Main Icon

باب:خلع اور طلاق کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3278

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْكُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، وَشَرِبَ عِنْدَهَا عَسَلًا، فَتَوَاصَيْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ أَنَّ أَيَّتَنَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْتَقُلْ: إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ، أَكَلْتَ مَغَافِيرَ؟ فَدَخَلَ عَلَى إِحْدَاهُمَا، فَقَالَتْ لَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ: "لَا بَأْسَ، شَرِبْتُ عَسَلًا عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ،فَلَنْ أَعُودَ لَهُ، وَقَدْ حَلَفْتُ؛ لَا تُخْبِرِي بِذَلِكِ أَحَدًا" يَبْتَغِي مَرْضَاةَ أَزْوَاجِهِ فَنَزَلَتْ: يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ تَبْتَغِي مَرْضَاتَ أَزْوَاجِكَ الآيَة .مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن عائشة: أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يمكث عند زينب بنت جحش، وشرب عندها عسلا، فتواصيت أنا وحفصة أن أيتنا دخل عليها النبي صلى الله عليه وسلم فلتقل: إني أجد منك ريح مغافير، أكلت مغافير؟ فدخل على إحداهما، فقالت له ذلك، فقال: "لا بأس، شربت عسلا عند زينب بنت جحش،فلن أعود له، وقد حلفت؛ لا تخبري بذلك أحدا" يبتغي مرضاة أزواجه فنزلت: ياأيها النبي لم تحرم ما أحل الله لك تبتغي مرضات أزواجك الآية .متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت زینب بنت جحش کے پاس کچھ ٹھہرتے تھے اور ان کے پاس شہد پیتے تھے ۱؎تو میں نے اور حفصہ نے آپس میں مشورہ کیا ۲؎کہ ہم میں سے جس کے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں تو وہ کہہ دیں کہ میں آپ سے مغافیر کی بوپاتی ہوں ۳؎کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے ۴؎چنانچہ ان دونوں بیویوں میں سے ایک کے پاس حضور تشریف لائے تو انہوں نے عرض کیا ۵؎تو فرمایا کوئی مضائقہ نہیں۶؎ہم نے زینب بنت جحش کے پاس شہد پیا ہے اب نہ پئیں گے اور ہم نے اس کی قسم کھائی ۷؎اس کی خبر کسی کو نہ دینا۸؎آپ اپنی بیویوں کی رضا چاہتے تھے ۹؎تب یہ آیت اتری اے نبی آپ وہ چیز کیوں حرام کرتے ہیں جو انے آپ کے لیے حلال کی اپنی بیویوں کی مرضی تلاش کرتے ہو ۱۰؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی باری کے علاوہ جب سرکار بعدنماز عصر تمام ازواج پاک کے پاس دورہ فرماتے تو بی بی زینب کے پاس زیادہ ٹھہرتے تھے کیونکہ حضور کو شہد پسند تھا اور حضرت زینب کے پاس شہد ہوتا تھا وہ آپ کو پلاتی تھیں اس شہد پینے میں دیر لگتی تھی۔
۲
؎یہ مشورہ اس لیے تھا کہ ہم کو حضور کا زینب کے پاس زیادہ ٹھہرنا پسند نہ تھا۔
۳
