- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 5
- نکاح کا بیان
- حدیث نمبر 3278
باب:خلع اور طلاق کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3278
نکاح کا بیان - جلد 5
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْكُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، وَشَرِبَ عِنْدَهَا عَسَلًا، فَتَوَاصَيْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ أَنَّ أَيَّتَنَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْتَقُلْ: إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ، أَكَلْتَ مَغَافِيرَ؟ فَدَخَلَ عَلَى إِحْدَاهُمَا، فَقَالَتْ لَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ: "لَا بَأْسَ، شَرِبْتُ عَسَلًا عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ،فَلَنْ أَعُودَ لَهُ، وَقَدْ حَلَفْتُ؛ لَا تُخْبِرِي بِذَلِكِ أَحَدًا" يَبْتَغِي مَرْضَاةَ أَزْوَاجِهِ فَنَزَلَتْ: يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ تَبْتَغِي مَرْضَاتَ أَزْوَاجِكَ الآيَة .مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
وعن عائشة: أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يمكث عند زينب بنت جحش، وشرب عندها عسلا، فتواصيت أنا وحفصة أن أيتنا دخل عليها النبي صلى الله عليه وسلم فلتقل: إني أجد منك ريح مغافير، أكلت مغافير؟ فدخل على إحداهما، فقالت له ذلك، فقال: "لا بأس، شربت عسلا عند زينب بنت جحش،فلن أعود له، وقد حلفت؛ لا تخبري بذلك أحدا" يبتغي مرضاة أزواجه فنزلت: ياأيها النبي لم تحرم ما أحل الله لك تبتغي مرضات أزواجك الآية .متفق عليه.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت زینب بنت جحش کے پاس کچھ ٹھہرتے تھے اور ان کے پاس شہد پیتے تھے ۱؎تو میں نے اور حفصہ نے آپس میں مشورہ کیا ۲؎کہ ہم میں سے جس کے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں تو وہ کہہ دیں کہ میں آپ سے مغافیر کی بوپاتی ہوں ۳؎کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے ۴؎چنانچہ ان دونوں بیویوں میں سے ایک کے پاس حضور تشریف لائے تو انہوں نے عرض کیا ۵؎تو فرمایا کوئی مضائقہ نہیں۶؎ہم نے زینب بنت جحش کے پاس شہد پیا ہے اب نہ پئیں گے اور ہم نے اس کی قسم کھائی ۷؎اس کی خبر کسی کو نہ دینا۸؎آپ اپنی بیویوں کی رضا چاہتے تھے ۹؎تب یہ آیت اتری اے نبی آپ وہ چیز کیوں حرام کرتے ہیں جو اﷲنے آپ کے لیے حلال کی اپنی بیویوں کی مرضی تلاش کرتے ہو ۱۰؎(مسلم،بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎یعنی باری کے علاوہ جب سرکار بعدنماز عصر تمام ازواج پاک کے پاس دورہ فرماتے تو بی بی زینب کے پاس زیادہ ٹھہرتے تھے کیونکہ حضور کو شہد پسند تھا اور حضرت زینب کے پاس شہد ہوتا تھا وہ آپ کو پلاتی تھیں اس شہد پینے میں دیر لگتی تھی۔
۲؎یہ مشورہ اس لیے تھا کہ ہم کو حضور کا زینب کے پاس زیادہ ٹھہرنا پسند نہ تھا۔
