورت اس بچہ کی رضاعی ماں نہ بنے گی نہ یہ بچہ اس کا دودھ کا بیٹا ہوگا اور نہ اس پر رضاعت کے احکام جاری ہوں گے۔
۶
؎یعنی اسلام میں چپ کا روزہ نہیں پچھلے دینوں میں تھا اگرچہ بری باتوں سے خاموشی بہتر ہے مگر خاموشی ہمارے ہاں عبادت نہیں بلکہ اس میں ہندوؤں اور عیسائیوں سے مشابہت ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3281