؎مغافیرجمع ہےمغفورکی یامغفرکی یہ ایک درخت خار دار کا پھل ہے جسے عربی میںعضاہکہتے ہیں جیسے عرفط یہ پھل میٹھا ہوتا ہے مگر قدرے بو ہوتی ہے(ہیک)حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو منہ کی بو بہت ناپسند تھی اسی لیے حضور نے کبھی کچا لہسن و پیاز نہ کھایا کہ اس سے منہ میں بو ہوتی ہے۔
۴
؎اس تمام مشورہ کا مقصد یہ تھا کہ اس بہانہ سے حضور کو بی بی زینب کے پاس زیادہ ٹھہرنے سے روکا جائے خیال رہے کہ جس گناہ کی بنیاد محبت رسول پر ہو اس سے توبہ نصیب ہوجاتی ہے۔دیکھو آدم علیہ السلام کا بیٹا قابیل ایک عورت کے عشق میں گناہ کا مرتکب ہوا اسے توبہ نصیب نہ ہوئی اور یعقوب علیہ السلام کے دس بیٹوں نے بڑے سخت گناہ کیے مگر محبت یعقوبی حاصل کرنے کےلیے انہیں توبہ نصیب ہوگئی مقبول بارگاہ بھی ہوگئے ان دونوں بیبیوں کی یہ ساری تدبیریں حضور کی محبت میں تھیں اس لیے رب تعالٰی نے انہیں قرآن کریم میں توبہ کا حکم دیا کہ فرمایا:"اِنۡ تَتُوۡبَاۤ اِلَی اللہِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوۡبُکُمَا"پھر یہ بیبیاں پہلے کی طرح مقبول بارگاہ الٰہی رہیں اب ان پر زبان طعن کھولنا بدنصیبی ہے۔
۵
؎وہ ہی عرض کیا جو پہلے مشورہ میں طے ہوچکا تھا۔خیال رہے کہ ہم تمام صحابہ کرام کو متقی عادل مانتے ہیں معصوم نہیں مانتے یعنی ان بزرگوں سے گناہ سرزد ہوسکتے ہیں مگر ان میں سے کوئی گناہ پر قائم نہیں رہتے،ایسے ہی یہاں ہوتا،گناہ کرلینا اور ہے گناہ پر جم جانا کچھ اور۔
۶
؎یعنی اے بیوی تم پر اس عرض میں کوئی تنگی و مضائقہ نہیں ہم تمہارا مقصد سمجھ گئے۔(مرقات)
۷
؎تاکہ تم کو تکلیف نہ ہو ہمارے ہاں زیادہ ٹھہرنے سے تم کو دکھ ہوتا ہے اس قسم کی وجہ یہ نہ تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے منہ شریف کی خوشبو کی خبر نہ تھی ہر شخص اپنے منہ اور بغل کی خوشبو جانتا ہے یہ عیب نہیں بلکہ وہ وجہ تھی جو آگے آرہی ہے۔
۸
؎اس قسم فرمالینے کی خبر کسی کو نہ دینا تاکہ بی بی زینب کو اس قسم کھالینے پر صدمہ نہ ہو۔(مرقات)اس لیے کہ دوسری ازواج کو اس خوشبو کی خبر نہ ہو،خوشبو تو بغیر خبر دیئے ہی معلوم ہوجاتی ہے اس چھپانے سے مقصود حضرت زینب کی خاطر داری ہے۔
۹
؎یہ ہے اس قسم فرمانے کی وجہ یعنی اس قسم کی وجہ اپنی بے علمی نہیں بلکہ حضرت عائشہ صدیقہ و حفصہ کو خوش کرنا مقصود تھا کہ ہم حضرت زینب کے پاس زیادہ نہ ٹھہرا کریں گے تاکہ یہ خوش رہیں قرآن کریم بھی فرماتاہے:"تَبْتَغِیۡ مَرْضَاتَ اَزْوٰجِکَ"آپ اپنی بیویوں کی رضا چاہتے ہیں اور کیوں نہ چاہیں ان بیویوں کی رضا تو رب تعالٰی بھی چاہتا ہے رضی اللہ عنہما۔
۱۰
؎بعض لوگ اس واقعہ سے اس پر دلیل پکڑتے ہیں کہ حضور کو علم غیب نہ تھا اگر ہوتا تو آپ کو پتہ چل جاتا کہ ہمارے منہ شریف سے مغافیر کی مہک نہیں آرہی ہے یہ محض غلط ہے کہ قرآن کریم کے بھی خلاف ہے اور اس حدیث کے بھی یہ سب کچھ ان دونوں ازواج کو راضی کرنے کے لیے ہوا اپنے منہ کی مہک غیب نہیں ہوتی محسوس ہوتی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3278