۳؎مغافیرجمع ہےمغفورکی یامغفرکی یہ ایک درخت خار دار کا پھل ہے جسے عربی میںعضاہکہتے ہیں جیسے عرفط یہ پھل میٹھا ہوتا ہے مگر قدرے بو ہوتی ہے(ہیک)حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو منہ کی بو بہت ناپسند تھی اسی لیے حضور نے کبھی کچا لہسن و پیاز نہ کھایا کہ اس سے منہ میں بو ہوتی ہے۔
۴؎اس تمام مشورہ کا مقصد یہ تھا کہ اس بہانہ سے حضور کو بی بی زینب کے پاس زیادہ ٹھہرنے سے روکا جائے خیال رہے کہ جس گناہ کی بنیاد محبت رسول پر ہو اس سے توبہ نصیب ہوجاتی ہے۔دیکھو آدم علیہ السلام کا بیٹا قابیل ایک عورت کے عشق میں گناہ کا مرتکب ہوا اسے توبہ نصیب نہ ہوئی اور یعقوب علیہ السلام کے دس بیٹوں نے بڑے سخت گناہ کیے مگر محبت یعقوبی حاصل کرنے کےلیے انہیں توبہ نصیب ہوگئی مقبول بارگاہ بھی ہوگئے ان دونوں بیبیوں کی یہ ساری تدبیریں حضور کی محبت میں تھیں اس لیے رب تعالٰی نے انہیں قرآن کریم میں توبہ کا حکم دیا کہ فرمایا:"اِنۡ تَتُوۡبَاۤ اِلَی اللہِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوۡبُکُمَا"پھر یہ بیبیاں پہلے کی طرح مقبول بارگاہ الٰہی رہیں اب ان پر زبان طعن کھولنا بدنصیبی ہے۔
۵؎وہ ہی عرض کیا جو پہلے مشورہ میں طے ہوچکا تھا۔خیال رہے کہ ہم تمام صحابہ کرام کو متقی عادل مانتے ہیں معصوم نہیں مانتے یعنی ان بزرگوں سے گناہ سرزد ہوسکتے ہیں مگر ان میں سے کوئی گناہ پر قائم نہیں رہتے،ایسے ہی یہاں ہوتا،گناہ کرلینا اور ہے گناہ پر جم جانا کچھ اور۔
۶؎یعنی اے بیوی تم پر اس عرض میں کوئی تنگی و مضائقہ نہیں ہم تمہارا مقصد سمجھ گئے۔(مرقات)
۷؎تاکہ تم کو تکلیف نہ ہو ہمارے ہاں زیادہ ٹھہرنے سے تم کو دکھ ہوتا ہے اس قسم کی وجہ یہ نہ تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے منہ شریف کی خوشبو کی خبر نہ تھی ہر شخص اپنے منہ اور بغل کی خوشبو جانتا ہے یہ عیب نہیں بلکہ وہ وجہ تھی جو آگے آرہی ہے۔
۸؎اس قسم فرمالینے کی خبر کسی کو نہ دینا تاکہ بی بی زینب کو اس قسم کھالینے پر صدمہ نہ ہو۔(مرقات)اس لیے کہ دوسری ازواج کو اس خوشبو کی خبر نہ ہو،خوشبو تو بغیر خبر دیئے ہی معلوم ہوجاتی ہے اس چھپانے سے مقصود حضرت زینب کی خاطر داری ہے۔
۹؎یہ ہے اس قسم فرمانے کی وجہ یعنی اس قسم کی وجہ اپنی بے علمی نہیں بلکہ حضرت عائشہ صدیقہ و حفصہ کو خوش کرنا مقصود تھا کہ ہم حضرت زینب کے پاس زیادہ نہ ٹھہرا کریں گے تاکہ یہ خوش رہیں قرآن کریم بھی فرماتاہے:"تَبْتَغِیۡ مَرْضَاتَ اَزْوٰجِکَ"آپ اپنی بیویوں کی رضا چاہتے ہیں اور کیوں نہ چاہیں ان بیویوں کی رضا تو رب تعالٰی بھی چاہتا ہے رضی اللہ عنہما۔
۱۰؎بعض لوگ اس واقعہ سے اس پر دلیل پکڑتے ہیں کہ حضور کو علم غیب نہ تھا اگر ہوتا تو آپ کو پتہ چل جاتا کہ ہمارے منہ شریف سے مغافیر کی مہک نہیں آرہی ہے یہ محض غلط ہے کہ قرآن کریم کے بھی خلاف ہے اور اس حدیث کے بھی یہ سب کچھ ان دونوں ازواج کو راضی کرنے کے لیے ہوا اپنے منہ کی مہک غیب نہیں ہوتی محسوس ہوتی ہے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3278