Main Icon

باب:خلع اور طلاق کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3289

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "طَلَاقُ الأَمَةِ تَطْلِيقَتَانِ، وَعِدَّتُهَا حَيْضَتَانِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ.

وعن عائشة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "طلاق الأمة تطليقتان، وعدتها حيضتان". رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه والدارمي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ رسول اصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لونڈی کی طلاقیں دو ہیں اور اسکی عدت دو حیض ۱؎(ترمذی، ابوداؤد اور ابن ماجہ دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی لونڈی خواہ غلام کے نکاح میں ہو یا آزاد کے اس پر صرف دو طلاقیں پڑ سکتی ہیں،دو سے ہی مغلظہ ہوجائے گی کہ پھر بغیر حلالہ اس کے نکاح میں نہیں آسکے گی،نیز لونڈی کی عدت بجائے تین حیض کے دو حیض ہیں۔اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ طلاق کی عدت حیض ہے نہ طہر یہ ہی احناف کہتے ہیں اور قرآن کریم میں جوثلاثۃ قروءفرمایا گیا وہاںقروءکے معنی طہر نہیں بلکہ حیض ہیں۔دوسرے یہ کہ عدت و طلاق کا اعتبار عورت سے ہے نہ کہ مرد سے لہذا لونڈی کی طلاقیں بھی دو ہیں اور عدت بھی دو حیض، اس کا خاوند غلام ہو یا آزاد یہ ہی احناف کا قول ہے،امام شافعی و مالک اور احمد کے ہاں طلاق کا اعتبار مرد سے ہے۔خیال رہے کہ اگر لونڈی مہینہ سے عدت گزارے تو ڈیڑھ مہینہ عدت طلاق ہوگی،کیونکہ آزاد عورت کی عدت کے مہینہ تین ہیں اور لونڈی کے نصف چونکہ تین حیض کی تنصیف نہیں ہوسکتی لہذا اس کی عدت دو حیض ہوئے،بعض شوافع اس حدیث کو ضعیف کہتے ہیں،ان کا قول ہے کہ اس کی اسناد میں مظاہرہے ان سے سواء اس حدیث کے کوئی حدیث منقول نہیں مگر یہ غلط ہے حضرت مظاہر اہل بصرہ کے مشائخ میں سے ہیں،متقدمین محدثین میں سے کسی نے ان پر جرح نہ کی،نیز اس حدیث پر عام علماء کا عمل رہا عمل علماء ضعیف حدیث کو بھی قوی کردیتا ہے۔امام مالک فرماتے ہیں کہ کسی حدیث کا مدینہ منورہ میں مشہور ہوجانا اسے صحیح کردیتا ہے۔(مرقات)یہاں اس حدیث کے متعلق مرقات نے بڑی نفیس گفتگو فرمائی ہے،بہرحال طلاق و عدت میں عورت کا لحاظ ہے نہ کہ مرد کا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3289