Main Icon

باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 919

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلٰى قَالَ: لَقِيَنِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ فَقَالَ أَلَا أُهْدِي لَكَ هَدِيَّةً سَمِعْتُهَا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ بَلٰی فَأَهْدِهَا لِي فَقَالَ سَأَلْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللهِ كَيْفَ الصَّلَاةُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ فَإِنَّ اللهَ قَدْ عَلَّمَنَا كَيْفَ نُسَلِّمُ عَلَيْكَ قَالَ: «قُولُوا اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلَی ال مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰی إِبْرَاهِيمَ وَعَلَی ال إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ اَللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلٰی إِبْرَاهِيمَ وَعَلٰی اٰلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّك حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ» . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) إِلَّا أَنَّ مُسْلِمًا لَمْ يَذْكُرْ عَلٰی إِبْرَاهِيمَ فِي الْمَوْضِعِيْنِ.

وعن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال: لقيني كعب بن عجرة فقال ألا أهدي لك هدية سمعتها من النبي صلى الله عليه وسلم فقلت بلی فأهدها لي فقال سألنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلنا يا رسول الله كيف الصلاة عليكم أهل البيت فإن الله قد علمنا كيف نسلم عليك قال: «قولوا اللهم صل علی محمد وعلی ال محمد كما صليت علی إبراهيم وعلی ال إبراهيم إنك حميد مجيد اللهم بارك علی محمد وعلی ال محمد كما باركت علی إبراهيم وعلی ال إبراهيم إنك حميد مجيد» . (متفق عليه) إلا أن مسلما لم يذكر علی إبراهيم في الموضعين.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدالرحمن ابن ابی لیلی سے ۱؎فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت کعب ابن عجرہ ملے ۲؎تو بولے کہ کیا میں تمہیں وہ ہدیہ نہ دوں جو میں نے نبی صلی الله علیہ وسلم سے سنا ہے میں نے کہا ہاں وہ ہدیہ مجھے ضرور دیں ۳؎تو فرمایا کہ ہم نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے پوچھا عرض کیا یارسول الله آپ کے اہل بیت پر دورد کیا ہے الله نے یہ تو ہمیں سکھا دیا کہ آپ پر سلام کیسے عرض کریں ۴؎فرمایا یوں کہو اے الله محمد اور آل محمد پر رحمتیں بھیج ۵؎جیسے حضرت ابراہیم اور آل ابراہیم پر رحمتیں کیں بے شک تو حمد و بزرگی والا ہے ۶؎اے الله حضور محمد و آل محمد پر ایسی ہی برکتیں بھیج جیسی برکتیں حضرت ابراہیم و آل ابراہیم پر اتاریں ۷؎بے شک تو حمد و بزرگی والا ہے ۸؎(مسلم و بخاری) مگر مسلم نے دونوں جگہعلیٰ ابراھیمکا ذکر نہ کیا۔

شرح حدیث

۱∞؎آپ انصاری ہیں، تابعی ہیں، مدنی ہیں، ایک سو بیس صحابہ سے ملاقات کی، خلافت فاروقی میں عمر فاروق کی شہادت سے چھ سال پہلے پیدا ہوئے، آپ کے والد صحابی ہیں، غزوہ احد میں حضور صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔
۲
؎آپ صحابی ہیں، بیعت رضوان میں موجود تھے، کوفہ میں قیام رہا،۷۵ سال عمر ہوئی،۵۱ھ ∞ میں مدینہ منورہ میں انتقال کیا۔
۳
؎معلوم ہوا کہ صحابہ کرام حضور کی احادیث کو پیش قیمت ہدیہ اور بے بہا اسلامی تحفہ سمجھتے تھے اور نعمتلَایَزَالسمجھ کر اسے سنتے سناتے تھے۔
۴
؎یعنی جب آیت کریمہ:"یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَیۡہِ وَ سَلِّمُوۡا تَسْلِیۡمًا" اتری تو ہم نے حضور صلی الله علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ رب نے ہم کو صلوۃ و سلام کا حکم دیا ہمیںالتحیاتمیں آپ کو سلام کرنا تو آگیا مگر صلوۃ کیسے عرض کریں۔ خیال رہے کہ یہاں سلام سے مرادالتحیاتکا سلام ہے اسی لیے مسلم شریف نے اس حدیث کے لیے یہ باب مقرر کیا "بَابُ کَیْفِ الصَّلوٰۃِ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الصَّلوٰۃِ" معلوم ہوتا ہے کہ حضور نے ارشاد فرمایا تھا کہ ہم پر اور ہمارے اہل بیت پر درود بھیجو تب صحابہ نے یہ سوال کیا۔
۵
؎آل اہل سے بنا بمعنی والا جیسے"وَ اِذْ نَجَّیۡنٰکُمۡ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ" یا حضور کی بیویاں ہیں، قرآن کریم نے بیویوں کو اھل بیت فرمایا ہے"فَقَالَ لِاَھۡلِہِ امْکُثُوۡۤایا حضور کی ساری اولاد ہے یعنی آپ کے چاروں بیٹے اور چاروں بیٹیاں اور تا قیامت فاطمہ زہرا کی نسل یا تمام بنی ہاشم جن پر زکوۃ لینا حرام ہے صحیح یہ ہے کہ حضور کی ساری ازواج اور اولاد آپ کی آل ہے۔ اس کی تحقیق ہماری کتاب "شانِ حبیب الرحمان" اور "فہرست القرآن" دیکھو۔
۶
؎یہاں تشبیہ شہرت کی بنا پر ہے ورنہ حضور اور حضور کی صلوۃ ابراہیم علیہ السلام اور ان کی صلوۃ سے افضل ہے، چونکہ ابراہیم علیہ السلام نے ہمارے حضور کے لیے دعائیں مانگیں"رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیۡہِمْ رَسُوۡلًا" اس کے شکر یئے میں ہم لوگ ہر نماز میں ابراہیم علیہ السلام کے لیے دعائیں دیتے ہیں۔
۷
؎یعنی جیسی عزت اور بزرگی ابراہیم علیہ السلام کو دی ایسی ہمارے حضور کو بھی دے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں ہزار ہا انبیاء ہوئے تو حضور کی اولاد میں لاکھوں اولیاء الله ہوں۔
۸
؎خیال رہے کہ یہ درود ابراہیمی ہے نماز میں صرف یہی پڑھا جائے گا اور درود نہیں مگر نماز کے علاوہ یہ درود غیر مکمل ہوگا کیونکہ اس میں سلام نہیں اور قرآن کریم نے صلوۃ و سلام دونوں کا حکم دیا لہذا خارج نماز وہ درود پڑھو جس میں صلوۃ و سلام دونوں ہوں، نماز میں چونکہالتحیاتمیں سلام آچکا ہے اس لیے یہاں سلام نہ آنا مضر نہیں ہے۔ بعض لوگ اس حدیث کی بناء پر کہتے ہیں کہ درود ابراہیمی کے سوا اور کوئی درود جائز نہیں مگر یہ غلط ہے کیونکہ تمام صحابہ، محدثین، فقہاء یوں کہتے ہیں"قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ"یہ درود ابراہیمی کے علاوہ ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 919